Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 590)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 590)

طلاق کا بیان
 بلا مجبوری کے طلاق کا سوال اُٹھانے والی پر جنت حرام ہے

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جو عورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔( مشکوٰۃ المصابیح ص۲۸۳ ج ۲ بحوالہ ترمذی وغیرہ)

خلع کا مطالبہ کرنے والی عورتیں منافق ہیں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرور دوجہاںﷺ نے ارشاد فرمایا: شوہروں سے علیحدگی چاہنے والی اور خلع کا مطالبہ کرنے والی عورتیں نفاق والی عورتیں ہیں۔( مشکوٰۃ المصابیح ص۲۸۲ بحوالہ نسائی)

اللہ جلّ شانہ نے مردوں کو عورتوں کی طرف اور عورتوں کو مردوں کی طرف محتاج بنایا ہے، فطری طور پر بیاہ شادی کرنے پر مجبور ہیں ،شریعت مطہرہ نے انسان کے فطری تقاضوں کو پامال نہیں کیا بلکہ ان کی رعایت رکھی ہے، اسلام نے زنا کو حرام قرار دیا ہے اس لیے نکاح کرنا شرعاً محمود اور مستحسن ہی نہیں بلکہ بعض حالات میں واجب ہے، کس عورت کا نکاح کس مردسے ہو سکتا ہے اور کس سے نہیں ہو سکتا شریعت نے اس کی تفصیل بتلادی ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔

نکاح زندگی بھر نباہنے کے لئے ہوتا ہے

 ان تفصیلات کو سامنے رکھ کر جب کسی مسلمان مرد کا کسی مسلمان عورت سے نکاح ہوجائے تو اس کے بعد زندگی بھر ایک دوسرے کو چاہنے اور نباہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کبھی کبھار فریقین میں سے کسی کو طبعی طور پر ایک دوسرے کی جانب سے کچھ ناگواری ہوجائے تو نفس کو سمجھا بجھا کر درگزر کردینا چاہئے۔ نباہنے کے لئے ایک ضروری امر ہے مردوں کو حضوراقدسﷺ نے کئی طرح سے سمجھایا ہے اور نباہنے کا حکم دیا ہے ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ:

لا یفرک مومن مومنۃ ان کرہ منھا خلقا رضی منھا اخر

یعنی کوئی مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ رکھے کیونکہ اگر اس کی کوئی خصلت ناگوار ہوگی تو دوسری خصلت پسند آجائے گی( رواہ مسلم) اورعورتوں کو تعلیم دی ہے کہ طلاق کا سوال نہ اُٹھائیں نباہنے کی کوشش کریں جب کہیں دوچار برتن ہوتے ہیں تو آپس میں کھٹکتے ضرور ہیں۔ ایسے ہی جب دو آدمی ایک ساتھ رہتے ہیں تو کبھی کچھ نہ کچھ ناگواری کی صورت سامنے آہی جاتی ہے اگر صبر نہ کیا جائے اور ناگواری کے سہنے کا مزاج نہ بنایا جائے تو آپس میں نباہ نہیں ہو سکتا اور آئے دن چھوٹ چھٹائو کا سوال ہوتا رہے گا ،پھر طلاق کے بعد بچے ویران ہوںگے، ہر ایک کو اپنے لیے الگ الگ جوڑا تلاش کرنا ہوگا، بچے ماں سے یا باپ سے یادونوں سے علیحدہ ہوں گے لہٰذا جہاں تک ممکن ہو زندگی بھر نباہ کرتے ہوئے چلتے رہنا چاہیے۔

 بہت سی عورتیں مزاج کی تیز ہوتی ہیں ،بات بات میں مرد سے لڑ پڑتی ہیں جو حقوق واجب نہیں ان کا شوہر سے مطالبہ کرتی ہیں وہ پورا نہیں کرتا تو منہ پھلاتی ہیں اور اکڑ کر بیٹھ جاتی ہیں، شوہر کی ناشکری کرتی رہتی ہیں، شوہر کوئی بات کہے تو طلاق کی بات سامنے لے آتی ہیں، عورتوں کے اسی مزاج کے پیش نظر شریعت نے عورت کو طلاق دینے کا اختیار نہیںدیا ورنہ ایک ایک دن میں کئی کئی بار طلاق دیا کرتیں، نکاح طلاق دینے کے لیے نہیں ہوتا زندگی بھر نباہنے کے لئے ہوتا ہے، مرداگر طلاق دے دے تو طلاق ہو تو جاتی ہے لیکن طلاق اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor