Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 600)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 600)

جس عورت کو رجعی طلاق ملی ہو عدت کے ایام میں اس کو بھی گھر سے نکلنا درست نہیں ہے وہ بھی شوہر کے گھر میں عدت گزارے، جو عورت عدت میں ہو گھر سے نکلنے کی پابندی کے ساتھ اس پر شرعاً سوگ کرنے کی پابندی بھی عائد کی گئی ہے، زیب و زینت اور بنائو سنگھار ترک کرنے کو سوگ کہتے ہیں ۔حدیث بالا میں سوگ کے بعض مسائل بتائے گئے ہیںسوگ کے احکام جہاں ایسی عورت پر عائد ہوتے ہیں جس کا شوہر وفات پاگیا ہو اس عورت کو بھی اس کی ہدایت کی گئی ہے جس کو طلاق بائن دی گئی ہو یا طلاق مغلظہ مل گئی ہو خلاصہ یہ کہ جس عورت کا شوہر وفات پاگیا ہو اور جسے ایسی طلاق ملی ہو جس کے بعدرجوع نہیں ہو سکتا اس پر عدت کے دوران سوگ کرنا بھی لازم ہے۔ جب عدت ختم ہوجائے سوگ ختم کردے۔ چونکہ عدت کے زمانہ میں کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا درست نہیں اور بنائو سنگھار کی ضرورت شوہر کے لیے ہوتی ہے اس لیے زمانہ عدت میں سوگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سوگ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عورت ایسا لباس اور ایسا رنگ ڈھنگ اختیار نہ کرے جس سے اس کی طرف مردوں کی طبیعت راغب ہو، لہٰذا عدت گزارنے والی کے لیے( جس پر سوگ واجب ہو) یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ بھڑک دار کپڑے نہ پہنے، خوشبو نہ لگائے، خوشبو میںرنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے، زیور استعمال نہ کرے، باریک دانتوں کی کنگھی سے بال نہ سلجھائے اور سر میں تیل نہ ڈالے اور سرمہ نہ لگائے، سردھونا اور غسل کرنا درست ہے لیکن خوشبو دار صابن وغیر ہ استعمال نہ کرے، اگر سر میں درد ہونے کی وجہ سے تیل ڈالنے کی ضرورت پڑے تو بے خوشبو کا تیل ڈال دے لیکن مانگ پٹی نہ نکالے۔

جس عورت پر سوگ کرنا واجب ہے اسے پان کھا کر منہ لال کرنا اور دانتوں پر مسی ملنا، پھول پہننا،مہندی لگانا، ہونٹ اور ناخن پر سرخی لگانا درست نہیں۔

 مسئلہ:سوگ کرنا شرعی حکم ہے شوہر کے مرنے یا طلاق و خلع کے ذریعہ اس سے چھٹکارا حاصل ہونے سے اگر عورت کو طبعی طور پر خوشی بھی ہوئی ہو تب بھی سوگ کرنا واجب ہے۔

مسئلہ:اگر کورٹ کے ذریعہ نکاح فسخ کردیا ہو( اور وہ شرعی اصول کے مطابق فسخ ہوگیا ہو) تو ایسی عورت پر بھی عدت اور سوگ واجب ہے۔

 مسئلہ:اگر نابالغ لڑکی کو طلاق مل گئی یا اس کا شوہر مرگیا تو اس پر سوگ واجب نہیں ہے۔

 مسئلہ:جس عورت کو طلاق بائن یا طلاق مغلظہ ملی ہو اس پر یہ بھی واجب ہے کہ زمانہ عدت میں طلاق دینے والے شوہر کے گھر پر رہتے ہوئے اس سے پردہ کرے اور جس کو طلاق رجعی ملی ہو وہ زیب و زینت سے رہے سوگ نہ کرے۔

زمانہ جاہلیت میںعدت کیسے گزاری جاتی تھی

حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہاکا بیان ہے کہ ایک صحابی خاتون حضور اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری لڑکی کا شوہر فوت ہوگیاہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے کیاہم اس کی آنکھ میں سرمہ لگا سکتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: نہیں، دو یا تین بار یہی سوال وجواب ہوا آپ ﷺنے ہر بار یہی فرمایا کہ نہیں لگا سکتے۔ اس کے بعد رحمت عالمﷺ نے فرمایا کہ( شریعت اسلام میں) یہ عدت اور سوگ کے چارماہ اور دس دن ہیں( اس کی پابندی مشکل معلوم ہو رہی ہے) حالانکہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو پورے ایک سال عدت گزارتی تھی اور ایک سال ختم ہو کر دوسرا سال لگتا تو( اونٹ وغیرہ کی ) مینگنیاں پھینکتی تھی۔( مشکوٰۃ المصابیح: ص ۲۸۸ بحوالہ بخاری ومسلم)

اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں مختلف علاقوں اور مختلف قوموں میں شوہر کے مرجانے پر ان کی بیوہ پر طرح طرح کے احکام عائد کیے جاتے تھے یہ احکام مذہبی بھی ہوتے تھے اور ملکی وقومی بھی ۔ہندوستان کے ہندوئوں میں تویہ قانون تھا کہ بیوہ کو اپنے مردہ شوہر کے ساتھ ہی زندہ جل جانا پڑتا تھا اس کو ستی ہونا کہتے تھے اور عرب میں یہ طریقہ تھاکہ جب عورت کا شوہر مرجاتا تو ایک سال کے لیے بڑاکٹھن ہوتا تھا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor