Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 692)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 692)

عورت کو اگر کسی مجبوری سے کہیں جانا ہو تو پردہ کا لحاظ کر کے مردوں سے بچتے ہوئے راستوں کے کنارے سے گزرتے ہوئے جانے کی اجازت دی گئی ہے، خوشبو لگا کر باہر نکلنا اگرچہ برقعہ کے اندر ہو شریعت کے نزدیک اتنی بری بات ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایسا کرنے والی عورتوں کو زنا کا ر فرما دیا، یوں بھی عورت کو تیز خوشبو لگانامنع ہے اگر چہ اپنے گھر کے اندر ہی ہو۔

 خلاصہ یہ کہ عورت کو ہر طرح سے غیر مردوں سے بچ کر رہنا لازم اور ضروری ہے یہاں تک کہ ایسا موقع بھی نہ آنے دے کہ کوئی غیر مرد اس کی خوشبو بھی پا سکے۔

نامحرموں سے گفتگو کا قانون:

حدیث سے معلوم ہوا کہ زبان کا زنا بات کرنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے، اس کے پیش نظر نامحرم مردو عورت کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے، اگر کسی ضرورت اور مجبوری سے بات کرنی پڑے تو بہت مختصر بات کرلیں، ہاں، ناں کا جواب دے کر ختم کرڈالیں، جہاں تک ممکن ہو آواز پست رکھیں اور لہجہ میں کشش پیدا نہ ہونے دیں۔

 صاحب درمختار لکھتے ہیں:

ضرورت کے لئے ہم اس بات کو جائز سمجھتے ہیں کہ عورت نامحرم سے گفتگو یا سوال وجواب کرے لیکن اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ نامحرم سے بات کرتے ہوئے گفتگو لمبی کرتی چلی جائیں یا نرم لہجہ میں بات کریں یا بات میں لچک پیدا کریں، کیونکہ ایسا کرنے سے مردوں کے دل مائل ہوں گے اور ان کی طبیعتوں میں ابھار ہوگا ۔

سورئہ احزاب میں ارشاد ہے:فلا تخضعن فیطمع الذی فی قلبہ مرض وقلن قولا معروفاً

یعنی تم بات کرنے میں نزاکت اختیار نہ کرو، کیونکہ اس سے ایسے شخص کو طبعی میلان ہوگا جس کے دل میں مرض ہے لہٰذا تم مناسب طریقہ پر بات کرو،( جو پاک بازعفت شعار عورتوں کا جانا پہچانا اور برتاہواطریقہ ہے)

مردوں اور عورتوں کی خوشبوؤں میں فرق

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : مردوں کی خوشبو ایسی ہوجس کی خوشبو ظاہر ہو یعنی دوسروں کو بھی پہنچ رہی ہو اور اس کا رنگ پوشیدہ ہو اورعورتوں کی خوشبو ایسی ہو جس کا رنگ نظر آرہا ہو اور خوشبو پوشیدہ ہو( یعنی بہت معمولی خوشبو آرہی ہو) مشکوٰۃ ۳۱۸ازترمذی و نسائی)

اس حدیث میں مردوں اور عورتوں کی خوشبو میں فرق بتایا گیا ہے یعنی مرد ایسی خوشبو لگائیں جس سے کپڑے پر رنگ نہ لگے یا ہلکا سارنگ لگ جائے مگر خوشبو تیز ہو جو دوسروں تک پہنچ رہی ہو، مثلاً عطر گلاب، مشک، عنبر، کافوروغیرہ لگالیں اور عورتوں کی خوشبو ایسی ہو جس کا رنگ کپڑے پر ظاہر ہوجائے مگر خوشبو بہت ہی معمولی ہو جو خود اپنی ناک تک پہنچ سکے یاشوہر قریب ہو تو اس کو خوشبو آجائے، اوپر حدیث میں فرمایا ہے کہ جو عورت خوشبو لگا کر مردوں کی مجلس پر گزرے گی اور لوگوں کو اس کی خوشبو آئے گی تو اس عورت کا یہ عمل زنا میں شمار ہوگا، اس بنا پر تیز خوشبو لگانے سے عورت کو سخت پر ہیز کرنا لازم ہے اور عورت کوتیز خوشبو لگانے کی ضرورت ہی کیا ہے، صرف شوہر سے تعلق ہے اس کو سونگھا دینا کا فی ہے۔

دیکھئے عصمت اور عفت کو محفوظ رکھنے کے لیے سرور عالمﷺ نے کیسے کیسے اصول بتائے ہیں اور کیسی کیسی نصیحتیں کی ہیں، افسوس ہے کہ اس دور کے مسلمان صرف نام کے مسلمان بنے ہوئے ہیں، دشمنان اسلام جو رنگ ڈھنگ اور بے حیائی اختیار کرتے ہیں یہ لوگ بھی ان کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ اللہ کے پاک نبیﷺ کی پیروی چھوڑ کر بے حیائوں کے پیچھے لگ جاناایمان کے دعویداروں کو کہاں تک زیب دیتا ہے؟خود ہی غور کرلیں۔

سونے اور ریشم کی وجہ سے میدان قیامت میں عورتوں کو پریشانی

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے اللہ کی طرف سے یہ منظر دکھایا گیا کہ میں جنت میں داخل ہوا ہوں وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ بلند درجوں والے وہ بے پیسہ والے حضرات ہیں جنہوں نے ( اللہ کی رضا کے لیے) وطن چھوڑ کر ہجرت کی ہے اور اہل ایمان کے بچے بھی اعلیٰ درجات میں ہیں اور جنت میں مال دار اورعورتیں سب سے کم ہیں( یہ دیکھ کر میرے دل میں اس کا سبب معلوم ہونے کا داعیہ پیدا ہوا) چنانچہ مجھے بتایا گیا کہ دروازہ پر مال داروں کا حساب ہورہا ہے اور مال کے سلسلہ میں ان کی چھان بین ہورہی ہے( کہ کہاں سے کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا) لہٰذا وہ یہاں ابھی نہیں پہنچے اور عورتیں یہاں آنے سے اس لیے رہ گئیں کہ ان کو سونے اور ریشم نے( اللہ تعالیٰ سے اور دین و آخرت سے ) غافل رکھا۔( الترغیب و الترہیب ص ۱۰۱ ج ۳ ازابن حبان)

ایک حدیث میں جس کے راوی حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا :جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں اکثر داخل ہونے والے مسکین لوگ ہیں ۔(جن کے پاس دنیا میں مال وزرنہ تھا، جس کے ذریعہ اللہ کوبھول کر گناہوں میں مبتلاہوتے ہیں) اور مال والے حساب دینے کے لیے روک لیے گئے ہیں، البتہ جن مال داروں کو دوزخ میں داخل ہونا ہے ان کے بارے میں دوزخ میں جانے کا حکم مل چکا ہے اور میں دوزخ کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس کے اندر داخل ہونے والوں میں اکثر عورتیں ہیں۔( مشکوٰۃ شریف)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor