Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 680)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 680)

تنبیہ:بعض عورتیں منہار سے چوڑیاں پہنتی ہیں جس کی وجہ سے اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینا پڑتا ہے، یہ گناہ ہے چونکہ ایسا کرنے کی کوئی مجبوری نہیں ہے اس لیے اس سے پرہیز کرنا لازم ہے۔

سسرال والے مردوں سے پردہ کی سخت تاکید

حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:( نامحرم) عورتوں کے پاس مت جایا کرو، ایک شخص نے عرض کیا:یارسول اللہ !عورت کو سسرال کے مردوں کے متعلق کیا حکم ہے؟آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا: سسرال کے رشتہ دار تو موت ہیں۔(مشکوٰۃ ص ۲۶۸از بخاری و مسلم)

اس حدیث میں جو سب سے زیادہ قابل توجہ چیز ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے عورت کی سسرال کے مردوں کو موت سے تشبیہ دی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے جیٹھ اوردیور اور نندوئی وغیرہ سے اور اسی طرح سسرال کے دوسرے مردوں سے گہرا پردہ کرے، یوں تو ہر نا محرم سے پردہ کرنا لازم ہے لیکن جیٹھ، دیور اور ان کے رشتہ داروں کے سامنے آنے سے اس طرح بچنا ضروری ہے جیسے موت سے بچنے کو ضروری خیال کرتے ہیں اورو جہ اس کی یہ ہے کہ ان لوگوں کو اپنا سمجھ کر اندر بلالیا جاتا ہے اور بلا تکلف جیٹھ، دیور اور شوہر کے عزیز واقارب اندر چلے جاتے ہیں اور بہت زیادہ اختلاط کی وجہ سے ہنسی، دل لگی تک کی نوبتیں آجاتی  ہیں،شوہریہ سمجھتا ہے کہ یہ تواپنے لوگ ہیں ان سے کیا روک ٹوک کی جائے ، لیکن جب دونوں طرف سے یگانگت کے جذبات ہوں اور کثرت سے آناجانا اور شوہر گھر سے غائب ہوتو پھر اَن ہونے واقعات تک رونما ہوجاتے ہیں۔ ایک پڑوسی کسی عورت کو اتنی جلدی اغوا نہیں کر سکتا جتنی جلدی اور بآسانی دیور یاجیٹھ اپنی بھابھی کواغواء کرنے یابے حیائی کے کام پر آمادہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

 انہی حالات کے پیش نظر آنحضرتﷺ نے سسرال کے مردوںسے بچنے اور پردہ کرنے کی سخت تاکید فرمادی ہے اور ان لوگوں کو موت بتاکریہ بتادیا ہے کہ ان سے ایسا پرہیز کرو جیساموت سے بچتی ہو اور مردوں کو بھی حکم ہے اپنی بھاوج اور سالے وغیرہ کی بیوی سے اختلاط نہ رکھیں اور نظر نہ ڈالیں۔

بعض عورتیںاپنے دیور کوچھوٹی عمر میں پرورش کرتی ہیں اورجب وہ بڑا ہوجاتا ہے تو اس سے پردہ کرنے کوبرا سمجھتی ہیں اوراگر مسئلہ بتایاجاتاہے کہ یہ نامحرم ہے توکہتی ہیں کہ اس کو ہم نے چھوٹا ساپالا ہے، رات دن ساتھ رہا ہے اس سے کیا پردہ… یہ بڑے گناہ کی بات ہے کہ آدمی گناہ بھی کرے اور شریعت کے مقابلہ میں کٹ حجتی پر اُتر آئے،رسول اللہ ﷺ تودیور کو موت بتائیں اور جہالت کی ماری عورتیں اس کے سامنے آنے کو ضروری سمجھیں، یہ کیا مسلمانی ہے؟

تنبیہ:پردہ حق شرع ہے، شوہر کا حق نہیں ہے۔ بہت سی عورتیں سمجھتی ہیں کہ شوہر جس سے پردہ کرائے اس سے پردہ کیاجائے اور شوہر جس کے سامنے آنے کو کہے اس کے سامنے آجائیں یہ سراسر غلط ہے، شوہر ہو یا کوئی دوسرا شخص اس کے کہنے سے گناہ کرنے کی اجازت نہیں ہوجاتی ، خوب سمجھ لو۔

نابینا سے پردہ کرنے کا حکم

اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہم دونوں رسول اللہﷺ کے پاس تھیں کہ اچانک عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سامنے سے آگئے اور رسول اللہﷺ کے پاس آنے لگے( چونکہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نابینا تھے، اس لیے ہم دونوں نے ان سے پردہ کرنے کاارادہ نہیں کیا اور اسی طرح اپنی جگہ بیٹھی رہیں) رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ان سے پردہ کرو، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! کیا وہ نابینا نہیں ہیں؟ ہم کو تو وہ نہیں دیکھ رہے ہیں۔ اس کے جواب میں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم دونوں ( بھی) نابینا ہو؟کیا تم ان کو نہیں دیکھ رہی ہو؟(مشکوٰۃ ص ۲۶۹ازاحمد وترمذی و ابودائود)

اس حدیث سے معلوم ہواکہ عورتیں بھی جہاں تک ممکن ہوسکے مردوں پر نظر نہ ڈالیں،حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نابینا تھے، پاکبازصحابی تھے ، حضور اقدس ﷺ کی دونوں بیویاں نہایت پاک دامن تھیں، اس کے باوجود بھی آپﷺ نے دونوں بیویوں کو حکم دیا کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پردہ کریں ،یعنی ان پر نظر نہ ڈالیں۔

دیکھو! جہاں بدنظری کا ذرابھی احتمال نہ تھا وہاں اس قدر سختی فرمائی گئی تو آج کل کی عورتوں کے لیے اس امر کی کیونکر اجازت ہو سکتی ہے کہ مردوں کو جھانکا تاکا کریں۔ یوں اگر کوئی عورت کسی مجبوری سے سفر میں نکلی اورراستہ چلتے ہوئے بلا اختیار راہ گیروں پر نظر پڑگئی تو وہ دوسری بات ہے ، لیکن قصداًوار ادتاً مردوں پر نظر ڈالنا منع ہے، سورئہ نور کی آیت پہلے گزرچکی ہے جس میں مردوں اورعورتوں کو نظریں پست کرنے کا حکم فرمایا ہے۔

اسی سے بیاہ شادی کی اس قبیح رسم کی ممانعت بھی معلوم ہوئی کہ جب دولہا دولہن کولے کر رخصت ہونے لگتا ہے تو اس کو سلامی کے لیے گھر کے اندر بلایاجاتا ہے اورجوعورتیں کنبہ کی یاپاس پڑوس کی یامہمانی میں دور دراز سے آنے والی موجود ہوتی ہیں سب دولہا کو دیکھتی ہیں اور سالیاں اس سے مذاق کرتی ہیں، کوئی اس کا جوتا چھپاتی ہے اور کوئی اس کے منہ پر چونا لگاتی ہے، اس طرح عورتوں کے بھرے مجمع میں ایک غیر محرم مرد کاآجاناجوجوانی سے بھرپور ہے اوربہترین لباس و پوشاک پہنے ہوئے ہے کسی طرح درست نہیں، خصوصاً جبکہ عورتوں کا مقصدبھی دولہا کو دیکھنا ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ سلامی کی مجلس بر خواست ہونے کے بعد عورتیں بڑی بے باکی سے دولہا کی شکل و صورت پر تبصرہ کرتی ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor