Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 601)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 601)

جس کی تفصیل سنن ابو دائود میں اس طرح مروی ہے :

 ’’جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تھا تو سال بھر کے لیے ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں داخل ہوجاتی تھی اور بدترین کپڑے پہن لیتی تھی اور سال گذرنے تک نہ خوشبو لگاتی نہ اور کوئی چیز(صفائی ستھرائی کی) اپنے بدن سے چھواتی تھی، جب سال ختم ہوجاتا تو کوئی چارپایہ گدھا، بکری یا پرندہ اس کے پاس لایا جاتا تھا جس سے وہ اپنی شرم کی جگہ کورگڑتی تھی۔ چونکہ سال بھر تک بدحالی میں رہ کر اس کے بدن میں زہریلے اثرات پیدا ہو جاتے تھے اس لیے جس جانور سے اپنے جسم کا مخصوص حصہ رگڑتی تھی اکثر مرجاتا تھا اس کے بعد( کوٹھڑی سے ) نکلتی اور اس کو اونٹ وغیرہ کی مینگیاں دی جاتی تھیں وہ ان مینگنیوں کو آگے پیچھے پھینکتی تھی ،ا س سے لوگوں کو معلوم ہوجاتا تھا کہ اس کی عدت گذر گئی ہے اور اس سے یہ فال لینا بھی مقصود تھا کہ مصیبت پھینک دی جیسا کہ یہ مینگنیاں پھینکی جا رہی ہیں ۔ اس کے بعد اپنی مرضی کے مطابق خوشبو وغیرہ استعمال کرتی تھی ۔( سنن ابو دائود با ب احد اد المتوفی عنہا زوجہا)

حضور اقدسﷺ نے جاہلیت کی یہ پابندی یاددلائی اور فرمایا کہ اسلام نے صرف چار ماہ دس دن تک عدت اور سوگ رکھاہے جاہلیت کی کیسی کیسی مصیبتوں سے تمہاری جان چھڑائی ہے پھر بھی تم اسلام کے قانون کی پاسداری سے بچنے کا راستہ نکالنا چاہتی ہو۔

 اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنکھ میں تکلیف ہونے کے باوجود حضوراقدس ﷺ نے عدت والی کو سوگ میں سرمہ لگانے کی اجازت نہ دی۔ حدیث کی شرح لکھنے والے عالموں نے بتایا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت کا علاج سرمہ کے بغیر ہو سکتا تھا اور سرمہ بطور زینت لگانا چاہتی تھی اس لیے منع فرمایا کیونکہ حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کا فتویٰ ہے( جو سوگ والی احادیث کی راوی ہیں) کہ سوگ والی عورت علاج کی مجبور ی سے رات کو سرمہ لگا سکتی ہے۔

عورت بیوہ ہوجائے تو دوسرا نکاح کرلے اس کو عیب سمجھنا جہالت ہے

 ہندوئوں میں یہ عیب سمجھا جاتا تھا کہ شوہر کی موت کے بعد عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرے، ہر وقت کا جلاپا اور ساس نندوں کے طعنے اسے باعزت زندگی گزارنے نہ دیتے تھے، مذہبی قانون  اور قومی رواج کے مطابق بے شوہر پوری زندگی گزارنا لازم تھا۔ اگر چہ تیرہ سال کی لڑکی بیوہ ہوجائے اور چونکہ شوہر کی ارتھی کے ساتھ جلنا مذہبی مسئلہ تھا اور سب نفرت و حقارت کا برتائو کرتے تھے، اس لیے لامحالہ وہ شوہر کی ارتھی میں کود پڑتی تھی اور زندہ جل جانے کو نفرت کی زندگی پر ترجیح دیتی تھی۔ اس کے بالکل بر عکس اسلام نے نہ صرف اجازت دی بلکہ ترغیب دی اور مستحب ومستحن بلکہ بعض حالات میں واجب قرار دیا کہ عدت گزارنے کے بعد عورت دوسرے مرد سے نکاح کرلے وہ مرجائے تو تیسر اشوہر کرلے وہ بھی مرجائے تو چوتھے مرد کی زوجیت میں آجائے، حضور اقدسﷺ نے اس پر عمل کر کے دکھایا ، آپﷺ کی اکثر بیویاں بیوہ تھیں جن کے پہلے شوہرفوت ہو چکے تھے ان میں بعض وہ تھیں جو آپ سے پہلے دوشوہروں کے نکاح میں رہ چکی تھیں۔ آج کل بھی بعض قوموں میں( جو مسلمان کہلاتی ہیں) بیوہ کی دوسری شادی کو عیب سمجھاجاتا ہے اور جو بیوہ ہوجائے زندگی بھر یوں ہی بلا شوہر بیٹھی رہتی ہے خداکی پناہ اللہ کے رسولﷺ نے جو کام کیا ہوا سے عیب سمجھنا بہت بڑی جہالت ہے۔ اس سے ایمان سلب ہوجانے کا خطرہ ہے جن لوگوں کے ایسے خیالات ہیں توبہ کریں۔

 اسلام نے عورت کو بڑا مرتبہ دیا اور اس کو اعزاز و اکرام سے نوازا ہے، پستی سے نکال کر اس کو بلندی عطا کی ہے لیکن افسوس  ہے کہ عورتیں اب بھی اسلام کے احکام کو چھوڑ کر( جو سراسر رحمت ہیں) جاہلیت کی طرف دوڑ رہی ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor