Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 687)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 687)

حیاء اورایمان لازم وملزوم ہیں

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ حیاء اور ایمان دونوں ساتھی ہیں، پس جب ان دونوں میں سے ایک اُٹھایا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھالیا جاتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح: ص۴۳۲ از بیہقی)

حیاء مومن بندوں کی خاص صفت ہے، جو قومیں حضور اقدسﷺ کی تعلیم سے دور رہیں، حیاء اور شرم سے ان کو کچھ واسطہ نہیں۔ حیاء اور ایمان دونوں لازم و ملزوم ہیں یا تو دونوں رہیں گے یا دونوں رخصت ہو جائیں گے، بے پردگی اور اس کے لوازم اور دواعی سب کے سب اہل کفر کی دیکھا دیکھی نام نہاد مسلمانوں کے ماحول میں رواج پاگئے ہیں اور وہی لوگ مسلمان عورتوں کو پردے سے نکال کربے حیائی کے پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جو حضور اقدسﷺ کے اتباع سے زیادہ نصاریٰ کے احوال و عادات کو اپنائے ہوئے ہیں، ایسے لوگ بڑی مشکل میں ہیں ان کا دل تو یہ چاہتا ہے کہ بلاخوف آزادی اور بے حیائی کے ساتھ مسلمانوں کی بہو بیٹیوں کو بازاروں اور پارکوں میں عریانی کے لباس میں دیکھیں، لیکن ساتھ ہی قرآن و حدیث کی تعلیمات کو غلط کہنے کی ہمت بھی نہیں ، نہ یوں کہتے بنتا ہے کہ ہم اسلام کو چھوڑ چکے ہیں اور نہ عورتوں کو پردہ میں دیکھنا گوارہ کرتے ہیں۔ جو لوگ بے پردگی کورواج دینے کی کوشش میں ہیں اور بہو بیٹیوں کو یورپین لیڈیوں کی طرح بے حیا اور بے شرم بناچکے ہیں اوران کے عریاں لباس سے اپنے نفوس کو تسکین دینے کا راستہ نکال چکے ہیں ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جو محض نام کے مسلمان ہیں اور حیاء وشرم کے ساتھ ایمان کی دولت بھی کھو چکے ہیں اوربہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی درجے میں اسلام سے چپکے ہوئے ہیں، مگر تقلید یورپ کا مزاج اور بے حیائی اور بے شرمی کی طبیعت آہستہ آہستہ ان کواسلام سے ہٹاتی جارہی ہے، آنحضرتﷺنے جو فرمایا کہ حیا ء اور ایمان دونوں ساتھی ہیں ، ایک اٹھایاجاتا ہے، تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے، یہ ارشاد بالکل حق ہے، تجربہ اس کی گواہی دے رہا ہے۔

 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

ان مما ادرک الناس من کلام النبوۃ الاولیٰ اذا لم تستحی فاصنع ما شئت

یعنی انبیاء سابقین علیہم السلام کی جوباتیں نقل ہوتی چلی آرہی ہیں ، ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ جب تجھ میں شرم نہ رہے تو جوچاہے کر۔(بخاری)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام شرم و حیا ء کی تعلیم دیتے آئے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو قومیں اللہ کے بعض پیغمبروں سے اپنارشتہ جوڑنے کی دعوے دار ہیں اور ساتھ ہی بے شرم اور بے حیاء بھی ہیں وہ اپنے دعوے میں جھوٹی ہیں اور اپنے کفر و شرک اور بے حیائی کی زندگی کے باعث ان نبیوں کی ذات گرامی کے لیے عار ہیں، جن سے اپنی نسبت قائم کرتی ہیں۔ کو ئی بے شرم و بے حیاء کسی بھی نبی کے راستہ پر نہیں ہوسکتا ۔ایک حدیث میں ارشاد ہے:

اربع من سنن المرسلین الحیاء والتعطر والسواک والنکاح

یعنی پیغمبروں کے طرززندگی میں چار چیزیں( بہت اہم ہیں) شرم کرنا، خوشبو لگانا، مسواک کرنا، نکاح کرنا۔ (ترمذی)

اللہ کے محبوب ترین بندے اس کے پیغمبر ہیں ،انہوں نے حیاء اور شرم کی زندگی کو اختیار کیا اور اپنی اپنی امت کو اپنے اپنے زمانہ میں شرم و حیاء کے اختیار کرنے پر آمادہ کیا، جو لوگ بے شرم ہیں اللہ تعالیٰ سے دور ہیں اس کے پیغمبر سے دور ہیں، البتہ کفار فجار سے قریب ہیں، ابلیس لعین کے دوست ہیں۔

 یہ نام نہاد ترقی کازمانہ ہے، اس میں عفت ، عصمت، شرم و حیاء عیب بن کر رہ گئی ہے، یورپ والوں کی تقلید میں نام نہاد مسلمان بھی اس کی رو میں بہہ رہے ہیں، عورت اگر پردہ کرے تواسے سوسائٹی میں شریف نہیں سمجھا جاتا، اگر بے حیاء بنے، چہرہ کھول کر نکلے، ٹیڈی لباس میں اعضائے بدن کو ظاہر کرتی ہوئی بازاروں میں گھومے، مارکیٹ میں سودا خریدے ،سیکڑوں مردوں کے سامنے پارکوں میں بے حجاب ہوکر تفریح کرے تو اسے شریف سمجھاجاتا ہے، استغفر اللہ کیسی الٹی ترقی ہے؟اور کیسی تاریک روشنی ہے؟جس میں انسان انسانیت کی حدود سے نکل گیاہے اورشرافت انسانی انسان کی حرکتوں پر تھو تھو کرنے لگی ہے۔

 چونکہ شوہر بھی نام نہاد ترقی کے خوگر ہیں اس لیے وہ بھی بیویوں کو ان حرکتوں سے نہیں روکتے بلکہ پردہ دار بیویوں کی خود پردہ دری کرتے ہیں اور یاروں دوستوں کی انجمن میں ساتھ لے جاتے ہیں، ان سے مصافحے کراتے  ہیں بلکہ کلبوں میں جا کر نچواتے ہیں۔ ان بے ہودہ لوگوں کے نزدیک ڈانس بھی وہ زیادہ دل پسند ہے جس میں ایک کی بیوی دوسرے کے ساتھ ڈانس کرے، اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ رقص کرنے لگے تو اسے گری ہوئی نظروں سے دیکھا جاتا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔اول تو ڈانس اور و ہ بھی بے حجاب اور غیر مردکے ساتھ، وہ بھی اپنے شوہر کے سامنے! کیسی بے حیائی پر بے حیائی سوار ہے، کیا ایسے لوگ زندہ رہنے کے قابل ہیں؟اور خدا کی نعمتوں کے مستحق ہیں؟

اللہ جلّ شانہٗ ہر قسم کی گمراہی، لادینی اور بے حیائی وبے شرمی سے تمام مسلمانوں کو محفوظ و مامون رکھے ۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor