Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 591)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 591)

طلاق بغض کی چیز ہے

اسی لیے ایک حدیث میں آیا ہے کہ ابغض الحلال الی اللّٰہ الطلاق( ابودائود) یعنی حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ بغض اور نفرت کی چیز طلاق ہے، جب نباہنا اسلام کا مزاج ٹھہرا تو عورت کی جانب سے طلاق کا سوال اٹھانا سراسر غیر اسلامی فعل ہوگا، اسی لیے یہ ارشاد فرمایا کہ طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنے والی عورتیں منافق ہیں۔

اسلام کے تقاضوں پر نہ چلنا اور اسلام کا مدعی ہونا یہ دوغلے کی پن کی بات ہے، منافق دوغلا ہوتا ہے اندر کچھ ظاہر کچھ، اور سب سے بڑا منافق وہ ہے جو دل سے منافق ہو اور زبان سے اسلام کا مدعی ہو، لیکن جو شخص اسلام کا دعویدار ہے اور دل سے بھی دین اسلام کے حق ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے لیکن عمل میں ایمانی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا اسے عمل کے اعتبار سے منافق کہا گیا ہے ،حدیث شریف میں بہت سی خصلتوں کو منافقت کی خصلت بتایاگیا ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جس میں چار خصلتیں ہوںگی وہ خالص منافق ہوگا اور جس میں ان میں ایک خصلت ہوگی تو اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ اس میں منافقت کی ایک خصلت ہے جب تک اسے چھوڑ نہ دے وہ چارخصلتیں یہ ہیں:

 ا)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔

۲)جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔

۳)جب عہد کرے تو غدر کرے۔

۴)جب جھگڑا کرے تو گالیاں دے۔( بخاری ومسلم)

چونکہ یہ شخص عمل کے اعتبار سے ایمانی تقاضوں کو پامال کرتا ہے اور اس کا عمل ایمانی مطالبات کے خلاف ہے اس لیے اسے منافق کہاگیا، اسی طرح ایمان کا دعویٰ کرتے ہوئے عورت کی جانب سے طلاق کے سوال کو منافقت بتایا کیونکہ یہ بھی عمل کے اعتبار سے منافقت ہے۔

 البتہ بعض مرتبہ ایسی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں کہ نباہ کے راستے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ گو ایساکم ہوتا ہے لیکن اسلام نے اس کی بھی رعایت رکھی ہے، ایسے حالات میں مرداگر طلاق دے دے یا عورت طلاق مانگے تو یہ وعید میں شامل نہیں، اسی لیے حدیث ۱۴۹ میں فرمایا کہ جو عورت بغیر کسی مجبوری کے طلاق کا سوال کرے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے، مجبوری کی بہت سی صورتیں ہیں مثلاً یہ کہ شوہر دین پر چلنے نہیں دیتا، گناہوں پر مجبور کرتا ہے، بے جامارکٹائی کرتا ہے یا ازدواجی حقوق اداکرنے سے بالکل ہی معذور ہے اور اس کے درست ہونے کی کوئی امید نہیں، ان حالات میں شوہر سے طلاق لینے یا خلع کرنے یا بعض صورتوں میں مسلمان حاکم سے نکاح فسخ کرانے کی گنجائش ہے۔

 بعض عورتیں ضد کر کے طلاق لیتی ہیں:

آج کل عورتیں شوہر کے ساتھ نباہ کرنے کا مزاج گویا ختم کرچکی ہیں، جہاں تھوڑی سی ان بن ہوئی شوہر سے کہا اگر تو اصل ماں باپ کا جنا ہے تو مجھے ابھی طلاق دے دے حالانکہ عورت کا کام یہ تھا کہ شوہر کے بدلے ہوئے تیور دیکھتی تو ہٹ جاتی، زبان بند کرلیتی تاکہ وہ غصہ میں آکر طلاق کا لفظ منہ سے نہ نکالتا۔ جب شوہرعورت کے مطالبہ پر طلاق کے الفاظ نکال دیتا ہے تو جہالت کی وجہ سے وہ بھی طلاق کی مشین گن چالو کردیتا ہے تین سے کم پر تو خاموش ہوتا ہی نہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor