Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 669)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 669)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہاکے قد کی کوتاہی کو خاص انداز میں ذکر کیا تو آنحضرتﷺ نے فرمایا: یہ کلمہ ایسا خراب ہے کہ اگر اس کو جسم کی صورت دے کر سمندر میں گھول دیا جائے تو سمندر کو بھی گدلا کر کے رکھ دے اور اس کے موجودہ رنگ وبو اور مزہ کو بدل ڈالے، حضور اقدسﷺ کا یہ ارشاد ہمارے لیے کس قدر باعث عبرت ہے ہر شخص غور کرے، کتنے انسانوں کے اعضائے جسم میں اب تک کیڑے ڈالے ہیں اور کتنے لوگوں کی چال ڈھال کو عیب دار بتایا ہے۔

 یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے تو لنگڑ ے کو لنگڑا کہا ہے اور بہرے کو بہرہ بتایا ہے اور اندھے کو اندھا کہہ کر بلایا ہے اور یہ بات حقیقت اور واقعہ کے خلاف نہیں ہے،جھوٹ ہوتا تو قابل گرفت ہوتا مگریہ حیلہ شرعاً بے معنی ہے، پہلے گزرچکا ہے کہ گناہ کا مدارنا گواری پر ہے بات کے جھوٹا سچا ہونے پر نہیں ہے۔ دیکھو! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ عنہا نے جو قدچھوٹا بتایا ہے غلط بات نہ تھی، پھر بھی حضوراقدسﷺ نے اس پر تنبیہ فرمائی۔

بندوں کی تعریف کرنے کے احکام

حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضورﷺ کے سامنے ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کردی اس پر آپﷺ نے ناگواری کا اظہار فرماتے ہوئے تین بار ارشاد فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہے تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی( پھر فرمایا)کہ جس کو کسی کی تعریف کرنی ہو تو یوں کہے :فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں اور اللہ اس کا حساب لینے والا ہے اور یہ بھی اس وقت ہے جبکہ اس کو واقعتا ایسا سمجھتا ہو( پھر فرمایا) اور اللہ کے ذمہ رکھ کر کسی کا تزکیہ نہ کرے۔( مشکوٰۃ المصابیح: ص ۴۱۲ از بخاری ومسلم)

اگر کسی کی تعریف میں کچھ کلمات کہے تو اس کے سامنے نہ کہے،کیونکہ اندیشہ ہے کہ اس کے دل میں خود پسندی اور بڑائی آجائے، جب ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی تو حضوراقدسﷺ نے اس کو تنبیہ فرمائی اور فرمایا کہ تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ،یعنی اس کے سامنے تعریف کر کے اس کو غرور اور خود پسندی میں ڈالنے کا انتظام کردیا، پھر یہ اس صورت میں ہے جبکہ تعریف سچی ہو،اگر جھوٹی تعریف ہو تو اس کی گنجائش بالکل نہیں کیونکہ وہ تو گناہ عظیم ہے، پھر دوسری تنبیہ یہ فرمائی کہ اگر کسی کی تعریف کرنی ہی ہے( اس میں آگے پیچھے کا کوئی فرق نہیں) تو یوں کہے کہ میں تو فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں اور صحیح صورت حال اللہ کو معلوم ہے وہی اس کا حساب لینے والا ہے، ان کلمات کے کہنے سے اول تو وہ شخص نہیں پھولے گا جس کی تعریف میں یہ الفاظ کہے اور اس میں تعریف کرنے والے کی طرف سے اس کا دعویٰ بھی نہ ہوگا کہ وہ واقعتا ایسا ہی ہے، کیونکہ بندہ صرف ظاہر کو جانتا ہے اور پورے کمالات اور حالات ظاہری ہوں یا باطنی ان سب کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور آخرت میں ہر شخص کس حال میں ہوگا اس کو بھی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ،لہٰذا یقین کے ساتھ کسی کو یہ کہنا کہ وہ ایسا ایسا ہے اس میں پورے حالات سے واقف ہونے کا دعویٰ ہے جب اللہ پاک کی جانب سے اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں دی گئی تو پختہ یقین اور جزم کے ساتھ یہ کہہ دینا کہ ایسا ایسا ہے گویا اللہ کے ذمہ یہ بات لگا دینا ہے کہ اللہ کے نزدیک بھی یہ شخص ایسا ہی ہے جیسا میں بتا رہا ہوں، اسی کو فرمایا:ولایزکی علی اللّٰہ احداً یعنی اللہ کے ذمہ رکھ کر کسی کا تزکیہ نہ کرے۔

فاسق اور کافر کی تعریف

یہ جو کچھ بیان ہوا اچھے بندے کی تعریف اور سچے بندوں کی تعریف میں بیان ہوا اور جھوٹی تعریف اور کافر و فاسق کی تعریف کی تو اسلام میں کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا :جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو پروردگار عالم جلّ مجدہٗ غصہ ہوتے ہیں اور اللہ کا عرش حرکت کرنے لگتا ہے۔(بیہقی)

عرش کا حرکت کرنا اللہ تعالیٰ کی ہیبت و عظمت کی وجہ سے ہے جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہے اس کی تعریف کرنا ایک بہت ہی بری چیز ہے، جس کے سامنے اللہ کی عظمت نہیں ہوتی وہی ان لوگوں کی تعریف کرتاہے جس سے اللہ تعالیٰ شانہ ناراض ہے، عر ش الہٰی کو یہ تعریف ناگوار ہے اس لیے وہ حرکت میں آجاتاہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor