Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 596)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 596)

مسئلہ:جب عورت نے شوہر سے کہا کہ جو میرا مہرواجب ہے اس کے بدلہ میری جان چھوڑ دے یا اس قدرروپے کے عوض مجھے چھوڑ دے پھر اس کے جواب میں مرد نے اسی مجلس میں کہہ دیا کہ’’میں نے چھوڑی‘‘تو اس سے ایک بائن طلاق واقع ہوگئی اور مرد کو رجوع کا حق نہیں رہا، مردوعورت کا سوال وجواب دونوں ایک ہی مجلس میں ہونے چاہئیں۔ اگر عورت نے اپنی بات کہی اور مرد کے جواب دینے سے پہلے دونوں میں سے کوئی وہاں سے اُٹھ گیا تو بات ختم ہوگئی اب اگر مرد کہے کہ طلاق دیتا ہوں تو طلاق ہوجائے گی مگر عورت پر کچھ واجب نہ ہوگا اور قانون طلاق کے مطابق صاف لفظوں میں ایک یا دوطلاق دے گا تو رجعی ہوگی اور تین طلاقیں دے گا تو مغلظہ طلاق ہوجائے گی۔ یہ تفصیل اس صورت میں ہے جبکہ عورت نے پہلے پیشکش کی ہو۔

 مسئلہ:اور اگر مرد نے بات کہنے میں پیش قدمی کی اور اس نے کہا کہ میں نے تجھ سے اتنی رقم یا مہر کے عوض خلع کیا اورعورت نے کہا کہ میں نے قبول کیا تو خلع ہوگیا تو طلاق بائن کے حکم میں ہوگا، اگر عورت نے اسی جگہ جواب نہ دیا اور وہاں سے اُٹھ کھڑی ہوئی اس کے بعد منظوری دی یا قبول ہی نہیں کیا مثلاً بالکل خاموشی رہ گئی یا مرد کی پیشکش کو رد کردیا تو اس سے کوئی طلاق نہیں ہوگی اور اگر مرد کی پیشکش کے بعدعورت اپنی جگہ بیٹھی رہی اور مرد اپنی بات کہہ کر چلتا بنا اور عورت نے اس کے اُٹھ جانے کے بعد قبول کیا تب بھی خلع ہوگیا۔

 مسئلہ:جب مرد نے کہا کہ میں نے تجھ سے خلع کیا، عورت نے کہا میں نے قبول کیا، روپیہ پیسہ کا یا مہر کی واپسی یا بقیہ مہر کوعوض میں لگانے کا کوئی ذکر نہ ہوا تب بھی جومالی حق مرد کا عورت پر ہے یا عورت کا مالی حق مرد پر ہو سب معاف ہوگیا گر مرد کے ذمہ مہرباقی ہوپورا یا کچھ کم یا آدھا تہائی وہ بھی معاف ہوگیا البتہ اگر عورت پورا مہر پاچکی ہے تو اس صورت میں اس کا واپس کرنا واجب نہیں البتہ عدت ختم ہونے تک نان نفقہ اور رہنے کا مکان عورت کے لیے دینا شوہر پر لازم ہوگا ،ہاں اگر عورت نے اس سخاوت سے کام لیا کہ جان چھڑانے کے لیے یہ بھی کہہ دیا کہ مجھ سے خلع کرلے ،روٹی کپڑا بھی ایام عدت میں تجھ سے نہ لوں گی، تو وہ بھی معاف ہوگیا۔

 مسئلہ:اگر مخصوص رقم کے عوض خلع کیا مثلاً یوں کہا کہ ہزارروپے کے عوض خلع کرتا ہوں اورعورت نے قبول کیا تو یہ ہزاروپے عورت پر واجب ہوگئے خواہ اس سے قبل اپنا مہرلے چکی ہو یا ابھی وصول کرنا باقی ہو، اگر ابھی مہر نہ لیا ہو تو وہ نہ ملے گاکیونکہ خلع کی وجہ سے معاف ہوگیا اور عورت پر لازم ہوگا کہ شوہر کو طے شدہ ہزار روپے ادا کرے۔

طلاق بالمال:

مذکورہ تفصیل اس وقت ہے جبکہ لفظ خلع استعمال کیا یایوں کہا کہ اتنے روپے کے عوض یا میرے مہر کے عوض میری جان چھوڑدے اور اگر یوں کہا کہ ہزارروپے کے عوض مجھے طلاق دے دے تو اس کو خلع نہ کہا جائے گا، البتہ شوہر نے ہزارروپے کے عوض طلاق دے دی تو ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور چونکہ یہ صورت خلع کی نہیں ہے ا س لیے فقہا ء کرام طلاق بالمال کہتے ہیں، اس کا حکم یہ ہے کہ جس مال پر آپس میں طلاق میں جو ایک دوسرے پر کوئی مالی حق ہے تو وہ معاف نہ ہوگا، اگر عورت کا کل یا بعض مہر باقی ہے تو وہ دعویدارہو کر لے سکتی ہے۔ طلاق بالمال بھی ایک معاملہ ہے جو دونوں فریق کی منظوری سے ہوسکتا ہے۔

 مسئلہ:عورت نے کہا مجھے طلاق دے، مردنے جواب میں کہا تو اپنا مہر وغیرہ سب حق معاف کردے تو طلاق دے دوں اس پر عورت نے کہا اچھا معاف کیا یا لکھ کردے دیا پھر شوہر نے طلاق دے دی تو کچھ معاف نہیں ہوا اگر شوہر اسی مجلس میں طلاق دے دے تو عورت کا معاف کرنا معتبر ہوگا ورنہ وہ اپنا حق وصول کر سکے گی۔

مسئلہ:اگر مرد زبردستی کر کے مار پیٹ سے عورت کو خلع کرنے پر مجبور کردے اور اس کی زبان سے خلع کرنے کا لفظ کہلوالیا یا لکھے ہوئے خلع نامہ پر انگوٹھا لگوالیا یا دستخط کروالیا اور کہا کہ خلع کرتا ہوں تو اس سے طلاق واقع ہوجائے گی لیکن عورت پر مال واجب نہ ہوگا نہ اس کا کوئی حق معاف ہوگا، اگر مہرباقی ہے تو شوہر پر اس کا ادا کرنا واجب رہے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor