Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 587)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 587)

چھٹی نصیحت:یہ فرمائی کہ میدان جہاد سے مت بھاگنا، اگر چہ دوسرے لوگ یعنی تیرے ساتھی ہلاک ہوجائیں۔ جب کسی جگہ کافروں سے مقابلہ ہو تو جم کر جنگ کرنا چاہئے جو مسلمانوں کی خاص امتیازی شان ہے۔ بعض حالات میں میدان جنگ سے چلا جانا بھی جائز ہے لیکن بہت سے حالات میں ضروری ہوجاتا ہے کہ میدان ہرگز نہ چھوڑا جائے اگر ایک شخص ہی باقی رہ جائے تووہ تنہا ہی لڑ لڑ کر جان دے دے۔ اس حدیث میں یہی بات بتائی ہے اور آیت قرآنی:

ومن یولھم یومئذ دبرہ الا متحرفا لقتال او متحیزاالی فئۃ فقد باء بغضب من اللّٰہ وماوئہ جھنم وبئس المصیر( الانفال:۱۶)

میں بھی اس کے احکام بتائے ہیں۔ اس مسئلہ کی پوری تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے۔

ساتویں نصیحت: یہ فرمائی کہ جب کسی جگہ ایسی وبا پھیلی ہوئی ہو جس سے موتیں ہو رہی ہوں تو وہاں سے کسی اور جگہ مت جانا بلکہ وہیں رہنا ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ: فاذا سمعتم بہ بارض فلا تقدموا علیہ واذا وقع بارض وانتم بھا فلا تخرجوافرارا منہ۔( رواہ البخاری ومسلم)

یعنی جب تمہیں معلوم ہو کہ فلاں سرزمین میں طاعون ہے تو وہاں مت جائو اور جب کسی ایسی جگہ طاعون پھیل جائے جہاں تم پہلے سے ہو تو طاعون سے بھاگ جانے کی نیت سے وہاں سے نہ نکلو۔

بڑے بڑے عالموں نے اس کی حکمت یہ بتائی ہے کہ جس جگہ وبا پھیل ہوئی ہو۔ اگر صحت مند لوگ وہاں سے بھاگ جائیں گے تو بیماروں کی تیمارداری اور خدمت نیز مرنے والوں کی تجہیز و تکفین یعنی غسل اور کفن،دفن کرنے والے اور نماز جنازہ ادا کرنے والے نہ رہیں گے اور پھر زندہ بیماروں اور مردہ لاشوں کابراحال ہوگا، رہا یہ خیال کہ جو لوگ رہیں گے انہیں بھی وبائی مرض لگ جائے گی تو اس کے بارے میں سمجھ لینا چاہے کہ خدائے پاک کی مشیت اور ارادہ کے بغیر کسی کو مرض نہیں لگ سکتا اور نہ موت آسکتی ہے۔ جب اللہ پاک کی قضاء وقدر کے مطابق مرض لگنا ہو گا یا موت آنی ہوگی تو کوئی نہ بچا سکے گا اور جو فرمایا کہ جس جگہ تمہیں پتہ چلے کہ وہاں وبائی مرض ہے وہاں نہ جائو، اس میں بھی بہت بڑی حکمت ہے کیونکہ وہاں جا کر کوئی شخص وبائی مرض میں مبتلا ہوگیا تو خواہ مخواہ یہی خیال ہوگا کہ یہاں آنے کی وجہ سے مرض لگا اور اللہ پاک کی قضاء وقدر کی طرف ذہن نہیں جائے گا۔

ایک حدیث میں ہے کہ ایک دیہات کے رہنے والے آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! ( اگر مرض متعدی نہیں ہے تو) یہ کیا بات ہے کہ اچھے خاصے اونٹوں میں کھجلی والا اونٹ مل جاتا ہے تو یہ کھجلی والا اونٹ ان کو بھی کھجلی والا بنا دیتا ہے؟ حضور اکرمﷺ نے جواب میں فرمایا کہ یہ بتائو کہ سب سے پہلے اونٹ کہ جس میں جو کھجلی پیدا ہوئی وہ کھجلی کس نے لگائی،( رواہ البخاری)

یعنی جس ذات پاک نے سب سے پہلے اونٹ میں کھجلی لگادی، اسی کی مشیت وارادہ سے بعد میں دوسرے اونٹوں میں کھجلی پیدا ہوجاتی ہے اکثر لوگ اسی خام خیالی میں رہتے ہیں کہ مریض سے دوسرے کو مرض لگ گیا اور اللہ جل شانہ، کی مشیت وارادہ کی طرف ذہن بھی نہیں لے جاتے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor