Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 684)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 684)

حماموں اور تالابوں میں غسل کرنے کے احکام

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس پر لازم ہے کہ بغیر تہبند کے حما م میں داخل نہ ہواور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اپنی بیوی کو حمام میں داخل نہ کرے اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو کسی ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور چل رہا ہو۔ ( مشکوٰۃ: ص ۳۸۴ازترمذی و نسائی)

جو قومیں نبی اکرمﷺ کی ہدایت سے محروم ہیں، حیاء و شرم سے خالی ہیں، انسان کا نفس شرم و حیا کی پابندی سے بچتا ہے،اس لیے جو دین حق کے پابند نہیں ہوتے شرم و حیا سے بھی آزاد ہوتے ہیں، مل جل کر مردوں اور عورتوں کا نہانا اور پردہ کا اہتمام نہ کرنا جاہلیت کی تہذیب قدیم میں بھی تھا اوراب تہذیب جدید میں بھی ہے، حجاز سے باہر عہد نبوت میں ایسے حماموں کا رواج تھا، جن میں مردوعورت بغیر کسی پردہ اور شرم کے اکٹھے ہوکرنہایا کرتے تھے اوریہ ان کے رواج اورسماج میں داخل تھا، حضور اقدسﷺ نے اول تو مردوں اور عورتوں کو ایسے حمام میں غسل کرنے سے منع فرمایا، پھر بعد میں مردوں کو تہبند باندھ کر نہانے کی اجازت دی( لیکن یہ اجازت اس شرط سے ہے کہ کسی دوسرے مرد کا ستر نہ دیکھے اور کسی عورت پر نظر نہ ڈالے )اور عورتوں کے لیے ان حماموں میں نہانے کی ممانعت علی حالہٖ باقی رہی، کیونکہ پورے کپڑے پہن کر بھی عورت غسل کر ے گی تب بھی مردوں کی نظریں اس کی طرف اُٹھیں گی، بھیگا ہوا کپڑا بدن پر اس طرح چپک جاتا ہے کہ اجزاء بدن کو الگ الگ ظاہر کرتا ہے، اس حالت میں اگر مردوں کی نظرعورت پر پڑے گی تو مزید کشش کا باعث بنے گی،ترغیب و ترہیب کی ایک روایت میں ہے کہ تہبند اورکرتہ اور دوپٹہ پہن کر بھی عورت کو مذکورہ بالا حماموں میں غسل کرنے کی ممانعت فرمائی۔

ہمارے اس زمانہ میں کلب بنانے اور اس کا ممبر بننے کارواج ہے، انہی کلبوں میں بعض کلب نہانے کے اور بعض تیرنے کے بنائے جاتے ہیں۔مردو عورت لڑکے لڑکیاں اکٹھے مل کر نہاتے اور تیرتے ہیں اور تیرا کی کے مقابلے ہوتے ہیں، مردوں اور عورتوں کے ننگے جسموں کی بے پردگی ہوتی ہے، یہ اختلاط نظر فریبی اور عشق بازی پر آمادہ کرتا ہے، اس طرح کے کلب یورپ کے بے شرموں کی ایجاد ہیں، مگر افسوس ہے کہ مسلمانی کا دعویٰ کرنے والے بھی اس طرح کلبوں کے ممبر بننے کو بڑا کارنامہ سمجھنے لگتے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

 اگر کوئی کلب ایسا ہو جس میں صرف مردہی نہاتے ہوں تب بھی اس کا لحاظ رکھنا لازم ہے کہ کوئی مرد کسی مرد کاستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک نہ دیکھے، اسی طرح سے کشتیوں کے اکھاڑوں اور فٹ بال وغیرہ کے میچوں میں ناف سے لے کر گھٹنوں کے ختم تک کے کسی حصہ کو کسی کے سامنے کھولنا یا کسی کے ستر کا کوئی حصہ دیکھنا سخت ممنوع ہے۔ افسوس ہے کہ کشتی کے مقابلوں میں، کرکٹ و فٹ بال وغیرہ کے میچوں میں بڑے بڑے دینداری کے دعوے دار اس مسئلہ کوبھول جاتے ہیں اور ستر دیکھنے دکھانے کو ذراعیب نہیں سمجھتے۔

حضور اقدسﷺنے ایک شخص کو دیکھا کہ کھلے میدان میں غسل کررہا ہے( اس کے بعض اعضاء وغیرہ کھلے ہوئے تھے) اسے دیکھ کر آنحضرتﷺ منبر پر تشریف لے گئے اور اللہ پاک کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ شرم و الاہے اور پردہ کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا تم میں سے جب کوئی شخص غسل کرے تو پردہ میں کیا کرے۔( ابو دائود شریف)

جن ملکوں اورعلاقوں( مثلاً بنگال ،آسام وغیرہ) میں تالابوں میں غسل کرنے کا رواج ہے، وہاں تالابوں پر بہت بے پردگی ہوتی ہے اور ان علاقوں میں بہت ہی بدترین رواج ہے کہ مرد وعورت اکٹھے تالاب میں نہاتے ہیںاور کپڑے دھوتے ہیں، جس کی وجہ سے عورتوں کا سر اور سینہ اور پنڈلیا ں اور کمر اور پیٹ مرد دیکھتے ہیں حالانکہ یہ دیکھنا اور دکھانا حرام ہے، بعض قوموں اور خاندانوں میں یہ دستور ہے کہ عورت کی جہاں عمر ڈھلی بس اس نے صرف ساڑھی سے کام چلانا شروع کردیا، کرتہ، قمیص یابلائوزوغیرہ بالکل ندارد، بے تکے طریقے پر آدھی پنڈلیوں تک ساڑھی لپیٹ لی اور کچھ حصہ سر پر ڈال لیا، پیٹ کمر، سینہ ،آدھی آدھی پنڈلیاں اور اکثر سر بھی کھلا رہتا ہے۔ مدراس ،بہار بنگال، آسام وغیرہ میں سفر کیا جائے تو ریلوں میں اس طرح کی عورتیں بہت ملیں گی ان میں مسلمان عورتیں بھی ہوتی ہیں،ننگار ہنا تو ان لوگوں کاشعار ہے جوفخر عالم سیدنا محمد رسول اللہﷺ کی تعلیم سے محروم ہیں، مسلمانوں کو ہر بات میں اپنے دین پر قائم رہنا لازم ہے۔

 اسلام تو ہرگز بے غیرتی اور بے پردگی کو روا نہیں رکھتا، پردہ کے احکام بوڑھی عورتوں کے لیے بھی ہیں، بس اتنا سافرق ہے کہ جو زیادہ بوڑھی عورت ہو صرف منہ اور ہتھیلی اور ٹخنے تک پائوں نامحرم کے سامنے کھول سکتی ہے،سر،کمر ،پیٹ اور پنڈلی نامحرم کے سامنے بوڑھی عورت کے لیے بھی کھولنا حرام ہے۔

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor