Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 688)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 688)

لباس اور زیب و زینت کابیان
خواتین کالباس کیساہو؟

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اللہ ان عورتوں پر رحم فرمائے، جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں(مکہ سے مدینہ کو) ہجرت کی ،جب اللہ پاک نے حکم و لیضربن بخمرہن علی جیوبھن نازل فرمایا توانہوں نے اپنی موٹی سے موٹی چادروں کو کاٹ کر دوپٹے بنالیے۔( سنن ابو دائود: ص ۲۱۱ج ۲ باب فی قول اللہ تعالیٰ و لیضربن بخمرھن)

مفسرین لکھتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کا دستور تھا کہ دوپٹوں سے اپنے سروں کو ڈھانک کرباقی دوپٹہ کمر پر ڈال لیتی تھیں، مسلمان عورتوں کو حکم ہوا کہ اپنے دوپٹوں سے سر بھی ڈھانکیں اور گلے اور سینہ پر بھی ڈالے رہا کریں، اس حکم کو سن کر صحابہ عورتوں نے موٹی موٹی چادروں کے دوپٹے بنالیے اور حسب حکم قرآنی اپنے گلوں اور سینوں کوبھی دوپٹوں سے ڈھانکنے لگیں، چونکہ باریک کپڑے سے سر اور بدن کا پردہ نہیں ہو سکتا ہے اس لیے موٹی چادروں کے دوپٹے اختیار کرلیے۔

 آج کل کی عورتیں سرچھپانے کوعیب سمجھنے لگی ہیں اور دوپٹہ اوڑھتی بھی ہیں تو اول تواس قدرباریک ہوتاہے کہ سر کے بال اور مواقع حسن و جمال اس سے پوشیدہ نہیں ہوتے ، دوسرے اس قسم کے کپڑے کادوپٹہ بناتی ہیں کہ سر پر ٹھہرتا ہی نہیں چکنا ہٹ کی وجہ سے بار بار سرکتا ہے اور پردہ کے مقصد کو فوت کردیتا ہے۔

 حضرت دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرمﷺ کی خدمت میں مصر کے باریک کپڑے حاضر کئے گئے ،ان میں سے ایک کپڑاآپ ﷺنے مجھے عنایت فرمایا کہ اس کے دوٹکڑے کر کے ایک سے اپنا کرتہ بنالینا اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دینا جس کا وہ دوپٹہ بنالے گی،وہ کپڑا لے کر جب میں چل دیا تو ارشاد فرمایا کہ اپنی بیوی کو بتادینا کہ اس کے نیچے کوئی کپڑا لگا لے( جس سے اس کی باریکی کی تلافی ہوجائے اور جو اس کے سروغیرہ کوچھپائے رہے) ( ابو دائود)

ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ان کے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی حفصہ پہنچ گئیں، اس وقت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے باریک دوپٹہ اوڑھ رکھاتھا ، اس کو لے کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھاڑ دیا اوراپنے پاس سے ان کو موٹا دوپٹہ اورلگا دیا۔( مؤطا امام مالک)

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ باریک دوپٹہ سے پرہیز کرنا لازم ہے اور اگر بالفرض باریک دوپٹہ اوڑھنا ہی پڑجائے تو اس کے نیچے موتا کپڑا لگالیں تاکہ سر اور دیگر اعضاء نظر نہ آئیں۔

مسلمان عورت کو اسلام نے حیا اور شرم سکھائی ہے نامحرموں سے اختلاط کرنے سے منع فرمایا ہے اور ایسے کپڑے پہننے کی ممانعت فرمائی ہے، جن کا پہننا نہ پہننا برابر ہو اور جن سے پردہ کا مقصد فوت ہوجاتا ہو، عورتیں سروں پر ایسے دوپٹے اوڑھیں جن سے بال چھپ جائیں، گردن اور گلاڈھک جائے اور نامحرموں کا آجانے کا اندیشہ ہو تو موٹے دوپٹوں سے اپنے چہرں کو بھی ڈھانپ لیں، قمیص جمپر اور فراک بھی ایسا پہنیں جن سے بدن نظر نہ آئے ،آستینیں پوری ہوں ،گلے اور گریبان کی کاٹ میں اس کا خیال رکھیں کہ پیچھے اورآگے سینہ کا کچھ بھی حصہ کھلا نہ رہے، شلوار اورساڑھی وغیرہ بھی ایسے کپڑے کی پہنیں جن سے ران، پنڈلی وغیرہ کا کوئی حصہ دکھائی نہ دے۔

مروّجہ لباس کی خرابی:

آج کل ایسے کپڑوں کا رواج ہوگیا کہ کپڑوں کے اندر سے نظر پار ہوجاتی ہے، بہت سے مرد اورعورتوں کو دیکھا گیا ہے کہ ایسے کپڑوں کی شلوار بنا کر پہن لیتے ہیں جن میں پوری ٹانگ نظرآتی ہے، ایسے کپڑے کا پہننانہ پہننا برابر ہے اور اس سے نماز بھی نہیں ہوتی، عموماً عورتیں باریک دوپٹے اوڑھتی ہیںجو چھوٹے سے عرض کے ہوتے ہیں اول تو یہ دوپٹے پورے سر پر نہیں آتے اوراگر ان سے سرکو ڈھانپ بھی لیا تو پردہ کا مقصدپورا نہیں ہوتا اور ان کو اوڑھ کر نما ز بھی نہ ہوئی جبکہ حکم قرآنی و لیضربن بخمرھن علی جیوبھن نازل ہوا تو صحابی عورتوں نے موٹی سے موٹی چادریں کاٹ کر دوپٹے بنالیے لیکن آج کل کی عورتوں کو گرمی کھائے جاتی ہے اور غلط رواج کی وبا ایسی پھیلی ہے کہ جوعورتیں اپنے آپ کو دیندار سمجھتی ہیں وہ بھی باریک دوپٹہ چھوڑنے کوتیار نہیں ،پھر ایسے ہی دوپٹے سے نماز پڑھ لیتی ہیں، حج کوروانہ ہوتی ہیں توبرقعہ جہازمیں اتار کررکھ دیتی ہیں اور اسی باریک دوپٹہ سے جہاز میں بازاروں میں اور حرم شریف میں گھومتی پھرتی ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor