Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 686)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 686)

چونکہ احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ تھوڑے بہت سفر کے لیے بھی عورت بغیر محرم یا شوہر کے نہ جائے اس لیے دنیاوی سفر ہو یا دینی سفر جو فرض نہ ہواس کے لئے تین دن تین رات کے سفر سے کم کے لیے عورت کوبھی بغیر محرم کے جانے سے روکنا چاہئے۔

اورسفر حج اگر تین منزل سے کم ہو تو حج فرض کے لیے بغیر محرم کے جانے سے شوہر کوروکنے کا حق نہ ہوگا۔

جیسا کہ کتب فقہ میں لکھا ہے اور محرم وہ ہے جس کے ساتھ کبھی بھی کسی حال میں نکاح درست نہ ہو، خواہ نسب کے رشتہ سے ہو خواہ دودھ کے رشتہ سے یا مصاہرت کے رشتہ سے اورشوہر کے ساتھ بھی سفر کرنا درست ہے۔

 کتاب الترغیب و الترہیب میں بحوالہ بخاری وغیرہ حضوراقدسﷺ کا ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ جو عورت اللہ پر اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ ایسا کوئی سفر کرے جو تین دن یا اس سے زیادہ کا ہو الّایہ کہ اس کے ساتھ اس کاباپ ہو یا اس کا بھائی ہو یا شوہر ہو یا بیٹا ہو یا( کوئی دوسرا)محرم ہو۔( ص ۷۱ ج۴ ترہیب المرأۃ ان تسافروحدھا بغیر محرم)

اور واضح رہے کہ ماموں ،پھوپھی، چچا، خالہ ان سب کے بیٹے محرم نہیں ہیں، نہ ان کے ساتھ سفر میں جانا درست ہے، نہ ان کے سامنے بے پردہ ہوکر آنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح جس لڑکے کوبیٹا بنا کر پال لیا ہو وہ بھی محرم نہیں ہے،بڑا ہونے کے بعد اس کے سامنے بھی بے پردہ ہوکر آنا جائز نہیں ہے اور اس کے ساتھ سفر کرنا بھی درست نہیں ہے۔

 بہت سے لوگ اپنے کوسالی کا محرم سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ جب تک اس کی بہن ہمارے نکاح میں ہے چونکہ اس وقت تک اس سے نکاح درست نہیں ہے اس لیے ہم اس کے محرم ہیں، ان لوگوں کا یہ خیال باطل ہے کیونکہ شریعت کے نزدیک محرم صرف وہی ہے جس سے کبھی بھی نکاح درست نہ ہو،خواہ وہ کنواری ہو خواہ بیوہ ہو، خواہ مطلقہ ہو خواہ کسی کے نکاح میں ہو، ان جاہلوں کی تشریح کے مطابق محرم کی تعریف کی جائے تو دنیا بھر کے مردوں کی بیویاں ہر شخص کی محرم ہوجائیں گی۔

الغرض محرم کی یہ تشریح بالکل جاہلانہ ہے جس کے ذریعہ سالی کو محرم بنارہے ہیں، سفر میں چونکہ بہت سے حوادث اور عوارض پیش آجاتے ہیں اس لیے شریعت مطہرہ نے بغیر محرم یا بغیر شوہر کے سفر کرنے کی پابندی عورتوں پر لگائی ہے، جس میں بہت سی مصلحتیں اور حکمتیں ہیں۔ محرم یا شوہر کے ساتھ ہونے میں عورت کی جان ،مال، عصمت و عفت کی حفاظت ہے،لیکن اگر محرم فاسق وفاجر ہو یعنی اس سے عصمت و عفت کی حفاظت کے ختم ہوجانے کا اندیشہ ہو تو اس کے ساتھ بھی سفر کرنادرست نہیں ہے، حج کے بیان میں بھی یہ مسائل گزرچکے ہیں ۔

 عورتیں راستوں کے درمیان نہ چلیں

حضرت ابواُسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ مسجد سے باہر تشریف لارہے تھے اور مردو عورت وہاں سے گزررہے تھے، راستہ میں مرد وعورت ( اس طرح سے ) مل گئے( کہ سب اکٹھے گزرنے لگے اورعورتیں ایک طرف نہیں تھیں، گو عورتیں پردہ میں تھیں مگر راستہ کے درمیان مردوں کے مجمع میں جارہی تھیں) یہ ماجرا دیکھ کر نبیﷺ نے فرمایا: اے عورتو! پیچھے ہٹو، تم کو راستہ کے بیچ میں چلنے کی اجازت نہیں ہے، تم راستہ کے کناروں پر ہو کر گزرو ۔ راوی کہتے ہیں اس ارشاد کے بعد عورتیں راستہ کے کناروں میں ایسے طریقہ پر گزرتی تھیں کہ راستہ کے دائیں بائیں جو کوئی دیوار ہوتی تھی، اس سے چپکی جاتی تھیں یہاں تک کہ ان کا کپڑا دیوار میں اٹکنے لگتا تھا۔(مشکوٰۃ: ص ۴۰۵ ازابو دائودبیہقی)

اس حدیث میں بھی عورتوں کو مردوں سے دور رہنے کی تاکید فرمائی ہے، اگر عورت کو کسی مجبوری کی وجہ سے گھر سے نکلنا ہوتو خوب زیادہ پردہ کا اہتمام کرے اور پردہ کے اہتمام کے ساتھ نکلنے کی صورت بھی خوشبو بھی لگا کر نہ نکلے اور جب راستہ میں گزرے تو راستہ کے درمیان نہ چلے بلکہ راستہ کا درمیانی حصہ مردوں کے لیے چھوڑے اور خود راستہ کے درمیان سے ہٹ کر کناروں پرچلے ۔

 یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آنحضرتﷺ نے عورتوں کو اس کا حکم دیا کہ مردوں سے بچ کر اور کنارے ہوکر چلیں ، لہٰذا عورتوں کا یہ جذبہ ہونا کہ ہم جیسے چاہیں گے، مردوں کو ہٹنا ہے تو ہٹ جائیں گے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor