Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 592)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 592)

طلاق زبان سے نکلتے ہی واقع ہوجاتی ہے:

طلاق کے بعد جب فریقین کا غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو پچھتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے طلاق کی نیت سے طلاق نہیں دی اور بہت زیادہ غصہ میں تھا یاعورت حمل سے تھی یا اس کی ناپاکی کازمانہ تھا اور یہ بات اس لیے ذکرکرتے ہیں کہ ان کے نزدیک غصہ میں یا حالت حمل و حیض میں طلاق نہیں ہوتی،حالانکہ طلاق کا تعلق زبان سے ہے جب زبان سے طلاق نکلے گی واقع ہوجائے گی، شوہر غصہ میں ہو یا رضامندی میں اور عورت حمل سے ہو یا ناپاکی کے ایام میں ہو بہر حال طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجائے گی۔

مذاق میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے:

طلاق وہ چیز ہے کہ جو شوہر کی زبان سے مذاقاً نکل جانے سے بھی اثر کرجاتی ہے۔ حضوراقدسﷺ کا ارشاد ہے:ثلاث جدھن جد وھزلہن جد النکاح و الطلاق والرجعۃ یعنی تین چیزیں ایسی ہیں جن میں اصلی نیت اورمذاق دونوں برابر ہیں یعنی بلا نیت کے مذاقاً زبان سے نکالنے بھی کام کرجاتی ہیں

۱)نکاح

۲)طلاق

۳)رجوع کرلینا( طلاق رجعی کے بعد )(ابودائود)

جب طلاق دے بیٹھتے ہیں اور عورتیں شوہر کو غصہ دلا کر طلاق لے چھوڑتی ہیں تو مفتی کے پاس سوال لے کر آتے ہیں او ر مفتی کو موم کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے عاشق ہیں،بیوی خودکشی کر لے گی اگر اسی شوہر کے پاس رہنے کا راستہ نہ نکلا تو بچے ویران ہوں گے اور یہ تکلیف ہوگی اور وہ مصیبت آئے گی، دیکھئے مولوی صاحب کوئی راستہ نکالیے، بھلا مولوی کیا راستہ نکال سکتا ہے،دین اسلام اللہ کا قانون ہے، مولوی مفتی کے بس میں نہیں کہ شریعت کے قانون کو بدل دے،مفتی مولوی قانون بتانے والے ہیں قانون بنانے والے نہیں، قانون اللہ پاک کا ہے۔

رجعی طلاق:

آپس کے نباہ کا کوئی راستہ نہ رہا ہو اور طلاق دینی ہی ہو تو ایسا کرے جس زمانہ میں عورت پاک ہو یعنی حیض سے نہ ہو اس زمانے میں ایک طلاق صاف لفظوں میں دے دے، اس طرح ایک رجعی طلاق ہو جائے گی، جس کا معنی یہ ہے کہ عدت کے اندر اندر رجوع کرنے یعنی لوٹا لینے کا حق رہتا ہے، ایک طلاق رجعی دینے کے بعد پھر چاہے تو رجوع کر لے اور رجوع کرنے کے لیے عورت کی رضامندی بھی ضروری نہیں ہے عورت چاہے نہ چاہے مرد رجوع کر سکتا ہے، زبان سے صرف یہ کہہ دینے سے کہ میں نے اپنی بیوی کو لوٹالیا، اس سے رجوع صحیح ہوجاتا ہے۔ اگر دوگواہوں کے سامنے ایسا کہے تو بہتر ہے تاکہ رجوع کرنے نہ کرنے کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو گواہوں کے ذریعہ رجوع کا ثبوت دیا جا سکے۔ اگر کسی نے طلاق رجعی کے بعد عدت کے اندر کوئی ایساکام کرلیا جو میاں بیوی کے درمیان ہوتا ہے تو اس طرح بھی رجوع ہوجائے گا، اس کو رجوع بالفعل کہتے ہیں اور زبان سے لوٹا لینے کو رجوع بالقول کہتے ہیں۔

عدت کے بعد رجعی طلاق بائن ہوجاتی ہے

 اگر کسی نے طلاق رجعی دینے کے بعد عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو یہی رجعی طلاق بائن طلاق ہوجائے گی، بائن طلاق میں رجوع کا حق نہیں رہتا، ہاں اگر دونوں پھر میاں بیوی بننا چاہیں تو آپس کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ چاہئے تو یہی کہ عند الضرورت صرف ایک طلاق سے کام چلالیاجائے، اگر طلاق کے بعد پچھتاوا ہو تو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق باقی ہونے کی وجہ سے شوہر رجوع کر سکے گا اور اگر جلدی ہوش نہ آیا اور عدت گزرگئی تو آپس میں دوبارہ نکاح ہو سکے گا۔

شریعت کی آسانی:

شریعت نے کتنی آسانی رکھی ہے اول تو طلاق دینے ہی سے منع فرمایا پھر اگر کوئی طلاق دینا ضروری ہی سمجھے تو اسے بتایا کہ ایک طلاق عورت کو پاکی کے زمانے میں دے دے اس میں غصہ ٹھنڈا ہونے اور سوچ بچار کرنے کا خوب اچھی طرح موقع مل جاتا ہے اگر کسی نے صاف لفظوں میں ایک ساتھ دوطلاقیں دے دیں تو بھی رجعی ہوںگی اور اگر غیر حاملہ عورت کو پاکی کے زمانہ میں ایک طلاق صاف لفظوں میں دی اور رجوع نہ کیا اور اس کے بعد جوپاکی کا زمانہ آئے اس میں ایک طلاق اور دے دی تو وہ دوسری طلاق بھی رجعی ہوگی اور اس کا حکم بھی وہ ہوگا جو پہلی طلاق کا تھا، پھر اگر تیسری بار تیسری پاکی کے زمانہ میں ایک اور طلاق دے دی تو طلاق مغلظہ ہوگئی۔ عدت طلاق تین حیض ہے اور حیض نہ آتا ہو( بچپن یا بڑھاپے کی وجہ سے) تو عدت تین ماہ ہے اور اگر حاملہ ہو تو حمل ختم ہونے پر عدت ختم ہوگی۔ عدت کے اندر اندر جو طلاقیں شوہر دے گا واقع ہوتی رہیں گی۔

بیک وقت تین طلاق:

لوگ اپنی جان پر زیادتی کرتے ہیں کہ ایک ساتھ طلاق کی تینوں گولیاں چھوڑدیتے ہیں ،شریعت طلاق ہی کی مخالف ہے پھر وہ ایک ساتھ تینوں طلاق دینے کی کیسے اجازت دے سکتی ہے؟ تاہم اگر کوئی شخص ایک ساتھ تین طلاق دے ہی دے تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہے اسی طرح اگر کوئی شخص عدت گزرنے سے پہلے مختلف اوقات میں تین طلاقیں دے دے یا ہر پاکی کے زمانے میں ایک طلاق دیا کرے تو اس طرح سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں تین طلاقوں کے بعد رجوع کا حق نہیں رہتا، بلکہ آپس کی رضامندی سے دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، تین طلاق پانے والی عورت اس طلاق دینے والے شوہر کے نکاح میں دوبارہ اسی صورت میں جا سکتی ہے کہ عدت گزار کر کسی دوسرے مسلمان سے اس کا نکاح ہو پھر وہ اس سے میاں بیوی والا کام کرنے کے بعد طلاق دے دے یا مرجائے اس کے بعد عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح ہو سکتا ہے اس کو ’’حلالہ‘‘ کہتے ہیں اس کی مزید تفصیل ان شاء اللہ آئندہ آئے گی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor