Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 683)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 683)

نامحرم عورتوں سے مصافحہ کرنے کی ممانعت

حضرت اُمیمہ رضی اللہ عنہاکابیان ہے کہ میں اورچند دیگر عورتیں رسول اللہﷺکی خدمت میں بیعت اسلام کے لیے حاضر ہوئیں ،عورتوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے ان شرطوں پر بیعت ہوتی ہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کوشریک نہ کریں گی اور نہ چوری نہ کریں گی اور زنانہ کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی اور کوئی بہتان کی اولاد نہ لادیں گی، جسے اپنے ہاتھوں اورپائوں کے درمیان ڈالیں( اوراپنے شوہر کی اولاد بتائیں) اور نیک کام میں آپ ﷺ کی نافرمانی نہ کریں گی۔ یہ سن کر آنحضرتﷺ نے فرمایا: اوریہ کہہ لو کہ ہم اپنی طاقت کے مطابق پورا عمل کریں گی، یہ سن کر ان عورتوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہم پر اس سے زیادہ مہربان ہیں جتنا ہم اپنے نفسوں پر رحم کرتی ہیں، اس کے بعد ان عورتوں نے عرض کیا( یا رسول اللہ!زبانی اقرار توہم نے کر ہی لیاہے، لائیے(ہاتھ میں ہاتھ دے کر بھی) آپﷺ سے بیعت کرلیں، یہ سن کر حضورﷺ نے فرمایا: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا( جو میں نے زبان سے کہہ دیا سب کے لیے لازم ہوگیا اور الگ الگ بیعت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ) سو عورتوں سے ( بھی ) میرا وہی کہنا ہے جو ایک عورت سے کہنا ہے۔( مؤطا امام مالک مع او جز المسالک ص ۴۴۹ج۶)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مومن عورتوں میں سے جس نے ان شرطوں کا اقرار کرلیا( جن کا گذشتہ حدیث میں اور سورئہ الممتحنہ میں ذکر ہے) تو اس کو حضور اقدسﷺ نے زبانی فرمادیا کہ میں نے تجھے بیعت کرلیا کیونکہ ہاتھ میں ہاتھ لے آپﷺ عورتوںکو بیعت نہ فرماتے تھے،خدا کی قسم!آنحضرتﷺ کے ہاتھ نے بیعت کرتے وقت ( بھی) کسی عورت کاہاتھ نہ چھوا،آپﷺ عورتوں کو صرف زبانی بیعت فرماتے تھے۔ آپﷺ کاارشاد ہوتا قد بایعتک میں نے تجھے بیعت کرلیا۔( صحیح بخاری ص ۷۲۶ج۲)

ان دونوں حدیثوں سے واضح طور پرمعلوم ہوا کہ ہادی عالم محمدرسول اللہﷺ نے کبھی کسی عورت کا ہاتھ بیعت کے سلسلہ میں نہیں چھوا، جب کسی عورت نے بیعت کے لیے عرض کیا آپﷺ نے ارشاد فرما دیاکہ جائو میں تم کوبیعت کرلیا، جب چند عورتوں نے اکٹھے ہو کر بیعت کی درخواست کی تو آنحضرتﷺ نے فرمادیا :انی لا اصافح النساء یعنی میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا کرتا۔

 اس کے بعد فرما دیا کہ سو عورتوں سے میرا وہی کہنا ہے جو ایک عورت سے کہنا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرنے ہی سے بیعت نہیں ہوتی بلکہ زبانی کہہ دینا بھی کافی ہے، پس جب کہ زبانی بیعت سے کام چل سکتا ہے تو غیرمحرم عورتوں کاہاتھ کیوں ہاتھ میںلیا جائے۔

اب ذراہم اپنے زمانہ کے نام نہاد پیروں اور جاہل مرشدوں کی بدحالی کا بھی جائزہ لیں، یہ پیری کے جھوٹے مدعی مریدنیوں میں بے حجابانہ پردہ کے اہتمام کے بغیریوں ہی گھس جاتے ہیں اور مرید کرتے وقت ہاتھ میں ہاتھ بھی لیتے ہیں، جس کی وجہ سے عموماً ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں جن کا پیش آجانا بے پردگی اوربے شرمی کے بعد ضروری ہوجاتا ہے، بھلا ایسے فاسق لوگ اس لائق ہو سکتے ہیں کہ کوئی مسلمان ان سے مرید ہو؟ہرگزنہیں۔

تنبیہ:جومرد وعورت آپس میں محرم ہو ایک دوسرے کے ان اعضاء جسم کو چھو بھی سکتے ہیں جن کوشرعاً دیکھنا درست ہو اور آپس میں مصافحہ کر سکتے ہیں، بشرطیکہ طرفین میں سے کسی کے متعلق شہوت کا اندیشہ نہ ہواور غیر محرم عورت سے مصافحہ کرنا درست نہیں ہے، اگر چہ بلاشہوت ہو ۔یورپ وامریکہ کے طریقہ پر حکام کے طبقہ میں یاگریجویٹ قسم کے لوگوں میں جو یہ دستور ہے کہ دعوتوں اور پارٹیوں میں اپنی بیویوں کو ساتھ لے جاتے ہیں اوردوسروں کی عورتوں سے خود مصافحہ کرتے ہیں اور اپنی عورتوں سے نامحرموں کا مصافحہ کراتے ہیں یہ حرام ہے، اسلام کے احکام سب کے لیے ہیں، حاکم ہو یا محکوم ،امیر ہو یا غریب، گورا ہو یا کالا، دیسی ہو یا پردیسی البتہ بہت بوڑھی سے مصافحہ کرنے کی گنجائش ہے،بشرطیکہ شہوت کااندیشہ نہ ہو اور نفس پراطمینان ہو۔

 بہت بوڑھی عورت جو ذرا بھی محل رغبت نہ رہی ہو، اس کو صرف چہرہ اوردونوں پہنچوں تک ہاتھ کھول کر غیر محرم کے سامنے آنے کی اجازت ہے، لیکن اس سے بھی پرہیز کرے تو بہتر ہے۔

 سورئہ نور میں ارشاد ہے:

او ر بڑی بوڑھی عورتیں( جو بڑھاپے کے باعث حیض سے اور اولاد کے جننے سے )بیٹھ چکی ہیں جن کو کسی کے نکاح میں آنے کی کوئی امید نہ رہی ہوان کواس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ اپنے( زائد) کپڑے( غیر محرم کے سامنے) اتاررکھیں (جن سے چہرہ چھپا رہتا ہے، بشرطیکہ اظہار زینت کا خیال نہ ہو اور اس سے بھی احتیاط رکھیں توان کے لیے زیادہ بہتر ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

 اس آیت میں بوڑھی کھوسٹ عورت کو نامحرم کے سامنے چہرہ کھولنے کی اجازت دینے کے باوجود یہ فرمایا ہے کہ پرہیزکریں تو بہتر ہے، پس جوعورت ذرا بھی محل رغبت ہو اس کے لیے چہرہ کھول کر غیر محرم کے سامنے جانے کی کیونکر گنجائش ہو سکتی ہے جبکہ اس کو نامحرموں کے سامنے چہرہ ڈھانکنے کا مستقل حکم بھی ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor