Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 693)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 693)

اس حدیث اور اس کے علاوہ اور بھی دوسری حدیثوں سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ دوزخ میں اکثر عورتیں ہوں گی اور اس کے اسباب بھی کئی عددبتائے گئے ہیں جو احادیث میں مذکور ہیں، حدیث بالا میں بتایا ہے کہ عورتوں کے دوزخ میں داخل ہونے کاسبب یہ ہے کہ دنیامیں ان کو سونے اور ریشم نے خدا سے اور احکام شریعت پر عمل پیرا ہونے سے غافل رکھا ہے، درحقیقت عورتوں میں اچھے سے اچھے کپڑے اور عمدہ سے عمدہ زیور کی طلب اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ان دونوں چیزوں کے لیے بہت سے گناہوں میں نہ صرف خود مبتلا ہوتی ہیں بلکہ اپنے شوہروں اوردوسرے عزیزوں کو بھی مبتلا کردیتی ہیں۔ اگر مال حلال ہواور وسعت ہو توزیور پہننا جائز ہے اور عورت کو ریشم کے کپڑے پہننا بھی جائز ہے اور اب تو ریشم کی کوئی حقیقت ہی نہیں اس سے زیادہ بڑھ کر عمدہ اور پسندیدہ کپڑوں کے انواع و اقسام مارکیٹ میں آچکے ہیں، بہر حال قیمتی کپڑوں کا پہننا بھی جائز ہے لیکن اس کے حاصل کرنے کے لیے جو ناجائز طریقے اختیار کئے جاتے ہیں اورزیور اور کپڑوں کے استعمال میں دکھاوا اور خود پسندی اور دوسروں کو حقیر جاننا اوراپنے کو بڑا سمجھنا جو عورتوں میں پایاجاتا ہے اس نے عورتوں کو آخرت کی کامیابی سے پیچھے دھکیل دیا۔

 اول یہ دیکھ لینا چاہئے کہ اپنے پاس ذاتی حلال مال زیوربنانے کے لائق ہے یا نہیں یعنی دوسری جائز ضروریات کے باوجود مال میں گنجائش ہے یا نہیں ،اگر اپنے پاس ذاتی مال نہ ہواور شوہر سے بنوانا ہو یا ماں باپ سے تیار کرانا ہو تو ان کے پاس بھی گنجائش دیکھنا چاہئے لیکن ہوتا یہ ہے کہ پیسہ پاس نہ ہو یا کم ہو تو سود پر رقم لے کر بنوالیتی ہیں، شوہر کے پاس نہیں ہوتا تو اسے مجبور کرتی ہیں کہ کہیں سے رقم لاکر دے اگر وہ نیک آدمی ہے رشوت سے بچتا ہے تو اسے کچو کے دے دے کر مجبورکرتی ہیں کہ رشوت لے اور زیور بنا کر دے، پھر یہ بھی سب عورتیں جانتی ہیں کہ زیور گھر میں ہر وقت نہیں پہنتی ہیں بلکہ اس کی ضرورت بیاہ شادی میں شریک ہونے یااور کسی طرح کی مجلسوں میں جانے کے لیے ہوتی ہے، اس میں چونکہ شان جتانے کے اور دکھاوا کرنے کی نیت ہوتی ہے اس لیے جس شادی میں شریک ہونا ہے یا جس محفل میں جانا ہے اس کی تاریخ آنے تک بنوا کر چھوڑتی ہیں، پھر یہ مصیبت ہے کہ پرانا ڈیزائن نہیں چلتا، معاشرہ میں جس نئے ڈیزائن کے زیور آجائیں اور پرانے ڈیزائن تڑوا کرنئے ڈیزائن کے مطابق بنوانے کی فکر کی جاتی ہے اور اس میں بھی وہی ریاکاری و الانفس کاچور موجودہوتا ہے، کپڑوں کے بارے میں بھی یہی بات ہے کہ کئی جوڑے کپڑے رکھے ہیں لیکن مجلسوں اور محفلوں میں جانے کے لیے نئے لباس کی ضرورت سمجھتی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ جوڑے توکئی مرتبہ جاچکے ہیں ان ہی میں سے پہن کر جائیں گی تو عورتیں نام دھریں گی اور کہیں گی کہ فلانی کے پاس تو یہی دوجوڑے رکھے ہیں ان کو ادل بدل کر آجاتی ہے اس میں بھی وہی دکھاوے کا جذبہ موجود ہوتا ہے۔

 لباس اور زیور کی تیاری سے پہلے اور بعد میں

لباس وزیور تیار کرنے سے پہلے حلال مال دیکھنا چاہیے اور حلال مال موجود ہو، توگنجائش دیکھنا چاہیے اور جب زیور کپڑا بن جائے تو اس کے استعمال کرنے میں دکھاوا اور ریاونمود اور خود پسندی اور دوسروں کو حقیر جاننے سے پرہیز کرنالازم ہے، جب عورتوں کے سامنے ایسی باتیں کی جاتی ہیں تو کہتی ہیں کہ مولویوں کوکیا ہوگیا ہے کہ بدن پردو چیتھڑے ڈالنے سے بھی منع کرتے ہیں اور ہاتھوں میں چوڑی ڈالنے سے بھی روکتے ہیں، بہنو! مولوی کی کیا حیثیت جو کہ حلال سے روکے البتہ وہ شریعت کی بات بتاتا ہے اور اللہ کے سچے رسول ﷺ کی حدیث سناتا ہے، تم زیور بھی بنائیو، کپڑے بھی طرح طرح کے بنائو ہر حال میں اللہ سے ڈرو، اللہ کی یاددل میں بسائو، زیور کپڑے کے لیے سودی لین دین نہ کرو، نہ شوہر سے رشوت لینے کے لیے کہو، حلال مال میں گنجائش دیکھ کر بنالو، پھر شریعت کے اصول کے مطابق سالانہ زکوٰۃ کے دینے کی فکر کرو اور پہننے میں دکھاوا نہ کرو اور نہ کسی کو حقیر سمجھو، خداوند قدوس کے حکموں پر چلنے میں جنت کا داخلہ ہے اور اس کی نافرمانیاں کرنے پر جنت کے داخلہ سے رکاوٹ ہے۔ حدیث شریف میں یہی توفرمایا کہ عورتوں کو سونے اور ریشم نے اللہ سے اور اس کے حکموں سے غافل رکھا اور یہ چیز ان کے داخلہ جنت کے لیے اٹکاوابن گئی۔

اصول شریعت کے مطابق لباس اور زیور پہنو، کون روکتا ہے اور کس کو روکنے کی مجال ہے، شریعت کے احکام بتانا سب سے بڑی خیر خواہی ہے جو بتائے اس کا شکر گزار ہونا چاہئے۔

سونے چاندی کا زیور اور ان کی دوسری چیزیں استعمال کرنے کا حکم

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن روایت کرتی ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عورتو! کیا چاندی کے زیور سے تمہاری آراستگی کا کام نہیں چل سکتا ؟خبردار ! تم میں سے جوعورت ظاہرکرنے کے لیے سونے کازیور پہنے گی اس کی وجہ سے ضرور عذاب بھگتے گی۔( مشکوٰۃ شریف: ص ۳۷۹ازابو دائودونسائی)

٭…٭…٭

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor