Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 679)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 679)

مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کے علاج کے لیے محرم کوتلاش کریں، اگر کوئی محرم معالج نہ ملے تو غیر محرم سے بھی علاج کر اسکتے ہیں۔

علاج کے لیے ستر کھولنے کے احکام:

لیکن اس میں شریعت کے ایک اہم اصول الضرورۃ تتقدر بقدر الضرورۃ کا خیال رکھنا لازم ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مجبوراً جتنے بدن کا دیکھنا ضروری ہے، معالج بس اسی قدر دیکھ سکتا ہے مثلاً علاج کے لیے نبض دیکھنے اور حال کہنے سے کام چل سکتا ہے تو اس سے زیادہ دیکھنے یاہاتھ لگانے کی اجازت نہ ہوگی، اسی طرح اگر بازو میں یاپنڈلی میں زخم ہے تو جتنی جگہ بدرجہ مجبوری دیکھنے کی ضرورت ہو بس اس قدر معالج دیکھ سکتا ہے۔اگر علاج کی مجبوری کے لیے آنکھ، ناک ،دانت دیکھنا ہے تو اس صورت میںپورا چہرہ کھولنا جائز نہیں۔ جس قدر دیکھنے سے کام چل سکتا ہو بس اسی قدر دکھا سکتے ہیں،بلکہ ایسے معالج کے لیے بھی یہی تفصیل ہے جو عورت کا محرم ہو اور وجہ اس کی یہ ہے کہ محرم کے لیے بھی اپنی محرم عورت کا پورا بدن دیکھنا جائز نہیں ہے کیونکہ عورت کو اپنے محرم کے سامنے پیٹ اور پیٹھ اور ران کھولنا منع ہے، پس اگر پیٹ یا پیٹھ میں زخم ہو تو حکیم ڈاکٹر خواہ محرم ہو یا نامحرم صرف زخم کی جگہ دیکھ سکتا ہے، اس سے زیادہ دکھانا گناہ ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ پرانا کپڑا پہن کر زخم کے اوپر کا حصہ کاٹ دیا جائے تاکہ پیٹ یاپیٹھ کے بقیہ حصہ پر اس کی نظر نہ پڑے، اور چونکہ عورت کو ناف سے لے کر گھٹنوں کے ختم تک کسی عورت کے سامنے بھی کھولنا ناجائز ہے اس لیے اگر لیڈی ڈاکٹر کو مثلا ً ران یا سرین کا پھوڑا وغیرہ دکھانا مقصود ہو تو اس صورت میں کپڑا کاٹ کر صرف پھوڑے کی جگہ دکھائی جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یادرکھنا ضروری ہے کہ ضرورت کے لیے حکیم ڈاکٹر کو جگہ دکھائی جائے تو حاضرین میں جو عزیز و اقارب موجود ہوں ان کو اس جگہ کے دیکھنے کی اجازت نہیں ہے، ہاں اگر حاضرین میں سے کوئی شخص ایسا ہے جسے شرعاً اس جگہ کا دیکھنا جائز ہے تووہ اس پابندی سے خارج ہے مثلاً اگر پنڈلی میں زخم ہے اور وہ ڈاکٹر یا جراح کو دکھانا ہے اور عورت کاباپ یا حقیقی بھائی بھی وہاں موجود ہے اس نے اگر دیکھ لیا تو گناہ نہ ہوگا کیونکہ پنڈلی کا کھولنا محر م کے سامنے درست ہے۔

 فائدہ:یہ تفصیل جو ابھی ابھی ذکر کی گئی ہے مرد کے علاج کے سلسلہ میں بھی ہے کیونکہ ناف سے لے کر گھٹنے تک مرد کا مرد سے بھی پردہ ہے، اگر ران یاسرین کا زخم کسی ڈاکٹر کو دکھانا ہے یا کولہے میں کسی مجبوری سے انجکشن لگوانا ہے تو صرف ڈاکٹربقدر ضرورت دیکھ سکتا ہے، دوسرے لوگوں کو دیکھنا حرام ہے۔

 مسئلہ:زمانہ حمل وغیرہ میں اگر دائی سے پیٹ ملوانا ہو تو ناف سے نیچے کا بدن کھولنا درست نہیں ہے، چادر وغیرہ ڈال لینی چاہئے، بلا ضرورت کوئی جگہ دائی کو بھی دکھانا جائز نہیں۔

ولادت کے موقع پر بے احتیاطی:

بچہ پیدا ہونے کے وقت دائی اورنرس کو صرف بقدر ضرورت پیدائش کی جگہ دیکھنا جائز ہے، اس سے زیادہ دیکھنا منع ہے اور آس پاس جوعورتیں موجودہوں اگرچہ ماں بہنیں ہی ہوں ان کوبھی دیکھنا منع ہے، کیونکہ اس کا دیکھنا بلا ضرورت ہے، لہٰذا ان کو نظرڈالنے کی اجازت نہیں، یہ جو دستور ہے کہ عورت کو ننگا کر کے ڈال دیتے ہیں اور سب عورتیں دیکھتی رہتی ہیں یہ حرام ہے۔

 مسئلہ:اگر غیر مسلم دائی یانرس بچہ پیداکرانے کے لیے بلائی جائے تو اس کے سامنے سرکھولنا حرام ہوگا، کیونکہ کافر عورت کے سامنے مسلمان عورت صرف منہ اور پہنچوں تک دونوں ہاتھ اور ٹخنوں سے نیچے دونوں پیر کھول سکتی ہے، ان کے علاوہ ایک بال کا کھولنا بھی درست نہیں، غیر مسلم عورتیں بھنگن ، دھوبن، نرس، لیڈی ڈاکٹر وغیرہ جوبھی ہوں ان سب کے متعلق یہی حکم ہے۔

بعض جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں یہ رواج ہے کہ بجائے دائیوں کے مرد ڈاکٹروں سے بچہ جنواتے ہیں، جبکہ اپنی ہم جنس کو بھی اپنی جنس کے ستر کی طرف بھی بلاضرورت نظر ڈالنا ممنوع ہے تو غیر جنس کے لیے کیسے جائز ہوسکتا ہے اور غیر جنس میں بھی جتنابُعد ہوتا جائے گا اتناہی ممانعت اور حرمت میں تشدد بڑھتا جائے گا،مسلمان عورت کی ہم جنس قریب مسلمان عورت ہے، اول بوقت ضرورت اس کو اختیار کیا جائے ، اس کے بعد کافر عورت ہے، اس کے بعد ڈاکٹر کی اگر ضرورت ہی آپڑے تو مسلمان ڈاکٹر کو اختیار کیا جائے وہ بھی نہ ہو تو کافر کی طرف رجوع کیا جائے نہ یہ کہ اولاً ہی کافر مرد کے پاس لے جائیں یا اس کو بلائیں یہ سخت بے حیائی اور گناہ اور تقلیدبے جا ہے اور بچہ کی پیدائش کرانے کے لیے ڈاکٹر اورنرس کا ضروری ہونا قابل تسلیم نہیں ہے کیونکہ جب تک یہ رواج شروع نہ ہوا تھا، تب بھی برابر بچے ہوتے تھے اور اب بھی جن خاندانوں میں غیرت اور حمیت ہے ان میں برابر بچے ہوتے ہیں اور دائیاں پردہ کے ساتھ سب کام کرتی ہیں۔

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor