Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 597)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 597)

مسئلہ:اگر کسی شوہر نے عورت کی جانب سے کاغذ لکھ لیا کہ میں نے مہریا اپنے دیگر حقوق کے عوض طلاق لینا منظور کرلیا اور اسے دکھائے بغیر کچھ اور بات سمجھا کر دستخط کرالیا یا انگوٹھا لگوالیا تو کچھ معاف نہ ہوگا، البتہ اگر شوہرنے کہا میں نے طلاق دے دی ہے یا خلع کیا ہے تو طلاق واقع ہوجائے گی ،اگر شوہر نے کورٹ میں کاغذ پیش کرکے دنیا والے حاکموں کے یہاں معافی کا فیصلہ کرالیا تووہ معتبر نہ ہوگا اور روز جزاء اللہ کے حضور میں جب پیشی ہوگی تو اس مال کے عوض نیکیاں دینی ہوں گی یا عورت کے گناہ اپنے سر پر لینے ہوںگے۔

یہ سب تفصیل ہم نے یہ بتانے کے لئے لکھی ہے کہ خلع دونوں کے درمیان طے ہونے والا معاملہ ہے کوئی ایک فریق خود سے فیصلہ نہیں کر سکتا۔

 دورحاضر کے حکام کا خلع اور فسخ نکاح کے بارے میں غیر شرعی طریق کار:

آج کل کے حکام نے جو یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ جہاں عورت نے استغاثہ کیا نکاح فسخ کرنے کا فیصلہ دے دیا اور اس کا نام خلع رکھ دیا، یہ سراسر غیر شرعی طریقہ ہے۔ بعض مرتبہ شوہر تک سمن پہنچتا بھی نہیں یا وہ حاضر عدالت ہوتا ہے اور بیوی کو بیوی کی طرح ادائیگی حقوق کے ساتھ رکھنا چاہتا ہے پھر بعض حکام نکاح فسخ کردیتے ہیں اور عورت کی ناپسندیدگی ہی کو حق خلع استعمال کرنے کی دلیل بنا کر جدائی کا فیصلہ کردیتے ہیں یہ طریق کار یورپ کے قوانین سے تو جوڑ کھاتا ہے مگر شریعت کے بالکل خلاف ہے یہ نہ تو شرعی خلع ہے(کیونکہ فیصلہ مرد کی مرضی کے بغیر کردیاجاتا ہے) اور نہ اس طرح فسخ کردینے سے نکاح فسخ ہوتا ہے اور ایسے فیصلہ کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرنا درست نہیں ہوتا۔

 بعض حالات میں حاکم مسلم کو نکاح فسخ کردینے کا حق ہے مگر مخصوص اسباب اور مخصوص طریقہ کار کے بغیر فسخ کردینے سے نکاح فسخ نہیں ہو سکتا جن اسباب کی وجہ سے نکاح فسخ کرنے کا اختیار ہے وہ یہ ہیں:

۱)شوہر کا پاگل ہونا۔

۲)متعنت ہونا(جونان نفقہ نہ دے)

 ۳) نامرد ہونا

۴)مفقودالخبر(گم شدہ) ہونا، جس کی موت وحیات کا پتہ نہ ہو۔

۵)غائب غیر مفقود ہونا جس کی زندگی کا علم تو ہو مگر پتہ نہیں کہ کہاں ہے ،ان اسباب کی بنیاد پر مخصوص شرائط اور حدودوقیود کے ساتھ مسلم حاکم نکاح فسخ کرسکتا ہے جو کتاب ’’الحیلۃ الناجزہ‘‘ میں لکھی ہیں۔ واضح رہے کہ کافر جج (قادیانی یا عیسائی وغیرہ) کے فسخ کرنے سے نکاح فسخ نہ ہوگا اگر چہ اسباب و شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے فسخ کرے۔

عدت طلاق اور عدت وفات کے مسائل

حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابیہ سبیعہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ان کے شوہر کی وفات کے چند دن کے بعد بچہ تولد ہوگیا۔ وہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ( چونکہ تولد ہوجانے کی وجہ سے عدت ختم ہوچکی تھی) اس لیے انہوں نے کسی دوسرے مردسے نکاح کی اجازت چاہی چنانچہ آپﷺ نے اجازت دے دی اور انہوں نے نکاح کرلیا۔(مشکوٰۃ المصابیح: ص ۲۸۸ بحوالہ بخاری)

جب کوئی مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے یا مرجائے تو عورت پر عدت گزارنا لازمی ہوتا ہے یعنی شریعت کے اصول کے مطابق مخصوص و مقرر ایام گذر جانے تک اسے کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اس کے علاوہ بھی عدت کے دوران کچھ اور پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں ۔حدیث بالا میں مدت سے متعلق ایک مسئلہ ذکر فرمایا ہے جس کی تشریح ابھی آجاتی ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

جب کسی عورت کو طلاق ہوجائے تو دیکھا جائے گا کہ یہ شوہر کے یہاں گئی ہے یا نہیں گئی ہے اگر شوہر کے یہاں نہیں گئی یعنی میاں بیوی میں یکجائی نہیں ہوئی اور صرف نکاح کے بعد طلاق ہوگئی تو ایسی عورت پر کوئی مدت لازم نہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

’’اے ایمان والو! تم جب مسلمان عورتوں سے نکاح کرو، پھر تم ان کو قبل ہاتھ لگانے کے طلاق دے دو تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں جس کو تم شمار کرنے لگو تو ان کو کچھ متاع دے دو اور خوبی کے ساتھ ان کو رخصت کردو۔( الا حزاب:۴۸)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor