Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 602)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 602)

شوہر کے علاوہ کسی کی موت پر سوگ کرنے کا حکم

ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ جب اُمّ المومنین حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کو( ان کے والد) حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر پہنچی تو انہوں نے تیسرے دن خوشبومنگائی جو زردرنگ کی تھی اور اپنی بانہوں اور رخساروں پر ملی اور فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہ تھی( لیکن اس ڈر سے کہ کہیں تین دن سے زائد سوگ کرنے والیوں میں شمار نہ ہوجائوں میں نے خوشبو لگالی) میں نے نبی اکرمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایسی عورت کے لیے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں ہے کہ ( کسی میت پر) تین دن تین رات سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے کہ( اس کی موت ہوجانے ) پر چارمہینہ دس دن سوگ کرے۔( صحیح مسلم ص ۴۸۷ ج۱)

جس کپڑے سے مردوں کو کشش ہوتی ہو اس کو نہ پہنے اور خوشبو، سرمہ، مہندی اور زیب و زینت کی دوسری چیزیں ترک کر نے کو سوگ کہتے ہیں۔ اس کی تفصیل گزشتہ حدیث کے ذیل میں گذرچکی ہے جس عورت کا شوہر مرجائے اس کی عدت حمل نہ ہونے کی صورت میں چار مہینہ دس دن ہے اور حمل ہو تو وضع حمل پر اس کی عدت پوری ہوگی اور دونوں صورتوں میں جب تک عدت نہ گذرے اس پر سوگ کی حالت میں رہنا واجب ہے۔

 کیا شوہر کے علاوہ کسی کی موت پر سوگ کرنے کی گنجائش ہے؟اگر گنجائش ہے تو کتنے دن سوگ کیا جا سکتا ہے؟ حدیث بالا میں اس سوال کا جواب دیا ہے کہ شوہر کے علاوہ دوسرے کسی عزیز قریب( بیٹا، باپ وغیرہ) کی موت پر بھی عورت کو سوگ کرنے کی اجازت ہے لیکن صرف تین دن تین رات تک سوگ کر سکتی ہے اس سے زیادہ سوگ کرنا حلال نہیں ہے جیسا کہ حدیث بالا سے بالکل واضح ہو رہا ہے۔

حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا حضور اقدس ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے تھیں، ان کے والدحضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ تھے جب ان کی وفات کی خبر سنی تو اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دودن کوئی خوشبو نہ لگائی ،پھر تیسرے دن خوشبو منگا کر لگائی اور ارشاد فرمایا کہ مجھے اس وقت خوشبو لگانے کی بالکل کوئی ضرورت نہ تھی لیکن حدیث کی وعید سے بچنے کے لئے خوشبو استعمال کی ہے ایسا نہ ہو کہ خوشبو نہ لگانا سوگ میں شامل ہوجائے اور یہ سوگ تین دن سے آگے بڑھ جائے اس لیے تین دن پورے ہونے سے پہلے ہی خوشبو لگالی تاکہ گناہ کا احتمال ہی نہ رہے۔ ایسا ہی واقعہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو پیش آیا، یہ بھی ازواج مطہرات میں سے تھیں جب ان کے بھائی کی موت کی خبرآئی تو انہوں نے خوشبو منگا کر لگائی اور اس حدیث کی روایت کی جو حدیث حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد کی موت کے بعد( تیسرے دن ) خوشبو لگا کر سنائی۔

 جن حضرات نے حدیث کی تشریحات لکھی ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے جو حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ شوہر کے علاوہ کسی دوسرے عزیز کی موت پر بھی سوگ کرناجائز ہے یعنی واجب تو نہیں ہے جس کے ترک سے گناہ ہو لیکن طبعی طور پر چونکہ عورت کو رنج زیاد ہ ہوتا ہے اس لیے اسے اجازت دی گئی کہ تین دن تک بنائو سنگھار نہ کرے تو ایسا کر سکتی ہے البتہ تین دن کے بعد شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کی موت پر سوگ کرے گی تو گنہگار ہوگی یہ تین دن والی اجازت بھی عورتوں کے لیے ہے مردوں کو سوگ کرنے کی اجازت کسی حدیث سے ثابت نہیں۔

آج کل ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ عمل کرنے کے لیے نبی کریمﷺکے اعمال اور اقوال کو سامنے نہیں رکھاجاتا بلکہ رواج اور طبیعت کے تقاضوں پر چلتے ہیں۔ رنج و غم، سوگ وغیرہ کے سلسلے میں بھی اللہ اور رسول اللہﷺ کی نافرمانیاں ہوتی ہیں، شوہر کی موت پر سوگ کے لیے کہا جاتا ہے تو اس کو برامانتی ہیں بلکہ عدت کے زمانہ میں گھر میں رہنے کی شرعی پابندی کی بھی خلاف ورزی کرتی ہیں اور خود سے سوگ کرنے میں آئیں توشوہر کے علاوہ کسی دوسرے کی موت پر ہفتوں سوگ کرلیں، دینی احکام کو پس پشت ڈالنے کا یہ مزاج بہت برا ہے، اس کی وجہ سے گناہوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے، اللہ جلّ شانہ ہم سب کو اسلام کے حکموں پر چلنے کی اور مرمٹنے کی توفیق دے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor