Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 670)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 670)

کافروں اور فاسقوں کی تعریف بہت بڑا اور بہت برا مرض ہے، شاعروں کا کام ہی یہ ہے کہ آسمان و زمین کے قلابے ملایا کریں اور جھوٹی تعریفیں کرکے روٹی حاصل کیا کریں اور دنیائے سیاست میں بھی یہی ہوتا ہے کہ جس کو لیڈر بنالیا وہ چاہے کا فر ہوچاہے بہت بڑا فاسق فاجر ہو، اس کی تعریف اور توصیف کرنے کو فرض کا درجہ دیتے ہیں۔ اول تو ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے صالح بندوں کو اپنا مقتداء بنائے اور ان کے ساتھ چلے اور ان کی نگرانی کرتا رہے کہ شریعت کے مطابق کہاں تک چل رہے ہیں، کافروں اور فاسقوں کو مقتداء بنانا ہی گناہ ہے اور کافروں اور فاسقوں کی تعریف تو اور زیادہ گناہگاری کی بات ہے۔ الیکشن کے موقع میں تو اپنے لیڈر اور اپنی جماعت کے لوگوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور جسے جتانا مقصود ہو اس کی جھوٹی سچی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں خواہ وہ کیسا ہی فاسق فاجر ہو اور اس کے برعکس دوسرے فریق کا امیدوار خواہ کیسا ہی نیک صالح ہو، مجمعوںمیں اور جلسوں میں اور کانفرنسوں میں اس کی غیبتیں کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور تہمتیں رکھتے ہیں اور ناکردہ گناہ اس کے ذمہ عائد کرتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ان تعریفوں اور مذمتوں کا انجام آخرت میں کیا ہے، یہ زبان کی لگائی ہوئی کھیتیاں جب کاٹنی پڑیں گی اور انجام بھگتنا ہوگا تو کیا ہوگا خوب غور و فکر کرنے کی بات ہے۔

جھوٹی قسم اور جھوٹی گواہی کا وبال

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت اقدسﷺ نے کہ بڑے بڑے گناہ یہ ہیں:

۱۔اللہ کے ساتھ شرک کرنا

۲۔ماں باپ کو ستانا

۳۔کسی جان کو قتل کرنا اور

۴۔جھوٹی قسم کھانا (مشکوٰۃ: ص ۱۷از بخاری)

کبیرہ گناہ تو بہت سے ہیں، لیکن اس حدیث میں چند ایسے گناہ ذکر فرمائے جو بہت بڑے ہیںاور جن میں عام طور سے لوگ مبتلا رہتے ہیں چونکہ اس موقع پر ہم زبان کی آفتیں ذکر کررہے ہیں اس لیے حدیث میں جھوٹی قسم کی مناسبت سے یہ حدیث یہاں نقل کی ہے۔

اللہ کے ساتھ شریک کرنا تو سب سے بڑا گناہ ہے جس کی کبھی بخشش نہیں ہے اس کو تو سب مسلمان جانتے ہیں والدین کی نافرمانی اور ان کو ستانا اور تکلیف دینا بھی بڑے گناہوں میں ہے اور اس حدیث میں اس کو شرک کے بعد ذکر فرمایا ہے جس سے اس کی قباحت خوب ظاہر ہو رہی ہے اور اس بارے میں ہم اس کتاب میں تفصیل سے لکھ بھی چکے ہیں اور ایک مستقل رسالہ بھی’’حقوق الوالدین‘‘ کے نام سے لکھا ہے اور جھوٹی قسم کے بارے میں ہم یہاں لکھنا چاہتے ہیں۔

 جھوٹی قسم کا تعلق گذشتہ زمانہ کے واقعات سے ہوتا ہے جو کوئی واقعہ نہ ہوا ہو اس کے بارے میں کہہ دیا کہ ایسا ہوا اور اس پر قسم کھالی اور کسی نے کوئی کام نہیں کیا اس کے بارے میں کہہ دیا کہ اس نے ایسا کیا ہے اور اس پر قسم کھالی، اس طرح اپنے کسی فعل کے کرنے یا نہ کرنے پر جھوٹی قسم کھالی ،یہ بہت بڑا گناہ ہے، اول تو جھوٹ پھر اوپر سے جھوٹی قسم یعنی اللہ کے نام کو جھوٹ کے لیے استعمال کرنا گناہ درگناہ ہوجاتا ہے۔ بہت سے مرد اور عورتیں جھوٹی قسم سے بالکل پرہیز نہیں کرتے، بات بات میں قسم کھاتے چلتے جاتے ہیں اور اس کا گنا ہ اور وبال جو دنیا اور آخرت میں ہے اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔

عورتوں میں تیری میری برائی کرنے کی عادت ہوتی ہے، خواہ مخواہ لڑائی جھگڑوں میں اپنے آپ کو پھنساتی ہیں، تیرے میرے بارے میں کچھ نہ کچھ کہہ دیتی ہیں جب کوئی موقع آتا ہے تو مکر جاتی ہیں اور صاف انکار کر دیتی ہیں کہ میں نے نہیں کہا اور اس پر قسم بھی کھا جاتی ہیں، بہت سے لوگ مال بیچتے وقت جھوٹی قسم کھا جاتے ہیں کہ یہ اتنے کالیا ہے اور اتنے کا پڑا ہے اور بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی چیز کے بارے میں جھوٹی قسم کھا جاتے ہیں کہ یہ میری ہے حالانکہ اپنی نہیں ہوتی ، یہ سب باتیں اس لیے سرزد ہوتی ہیں کہ آخرت کی پیشی کا خیال نہیں ہوتا۔

فرمایا حضور اقدسﷺ نے: جس کسی شخص نے اللہ کی قسم کھائی اور اس میں مچھر کے پر کے برابر( ذراسی بات غلط) داخل کردی تو یہ قسم اس کے دل میں ایک سیاہ دھبہ بن جائے گی جو قیامت تک رہے گا۔( ترمذی)

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor