Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 682)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 682)

شریعت کے نزدیک یہ سخت منع ہے، مرد عورت دونوں کے لیے حکم برابر ہے کہ نامحرم کے ساتھ تنہائی میں رات نہ گزاریں، حدیث میں خصوصیت سے مرد کو اس لیے خطاب فرمایا کہ مرد طاقتور ہوتا ہے، اگر وہ تنہائی میں کسی نامحرم عورت کے پاس پہنچ جائے تو عورت اس کو ہٹانے سے عاجز ہوگی، لہٰذا خطاب کا رخ مرد کی طرف رکھا گیا کہ غیر عورت کے پاس رات نہ گزارے، اگر کوئی مرد اس حکم کی خلاف ورزی کرے تو عورت پر لازم ہے وہاں سے چل دے اور اس مرد کوتنہا چھوڑ دے،حدیث میں لا یبیتن رجل عند امراۃ ثیب ثیب بیوہ عورت کو کہتے ہیں، جس کا شوہر نہ ہواس کو بھی ثیب کہتے ہیں اس عموم میں بیوہ بھی آگئی اور کنواری بھی اور مطلقہ بھی۔

علامہ نووی رحمہ اللہ تعالیٰ شرح صحیح مسلم میں کہتے ہیں کہ ثیب کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لیے فرمایا کہ نکاح کی خواہش رکھنے والے یا خراب خیال والے لوگ بیوہ کو بے ٹھکانا سمجھ کر اس کے پاس آنا جانا رکھنا چاہتے ہیں اور کنواری لڑکی کے پاس بے محابا جانے کی جرأت بھی نہیں کرتے اور وہ خود بھی اپنے کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے اور گھر والے بھی اس کی حفاظت کا خیال رکھتے ہیں، اس کے بعد علامہ موصوفؒ لکھتے ہیں کہ جب ثیب کے پاس غیر محرم کو رات گزارنے کی ممانعت ہے حالانکہ اس کے پاس آنے جانے میں تساہل برتاجاتا ہے، تو کنواری عورت کے پاس نامحرم کو رات گذارنا بطریق اولیٰ منع ہوا۔

مرد کا مرد سے عورت کا عورت سے کتنا پردہ ہے؟

حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی مرد کسی مرد کی شرمگاہ کو نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کی شرمگاہ کو دیکھے اور نہ ننگے ہوکر دومرد ایک کپڑے میں لیٹیں اور نہ عورتیںایک کپڑے میںننگی ہوکر لیٹیں۔( مشکوٰۃؒ ص ۲۶۸ازمسلم)

اس حدیث سے معلوم ہواکہ جس طرح عورت کا مرد سے پردہ ہے اسی طرح عورت کا عورت سے اور مرد کا مرد سے بھی پردہ ہے، لیکن پردوں میں تفصیل ہے، ناف سے لے کر گھٹنوں کے ختم تک کسی بھی مرد کو کسی مرد کی طرف دیکھنا حلال نہیں ہے، بہت سے لوگ آپس میں زیادہ دوستی ہوجانے پر پردہ کی جگہ ایک دوسرے کو بلا تکلف دکھا دیتے ہیں، یہ سراسر حرام ہے۔ اسی طرح عورت کو عورت کے سامنے ناف سے لے کر گھٹنوں کے ختم تک دکھانا حرام ہے اور کافر عورت کے سامنے منہ اور گٹے تک ہاتھ اور ٹخنے تک پیر کے علاوہ جسم کا کوئی حصہ یا کوئی بال کھولنا بھی درست نہیں ،بچہ پیدا ہونے کے چند روزبعد جب زچہ کو غسل کرایاجاتا ہے تو گھر کی سب عورتیں اس کو ننگی کرکے نہلاتی ہیںاور رانیں وغیرہ سب دیکھتی ہیں، یہ بہت بڑی بے غیرتی ہے اور حرام ہے۔

مسئلہ:جتنی جگہ میں نظرکا پردہ ہے اتنی جگہ کو چھونابھی درست نہیں ہے ،چاہے کپڑے کے اندر ہاتھ ڈال کر ہی کیوں نہ ہو، مثلاً کسی بھی مرد کویہ جائز نہیں کہ کسی مرد کے ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے حصہ کو ہاتھ لگائے۔ اسی طرح کوئی عورت کسی عورت کے ناف سے نیچے کے حصہ کو گھٹنوں کے ختم تک ہاتھ نہیں لگا سکتی۔ اسی وجہ سے حدیث بالا میں دو مردوں کو ایک کپڑے میں ننگے ہوکر لیٹنے کی ممانعت فرمائی ہے اور یہی ممانعت عورتوں کے لیے بھی ہے یعنی دو عورتیں ایک کپڑے میں ننگی ہو کر نہ لیٹیں۔

شوہر کے سامنے دوسری عورت کا حال بیان کرنے کی ممانعت

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ ہم مجلس ہونے کے بعد اپنے شوہر کے سامنے اس دوسری عورت کا پورا پورا حال( ناک، نقشہ اور حسن وجمال وغیرہ کا) اس طرح بیان نہ کرے کہ جیسے وہ اس عورت کو دیکھ رہاہے۔( مشکوٰۃ شریف :ص ۲۶۸ از بخاری و مسلم)

مطلب یہ ہے کہ اپنے شوہر کے سامنے کسی بات کے سلسلہ میں یوں ہی اگر کسی عورت کا ذکر آ جائے تو اس حدتک مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے سامنے عورت کاپورا پورا حال اس طرح بیان نہ کرے کہ جسے سن کر اس عورت کے حسن و جمال اور خدوخال کا نقشہ اس کے ذہن میں آجائے، کسی عورت کے احوال کاایسا صاف اور واضح بیان اپنے مرد کے سامنے کرنا بھی ایک طرح کی بے پردگی ہے، جیسے کسی کو آنکھ سے دیکھ کر طبیعت مائل ہوجاتی ہے ایسے ہی بغیردیکھے حسن وجمال کا حال سن کردل میں اُمنگ پیدا ہوتی ہے اور دیکھنے اور ملاقات کرنے کو دل چاہنے لگتا ہے، لہٰذا اس طرح کے تذکرہ سے منع فرمایااور اس میں بیان کرنے والی کے نقصان کا بھی اندیشہ ہے، کیونکہ اپنا شوہر اگر اس عورت کے حاصل کرنے کے چکر میں پڑگیا توپچھتائے گی۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor