Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 595)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 595)

اسلامی تعلیمات کا اصل رخ یہ ہے کہ نکاح کا معاملہ اورمعاہدہ عمر بھر کے لئے ہو، اس کے توڑنے اور ختم کرنے کی کبھی نوبت ہی نہ آئے کیونکہ جدائی کا اثر فریقین ہی پر نہیں پڑتا بلکہ اس کی وجہ سے نسل و اولاد کی تباہی وبربادی ہوتی ہے اور بعض اوقات خاندانوں اور قبیلوں میں فساد تک کی نوبت آجاتی ہے اسی لیے جو اسباب اور وجوہ اس معاملہ کو توڑنے کا سبب بن سکتے ہیں اسلامی تعلیمات نے ان تمام اسباب کو راہ سے ہٹانے کا پورا نتظام کیا ہے۔ شوہر اور بیوی کو جو ہدایتیں قرآن و سنت میں دی گئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ رشتہ ازدواج ہمیشہ زیادہ سے زیادہ مستحکم ہوتا چلا جائے اور ٹوٹنے نہ پائے، ناموافقت کی صورت میں اول افہام و تفہیم کی پھر زجرو تنبیہ کی ہدایتیں دی گئیں اور اگر بات بڑھ جائے اور اس سے بھی کام نہ چلے تو دونوں خاندانوں کے افرا د کو حکم اور ثالث بنا کر معاملہ طے کر نے کی تعلیم دی آیت سورئہ نساء ’’فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا‘‘ میں خاندان کے افراد کو ثالث بنانے کا حکم دیا ہے جو بہت حکیمانہ ہے کیونکہ اگر معاملہ خاندان سے باہر گیا تو بات بڑھ جائے گی اور دلوں میں زیادہ بعد پیدا ہوجانے کا خطرہ ہوجائے گا۔

لیکن بعض اوقات ایسی صورتیں بھی پیش آتی ہیں کہ اصلاح حال کی تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں اور نکاح سے مطلوبہ ثمرات حاصل ہونے کے بجائے فریقین کا آپس میں مل کر رہنا عذاب بن جاتا ہے ایسی حالت میں تعلق ختم کردینا ہی طرفین کے لئے راحت اور سلامتی کا باعث ہوجاتا ہے اس لیے شریعت اسلام نے بعض دوسرے مذاہب کی طرح یہ بھی نہیں کیا کہ رشتہ ازدواج بہرحال ناقابل فسخ ہی رہے بلکہ طلاق اور فسخ نکاح کا قانون بنایا۔ طلاق کا اختیار تو صرف مرد کو دیا جس میں عادتاً فکر و تدبر اور تحمل کا مادہ عورت سے زائد ہوتا ہے۔ عورت کے ہاتھ میں یہ اختیار نہیں دیا تاکہ وقتی تاثرات سے مغلوب ہو کر( جو عورت میں بہ نسبت مرد کے زیادہ ہے) طلاق نہ دے ڈالے لیکن عورت کو بھی بالکل اس حق سے محروم نہیں رکھا کہ وہ شوہر کے ظلم و ستم سہنے پر مجبور ہی ہو بلکہ اس کو یہ حق دیا کہ اگر اپنے شوہر کو کسی وجہ سے اتنا ناپسند کرتی ہو کہ اس کے ساتھ کسی قیمت پر نباہ کرنا ممکن ہی نہ رہا تو اس کا بہترین طریقہ تویہی ہے کہ وہ شوہر کو سمجھا بجھا کر طلاق دینے پر آمادہ کرلے ایسی صورت میں شوہر کو بھی یہی چاہیے کہ جب وہ نکاح کے رشتہ کو خوشگواری کے ساتھ نبھتا نہ دیکھے اور یہ محسوس کر لے کہ اب یہ رشتہ دونوں کے لیے ناقابل برداشت بوجھ کے سوا کچھ نہیں رہا تو وہ شرافت کے ساتھ اپنی بیوی کو ایک طلاق دے کر چھوڑ دے تاکہ عدت گزرنے کے بعد وہ جہاں چاہے نکاح کر سکے۔

 لیکن اگر شوہر اس بات پر راضی نہ ہو تو عورت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کو کچھ مالی معاوضہ پیش کر کے اس سے طلاق حاصل کرلے۔ عموماً اس غرض کے لئے عورت مہر معاف کردیتی ہے اور شوہر اسے قبول کر کے عورت کوآزاد کردیتا ہے اس کے لیے اسلامی شریعت میں جو خاص طریق کار مقرر ہے اسے فقہ کی اصطلاح میں خلع کہا جاتا ہے۔ نکاح اور دوسرے شرعی معاملات کی طرح خلع بھی ایجاب وقبول کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ لیکن اگر زیادتی مرد کی طرف سے ہو تو فقہا ء کا اس پر اتفاق ہے کہ شوہرطلاق کے لیے معاوضہ لے گا تو مرتکب گناہ ہوگا۔

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی کا جو واقعہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا اس میں یہی بات ہے کہ شوہر بیوی سے خوش تھا اور بیوی بھی اس کی خوش خلقی اور دینداری کا اقرار کررہی تھی لیکن شوہر سے اس کا دل نہیں لگتا تھا اور اس سے طبیعت مانوس نہ ہوتی تھی جس کی وجہ سے چھٹکارا چاہتی تھی چونکہ مذکورہ واقعہ میں شوہر کا کوئی قصور نہ تھا اس لیے حضور اقدسﷺ نے بیوی کو باغ واپس دینے کی ہدایت فرمائی اس صورت میں طلاق کے عوض شوہر کو وہ باغ بلا کراہت واپس لے لینا درست ہوگیا،اگر کوئی عورت مال کے بدلے طلاق مانگے تو شوہر پر واجب نہیں ہے کہ اس کی بات قبول کرلے اس لیے حدیث کی شرح لکھنے والے علماء نے بتایا ہے کہ حضورﷺ کا یہ ارشاد کہ طلاق دے دو درجہ وجوب میں نہ تھا بلکہ یہ ایک امراستحبابی تھا، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضورﷺ نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو باغ قبول کر کے ایک طلاق دینے کو فرمایا، مال کے بدلے جو طلاق دی جائے وہ بائن ہوتی ہے اگرچہ ایک یادوطلاق ہو اور صریح لفظوں میں ہو بائن طلاق کے بعد اگر پھر آپس میں مصالحت ہوجائے اور ددنوں نرم گرم سہنے پر آمادہ ہوجائیں تو آپس میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ تین طلاق دینے کے بعد حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے تین طلاق سے منع فرمایا اور مال لے کر طلاق دی جائے تو وہ رجعی اس لیے نہیں ہوتی کہ اگر شوہر رجوع کر لے گا تو عورت کی جان نہ چھوٹے گی اور اس کا مال ضائع ہوجائے گا۔

یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ جب حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو حضورﷺ نے ان کی ناگواری کے پیش نظر نکاح فسخ نہیں فرمادیابلکہ شوہر کو مہر میںدیا ہوا باغیچہ واپس دلا کر طلاق دلوائی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor