Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 593)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 593)

تین طلاق کے بارے میں چاروں اماموں کا مذہب:

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینے سے ایک ہی طلاق مانی جاتی ہے اور رجوع کا حق باقی رہتا ہے اور اسے حضرت امام شافعی ؒ کا مذہب بتاتے ہیں یہ بالکل غلط ہے چاروں اماموں کا مذہب یہ ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دے یا الگ الگ کر کے ہر پاکی کے زمانہ میں ایک طلاق دے بہرحال تینوں طلاقیں واقعی ہوجاتی ہے اور رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے اور اس کے بعد بغیر حلالہ کے آپس میں دونوں کا نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔

 فائدہ:ایک یا دورجعی طلاق دے کر اگر عدت کے اندر رجوع کرلیا تو اس طرح سے بیوی بنا کر رکھنا تو جائز ہوجائے گا مگر طلاق ختم نہ ہوگی، کیونکہ اگر کبھی ایک کے بعد دو طلاقیں اور دے دیں یا دو طلاق کے بعد ایک طلاق اور دے دی تو پہلی طلاق حساب میں لگ کر تینوں طلاقیں مل کر مغلظہ طلاق ہوجائے گی اور جو تین طلاقوں کا حکم ہے وہی عائد ہوجائے گا، خوب سمجھ لیں۔ واللہ اعلم

تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رفاعہ قرظی کی( سابقہ) بیوی حضور اقدسﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا میں(پہلے) رفاعہ کے پاس تھی( یعنی اس کے نکاح میں تھی) انہوں نے مجھے پکی طلاق دے دی( یعنی تین طلاقیں دے کر جدا کردیا اور ان کی عدت گزرنے کے بعد) میں نے عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا( ان کو ازدواجی حقوق ادا کرنے کے قابل نہ پایا) ان کے پاس ایسی چیز ہے جیسے کپڑے کا پلو، آنحضرتﷺ نے مذکورہ خاتون کی بات سن کر سوال فرمایا: کیا تم یہ چاہتی ہو کہ ( اس سے طلاق لے کر عدت گذرنے کے بعد) رفاعہ رضی اللہ عنہ سے دوبارہ نکاح کرلو؟انہوں نے عرض کیا: جی ہاں میں یہی چاہتی ہوں آپ نے فرمایا: نہیں!(ایسا نہیں ہو سکتا، رفاعہ کے نکاح میں دوبارہ جانے کا کوئی راستہ نہیں) جب تک کہ تم اس دوسرے شوہر سے تھوڑی لذت حاصل نہ کرلو اور وہ تم سے تھوڑی لذت حاصل نہ کرلے۔( المصابیح: ص ۲۸۴ بحوالہ بخاری ومسلم)

پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ مرد کو تین طلاقیں دینے کا اختیار ہے، لیکن تین طلاقیں دینا بہترنہیں ہیں، اگر کوئی ایسی صورت بن جائے کہ نباہ کا کوئی راستہ ہی نہ رہے تو عورت کے پاکی کے زمانہ میں ایک طلاق دے کر چھوڑ دے اگر پچھتا وا ہو تو عدت کے اندر رجوع کرلے، اگر عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو رجعی طلاق بائن ہوجائے گی اس کے بعد ہوش آجائے تو آپس میں باہمی رضامندی سے دوبارہ نئے مہر پرنکاح کرلیں یہ ایسی بات ہے کہ جس پر عمل کرنے سے دقت اور مصیبت پیش نہیں آئے گی، لیکن اس کے برخلاف لوگ یہ کرتے ہیں کہ بیک وقت ایک زبان میں اور ایک مجلس میں تین طلاقیں دے ڈالتے ہیں ایسا کرنے سے شرعاً تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور رجوع کا راستہ بالکل ختم ہوجاتا ہے تین طلاقوں کے بعد آپس میں حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا، لہٰذا مرد کو چاہئے کہ اور کسی مسلمان عورت سے نکاح کرلے جس سے نبا ہ ہو سکے اور عورت کسی دوسرے مسلمان سے نکاح کرلے جس کے ساتھ گزارہ کی صورت بن سکے۔ جب تین طلاق ملنے والی عورت نے عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرلیا اور اس شوہر نے میاں بیوی والا کام بھی کرلیا پھر طلاق دے دی یاوفات پاگیا تو عدت گزار کر پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا ہے :فان طلقھافلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ( یعنی اگر شوہر نے تیسری طلاق دے دی تو اس کے لیے حلال نہ ہوگی جب تک اس کے علاوہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے) اگر دوسرے شوہر سے صرف نکاح ہوجائے اور نکاح کر کے طلاق دے دے یا مرجائے تو پہلے شوہر کے لیے حلال نہ ہوگی تین طلاقوں کے بعد شوہر کے لیے حلال ہونے کی شرط یہ ہے کہ دوسرا شوہر اس عورت سے میاں بیوی والا خاص کام بھی کرلے، اس کے بعد طلاق دے دے یا وفات پاجائے اور عدت بھی گذرجائے ،اسی شرط کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت میں بیان کیا گیا ہے جس میں حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کا قصہ مذکور ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor