Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 589)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 589)

اور مار پٹائی سے بھی دریغ نہیں کرتے لیکن دینی معاملات میں بالکل ایسے ہوجاتے ہیں جیسے ان کو سانپ سونگھ گیا اور انہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے۔

بہت سے لوگ اپنی نما ز مسجد میں جا کر پڑھنے کا اہتمام کرلیتے ہیں مگر گھر میں کس نے نمازپڑھی کون سوتارہ گیا؟ اس کی کوئی فکر نہیں کرتے، یہ بڑی نادانی اور غفلت شعاری ہے۔ دنیا والے جن چیزوں کو ادب تہذیب سمجھتے ہیں اگرچہ وہ گناہ ہی ہوں، بعض لوگ اپنی اولاد کوان چیزوں کے سکھانے میں بہت پیش پیش ہوتے ہیں لیکن سب سے بڑا ادب جو انسان میں ہونا چاہئے کہ اپنے خالق و مالک سے غافل نہ ہو اس کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں دیتے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ معاشرہ میں سب سے زیادہ کمزور دین ہی ہے اور نزلہ عضوضعیف پر گرتا ہے، بچوں کو انگریزی پڑھاتے ہیں ،پورپ اورامریکہ کے طرز پر زندگی گذارنے کے طور طریقے سکھاتے ہیں، کوٹ، پتلون پہننے اور ٹائی لگانے کا ڈھنگ پوری توجہ سے بتاتے ہیں لیکن بیس سال کی اولاد ہوتی ہے اسے سبحانک اللھم تک بھی یاد نہیں ہوتا ،یہ اپنے نفس پر بھی ظلم ہے اور اہل وعیال پر بھی ۔وفقنا اللّٰہ لما یحب ویرضی

 دسویں نصیحت:

یہ فرمائی کہ اپنے اہل وعیال کو اللہ کے احکام و قوانین کے بارے میں ڈراتے رہو۔ یہ نویں نصیحت کا تکملہ ہے مطلب یہ ہے کہ محض ڈنڈے ہی کے زور سے کام نہ چلائو اس میں تو گھر والے صرف تم سے ڈریں گے۔ فکریہ کرو کہ خدا سے ڈریں، ان کے دل میں خدائے پاک کا خوف بٹھانے کی کوشش کرو۔اگر خدا کا خوف بیوی بچوں کے دل میں بٹھا دیا تو فرائض کی ادائیگی میں اور گناہ چھوڑنے میں اور نوافل و اذکار کے لگنے میں انہیں تکلیف محسوس نہ ہوگی۔ جس کے سامنے قبر کے حالات بیان ہوتے رہتے ہوں، میدان حشر کی نفسی نفسی کا عالم بیان کیا جاتا ہو، دوزخ کے سخت عذاب کی کیفیت سنائی جاتی ہو وہ شخص کیسے گناہوں کی جرأت کرے گا اور کیونکر خدائے پاک کی رضاکا اور ہمیشہ کے آرام وراحت کی جگہ یعنی جنت کا طالب نہ ہوگا۔

ان نصیحتوں میں آخری دونصیحتیں ایسی ہیں کہ ان کی طرف عورتوں کو زیادہ توجہ دینالازم ہے، کیونکہ مرد عموماً کمانے کے لیے نکل جاتے ہیں۔ بعض لوگ تومہینوں بلکہ برسوں میں نوکری سے واپس آتے ہیں، اس زمانہ میں بچوں کی دیکھ بھال اور ان کے دین و ایمان کی نگرانی مائوں ہی کے ذمہ ہوتی ہے اور یہ تو عموماً روزانہ ہوتا ہے کہ مرد گھنٹوں کے لیے ڈیوٹی پر چلے جاتے ہیں پیچھے بچے مائوں کے حوالے رہتے ہیںاور سات آٹھ سال تک بچہ ماں ہی کے ساتھ چمٹا رہتا ہے۔ ماں اگر اس زمانہ میں اپنا رنگ ڈھنگ دینی بنائے رہے اور بچوں کو دین کے احکام پر ڈالے، نماز روزہ سکھائے اور کفرو شرک اور بدعت اور خدائے پاک کی نافرمانی سے بچائے اور دنیا و آخرت میں جو اس کے نقصانات ہیں ان سے آگاہ کرتی رہے تو پوری نسل کا اُٹھان نیک اور صالح ہو ،کیونکہ سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہی ہے۔ افسوس ہے آج کل کی مائیں اپنے بچہ کا ناس خودکھوتی ہیں، ان کو دین پر کیا لگاتیں بے دینی پر لگا دیتی ہیں، اس میں بچوں پر بھی ظلم ہوتا ہے اور اپنے آپ پر بھی۔

عورتیں اپنی اولاد کے لیے زیادہ پیسے والی ملازمت چاہتی ہیں، اس سلسلہ میں حرام و حلال کا بھی خیال نہیں کرتیں اور اولاد کو یورپ اور امریکہ کے بے شرم لوگوں کی پوشاک میںدیکھنا چاہتی ہیں اوردنیا ہی کو ان کی زندگی کا مقصد بنادیتی ہیں، یہ مسلمان عورت کاطریقہ نہیں اگر بچے زیادہ پیسے والی نوکری میں لگ گئے اور بنگلہ کوٹھی بنا کر رہنے لگے اور نمازیں غارت کرنے اور زکوٰۃ برباد کرنے کی وجہ سے دوزخ میںچلے گئے جس کی آگ دنیا کی اس آگ سے اُنہتر درجہ زیادہ گرم ہے تو اس پیسے، کوٹھی اور بنگلہ سے کیا نفع ہوا؟ باتیں تو ہماری خشک ہیں اور پرانی ہیں مگر ہیں صحیح جو برامانے گا اپنا برا کرے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor