Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 599)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 599)

مسئلہ: اگر کسی عورت سے اس شرط پر نکاح کیا تھا کہ مہر نہ ملے گا یا نکاح کے وقت مہر کا کوئی تذکرہ نہ ہوا اور پھر میاں بیوی والی یکجائی ہونے سے پہلے طلاق دے دی تو شوہر پر لازم ہے کہ اس عورت کو چار کپڑوں کا ایک جوڑا اپنی حیثیت کے مطابق دے۔ کپڑے یہ ہیں ایک کرتہ، ایک پاجامہ، ایک دوپٹہ اور ایک بڑی چادر جس میں سر سے پائوں تک لپٹ سکے اور اگر مہر مقرر کیے بغیر نکاح کرنے کے بعد شوہر کو میاں بیوی والی تنہائی حاصل ہوگئی یا وہ مرگیاتو مہر مثل دینا ہوگایعنی اتنا مہر دینا ہوگا جتنا اس عورت کے میکے کی اس جیسی عورتوں کا مہر ہوا کرتا ہے۔ اس جیسی حسن وجمال اور عمر اور دینداری اور سلیقہ مندی وغیرہ میں دیکھی جائے گی یہ مسئلہ مہر کے باب سے متعلق ہے۔ لیکن ہم نے نان نفقہ کے ذیل میں اس لیے لکھ دیا ہے کہ کپڑے کا جوڑا جس صورت میں دینا پڑتا ہے وہ سامنے آجائے اور جس صورت میں کپڑوں کے علاوہ اور کچھ واجب ہو تا ہے اس کا بھی علم ہوجائے۔

مسئلہ:جب کسی عورت کوطلاق ہوجائے یا شوہر وفات پاجائے اس کی عدت اسی وقت سے شروع ہوجاتی ہے اگر ایام عدت گذرنے کے بعد عورت کو طلاق یا شوہر کی موت کا پتہ چلا تو شرعاً عدت گذر گئی، مزید عدت گزارنا لازم نہیں۔

مسئلہ:اگر کسی ایسی عورت کو طلاق ہوئی جسے حیض آناشروع نہ ہوا تھا، اس کی وجہ سے مہینوں کے حساب سے عدت گزارنے لگی، پھر تین ماہ گزارنے سے پہلے حیض آگیا تو اب اس کی عدت تین حیض ہوگی ، مہینوں کا حساب ختم ہو جائے گا، جب تین حیض پورے ہوجائیں اس وقت عدت ختم ہوگی۔

 مسئلہ: حیض کے زمانہ میں طلاق دینا جائز نہیں ہے اگر کسی نے شریعت کا خیال نہ کیا اور حیض کے زمانہ میں طلاق دے دی تو واقع ہوجائے گی اور اس کی عدت بھی تین حیض ہوگی اور یہ تین حیض اس حیض کے علاوہ ہوںگے جس میں اس نے طلاق دی ہے یعنی جس حیض میں طلاق دی گئی ہے وہ حیض عدت میں شمار نہیں ہوگا۔

 مسئلہ: کسی نے اپنی بیماری کے زمانہ میں طلاق بائن دے دی اور طلاق کی عدت ابھی پوری نہیں ہونے پائی تھی کہ وہ مرگیا تو دیکھا جائے گا کہ طلاق کی عدت کی مدت زیادہ ہے یاموت کی عدت کی مدت زیادہ ہے جس عدت میں زیادہ دن لگیں گے وہ عدت پوری کرے اور اگر بیماری میں طلاق رجعی دی ہے اور ابھی عدت طلاق کی نہ گذری تھی کہ شوہر مرگیا تو اس عورت پر وفات کی عدت لازم ہے۔

عدت کے ایام میں سوگ کرنا بھی واجب ہے

 حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور پر نورﷺ نے ارشاد فرمایا: جس عورت کا شوہر وفات پاگیا وہ( عدت گذرنے تک) عصفر سے رنگا ہوا اور خوشبو والی مٹی سے رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے اور زیور بھی نہ پہنے اور خضاب بھی نہ لگائے اور سرمہ نہ لگائے۔( مشکوٰۃ المصابیح :ص ۲۸۹ بحوالہ ابودائود و نسائی)

 جب عورت کو طلاق ہوجائے یا اس کا شوہر وفات پاجائے تو عدت ختم ہونے تک اس کواسی گھر میں رہنا ضروری ہے جس میں شوہرکے نکاح میں ہوتے ہوئے آخر وقت تک رہا کرتی تھی، اس گھر کو چھوڑ کر دوسرے گھر میں جانا جائز نہیں ہے۔ بہت سی عورتیں شوہر کی موت ہوتے ہی میکہ چلی جاتی ہیں یہ خلاف شرع ہے اور گناہ ہے نہ اس کو جانا جائز نہ سسرال والوں کو اس کا نکالنا درست ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ لاتخرجوھن من بیوتھن ولایخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ

البتہ جو عورت بیوہ ہوگئی ہو اور اس کے نان نفقہ کا کچھ انتظام نہ ہو توکسی کام کاج کر کے روزی حاصل کرنے کے لیے گھر سے باہر جا سکتی ہے لیکن سورج چھپنے سے پہلے پہلے اس گھر میں آجائے جس گھر میں شوہرکے ساتھ رہتی تھی۔ عدت کے دوران گھر میں رہتے ہوئے کسی ایک کوٹھری یا کمرے میں بیٹھے رہنا ضروری نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی مسئلہ ہے جیسا کہ عورتیں سمجھتی ہیں( بلکہ گھر میں رہتے ہوئے پورے گھر میں چلے پھرے اس پر کچھ پابندی نہیں)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor