Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 603)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 603)

یہ سوگ کا سلسلہ محرم کے مہینے میں بڑازور پکڑلیتا ہے، شیعوں کی دیکھا دیکھی بہت سے سنی ہونے کے دعویدار بھی محرم میں سوگوار بن جاتے ہیں۔ اس ماہ میں اور خصوصاً شروع کے دس دنوں میں میاں بیوی والی محبت ترک کردیتے ہیں، کالے کپڑے پہنتے ہیں، بچوں کو بھی سیاہ کپڑے پہناتے ہیں جس کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں، یہ سب جہالت اور گمراہی کے طریقے ہیں، محرم کے مہینے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تھی، اس شہادت کو یاد کر کے لوگ روتے ہیں سینے پیٹتے ہیں، چاقو چھری سے گھائل ہوجاتے ہیں، جھوٹے واقعات بنا بنا کر شعر بناتے ہیں، مرثیے پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ثواب کا کام کررہے ہیں، حالانکہ ان چیزوں میں ہرگز ثواب نہیں ہے بلکہ یہ چیزیں سراسر گناہ ہیں، حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کیوں ہے؟ اسی لیے تو ہے کہ وہ اللہ کے پیارے نبی ﷺ کے پیارے نواسے تھے۔ جب باعث حسین رضی اللہ عنہ کے نانا جان کی ذات گرامی ہے( کہ آپﷺ سے محبت ہونے کی وجہ سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بھی محبت ہے) تو اس محبت کے اظہار میں آنحضرتﷺ کے ارشادات کی کیوں خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

 حضور اقدسﷺ نے تو یہ فرمایا کہ کسی عورت کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ شوہر کے علاوہ کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے اور یہ اجازت بھی صرف عورت کے لیے ہے مرد کے لیے سوگ کرنے کی اجازت نہیں۔ پھر یہ چودہ سو سال گذرجانے کے بعد کیسا سوگ ہو رہا ہے؟ کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے نانا جان ﷺ کے ارشادات کے خلاف چلنے والوں سے خوش ہوںگے؟ کیا ایسے نافرمانوں کے لیے جنہوں نے دین محمدی میں اپنی طرف سے احکام کا اضافہ کردیا حضور شفیع المذنبینﷺ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سفارش کریں گے؟ حدیث شریف میں تو آیا ہے کہ جن لوگوں نے دین محمدی میں ادل بدل کردیا ان کو حوض کوثر سے ہٹا دیا جائے گا اور رحمۃ للعالمینﷺ فرمائیں گے:

سحقا سحقا لمن غیربعدی

دور ہوں دور ہوں جنہوں نے میرے دین کو بدلا۔( مشکوٰۃ المصابیح: ص ۴۸۸ ج۱)

ملاعلی قاری ؒالموضوعات الکبیر میں لکھتے ہیں :

وقداشتھرعن الروافض فی بلاد العجم من الخراسان و العراق بل فی بلاد ماوراء النھر منکرات عظیمۃ من لبس السواد و الدوران فی البلاد وجرح رؤسھم و ابدانھم بانواع من الجراحۃ ویدعون انھم محبوا اھل البیت وھم بریئون منھم( صفحہ ۱۰۵ مجتبائی)

اور رافضیوں میں بلاد عجم کے اندر مثلا ً خراسان،عراق اور ماوراء النہر کے شہروں میں بڑے بڑے گناہوں کے کام رواج پائے ہوئے ہیں مثلاً کالے کپڑے پہنتے ہیں اور شہروں میں گھومتے ہیں اور اپنے سروں اور جسموں کو مختلف طریقوں سے زخمی کرتے ہیں اور اس کے مدعی ہوتے ہیں کہ یہ حضرات اہل بیت رضی اللہ عنہم سے محبت کرنے والے ہیں حالانکہ وہ ان سے بیزار ہیں۔

اسلام میں مرد کے لیے سوگ کسی موقع پر بھی مشروع نہیں

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

ویکرہ للرجل تسوید الثیاب و تمزیقھا للتعزیۃ (عالمگیری طبع مصرص ۱۶۷)

 یعنی تسلی کے عنوان سے مردوں کو کالے کپڑے پہننا اور ان کو پھاڑ ناجائز نہیں ہے۔

 ایک حدیث میں ہے کہ سرکار دوجہاںﷺ نے ارشاد فرمایا:

انا بریٔ ممن خلق وصلق وخرق (مشکوٰۃ المصابیح ص ۱۵۰ ج۱)

ترجمہ:میں اس سے بیزار ہوں جو( کسی کی وفات پر اظہار رنج کے لیے) سرمنڈائے اور شور مچائے اور کپڑے پھاڑے۔

 کپڑے پھاڑنا مردوعورت ہر ایک کے لیے حرام ہے۔

 سب جانتے ہیں کہ خدائے پاک کے آخری رسول سرور عالم سیدنا محمد رسول اللہﷺ کامل دین دے کردنیا سے تشریف لے گئے۔ اللہ جلّ شانہ کا ارشاد ہے:

الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا( المائدہ)

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنا انعام پورا کردیا اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کرلیا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor