Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 594)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 594)

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت یا مرد کو یہ ترغیب دی جارہی ہے کہ کسی مسلمان سے خواہی نہ خواہی ضرور اس عورت کا نکاح کیا جائے پھر اس سے طلاق لی جائے بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ دوسرے مرد سے نکاح ہو کر میاں بیوی والا کام ہو جانے کے بعد طلاق ہوجائے یا وہ مر جائے تو آپس کی رضامندی سے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے اس کے بغیر دوبارہ نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ چونکہ مرد نے تین طلاق دے کر قانون شریعت کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے اسی عورت کے دوبارہ حاصل ہونے کے لئے بطور سزا یہ شرط عائد کی ہے۔ اس شرط میں جو ترکیب اور تفصیل مذکور ہے اس کو’’حلالہ‘‘کہتے ہیں۔

 عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص تین طلاقیں دے کر پچھتاتا ہے اور مفتی سے معلوم کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ دوبارہ نکاح کرنے کا بھی کوئی راستہ نہیں رہا، الّایہ کہ کسی دوسرے مرد سے اس عورت کا نکاح ہو اور حلالہ کی سب شرطیں پوری ہوں توعورت سے کہتا ہے کہ تو فلاں مرد سے نکاح کر لے حالانکہ وہ اب پہلے شوہر کی پابند نہیں رہی جس مسلمان مرد سے چاہے نکاح کرے اور جتنے مہر پر کرے اسے اختیار ہے بلکہ اگر اس نے کسی مرد سے نکاح کرلیا اور اس نے طلاق دے دی مرگیا تب بھی عورت کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ پہلے شوہر سے نکاح کرلے۔

 بالفرض اگر عورت اس بات پر راضی ہوجائے کہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرلے پھر حلالہ کی شرطیں پوری کرنے کے بعد شوہر اول سے نکاح کرنے پر رضامندی کا اظہار کردے تب بھی یہ جائز نہیں ہے کہ کسی شخص سے یہ معاہدہ کیا جائے کہ تم اس عورت سے نکاح کرلو اور حلالہ کی شرط پوری کرکے چھوڑ دینا تا کہ شوہر اول سے نکاح ہو سکے ایسا معاملہ اورمعاہد ہ شرعاً ممنوع ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لعن رسول اللّٰہﷺ المحلل والمحلل لہ یعنی رسول اللہﷺ نے لعنت فرمائی محلل پر اور محلل لہ پر۔( مشکوٰۃ شریف)

محلل وہ ہے جو حلالہ کر کے دے یعنی جو اس شرط کو منظور کر کے نکاح کر لے کہ وہ حلالہ کی شرط پوری کر کے چھوڑ دے گا اور محلل لہ وہ ہے جس نے تین طلاقیں دی تھیں یعنی شوہر اول جو یہ شرط لگا کر کسی سے اپنی طلاق دی ہوئی بیوی کا نکاح کراتا ہے کہ تم اس کو ایک دورات رکھ کر چھوڑ دینا،دیکھئے دونوں پر لعنت فرمائی اس لیے حلالہ کی شرط پر نکاح کرنا اور کرانا گناہ ہے لیکن اس طرح شرط لگا کر کسی نے نکاح کرادیا اور حلالہ کی شرطیں پوری ہوگئیں تو شوہر اول کے لیے حلال ہوجائے گی یعنی وہ اس سے نکاح کر سکے گا جو عورت کی مرضی سے ہوگا، بات کو خوب سمجھ لیں ۔

خلع کرنے کاطریقہ اور اس کے مسائل نیز شرائط و نتائج

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی(جمیلہ یا حبیبہ) حضورﷺ کے پاس آئیں اورعرض کیا: یارسول اللہ! ثابت بن قیس جو میرے شوہر ہیں مجھے ان کی عادت و خصلت اور دینداری کے بارے میں کوئی ناراضگی نہیں ہے( کیونکہ وہ دیندار بھی ہیں اور اخلاق بھی اچھے ہیں اس سب کے باوجود میری طبیعت کا ان سے جوڑ نہیں کھاتا اور ان کے ساتھ رہنے کو جی نہیں چاہتا اس صورت میں اگر میں ان کے ساتھ رہوں تو ان کے حقوق کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ایک اچھے آدمی کے ساتھ رہوں اور وہ اخراجات برداشت کرے اور اس کے حقوق کی ادائیگی نہ ہو یہ ناشکری کی بات ہے) لیکن میں مسلمان ہوتے ہوئے ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں(لہٰذا میری اور ان کی جدائی ہوجائے تو بہتر ہے) یہ سن کر حضور اقدسﷺ نے فرمایا: کیا (طلاق کے بدلہ) تم اس کا باغیچہ واپس کردوگی( جو اس نے مہر میں دیا ہے) اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہاں میں واپس کردوں گی۔ آپﷺ نے یہ سن کر حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم باغیچہ قبول کرلو( اوراس کے عوض) اس کو ایک طلاق دے دو( مشکوٰۃ المصابیح: ص ۲۸۳ بحوالہ بخاری)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor