Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 604)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 604)

چونکہ اسلام دین کامل ہے اس لیے اس میں حرام حلال کی مکمل تفصیلات موجود ہیں اور ثواب و عذاب کے کاموں سے پوری طرح آگاہ فرمادیا گیا ہے اور زندگی گزارنے کے پورے طریقے بتادئیے ہیں اور زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں ہدایات دے دی گئی ہیں، اب کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ دین میں اضافہ کردے یا حلال کو حرام قرار دے دے یا حرام کو حلال کردے۔ خدا کی شریعت میں مردوں کے لیے سوگ نہیں اور عورتوں کے لیے شوہر کی وفات پر صرف چار ماہ دس دن سوگ کرنا واجب ہے اور کسی دوسرے عزیز کی موت پر صرف تین دن تک عورت کو سوگ کرنا جائز ہے۔ پھر حکم شرعی سے آگے بڑھ کر مردوں کو سوگ کرنا اور سوگ کے کپڑے پہننا یا عورت کو مندرجہ بالا تفصیل کے خلاف سوگ کرنا دین میں کہاں سے داخل ہوگیا؟شریعت اسلامیہ میں محرم میں میاں بیوی کے ملاپ پر یا اچھے کپڑے پہننے یا مہندی لگانے یا اور کسی طرح کی زیب و زینت اختیار کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی تو یہ پابندی اپنی طرف سے کیوں لگالی، اللہ پاک نے جو کچھ حلال قرار دیا اس کو کیوں حرام کیا؟ قرآن وحدیث کی ہدایت چھوڑ کر گمراہی میں کیوں لگے؟

 قرآن مجید میں ارشاد ہے:

قل ارئیتم ماانزل اللّٰہ لکم من رزق فجعلتم منہ حراما و حلالا قل اللّٰہ اذن لکم ام علی اللّٰہ تفترون( سورۃ یونس)

آپ فرمادیجئے کہ یہ تو بتلائو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دے لیا آپ پوچھئے کہ کیا تم کو خدا نے حکم دیا ہے یا اللہ پر افتراء کرتے ہو۔

اس آیت میں اس کی مذمت کی گئی ہے کہ اپنی جانب سے حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرلیا جائے۔

اور اللہ جلّ شانہ کا ارشاد ہے:

ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام لتفترواعلی اللّٰہ الکذب ان الذین یفترون علی اللّٰہ الکذب لا یفلحون

اور جن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا جھوٹازبانی دعویٰ ہے ان کی نسبت یوں مت کہہ دیا کرو کہ فلانی چیز حلال ہے اور فلانی چیز حرام ہے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگادوگے بلاشبہ جو لوگ اللہ پرجھوٹ لگاتے ہیں وہ فلاح نہ پائیں گے۔(سورۃ نحل)

اس آیت میں بھی اس بات کی مذمت کی گئی ہے کہ اپنی جانب سے حلال و حرام تجویز کرلیا جائے، جو چیز اللہ جلّ شانہ کی جانب سے حلال ہے وہ حلال ہی رہے گی محرم کا مہینہ ہو یا کوئی بھی دن ہو اورجو شے حرام ہے حرام ہی رہے گی ،بندوں کو حلال یا حرام قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں، اللہ جلّ شانہ سمجھ دے اور عمل کی توفیق دے۔

 طلاق ہوجائے تو بچوں کی پرورش کون کرے

 حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا: یارسول اللہ! بے شک یہ جو میرا بیٹا ہے میرا پیٹ اس کے لیے برتن رہ چکا ہے اور میر ی چھاتی اس کے لیے مشکیزہ رہی ہے ( جس سے یہ دودھ پیتا رہا ہے) اور میری گود اس کے لیے حفاظت کی جگہ رہی ہے اور اب ماجرا یہ ہے کہ اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اس کو مجھ سے علیحدہ کرنا چاہتا ہے اس کے جواب میں حضورﷺ نے فرمایا: تو اس کی پرورش کی زیادہ مستحق ہے جب تک تو نکاح نہ کرلے۔( مشکوٰۃ المصابیح: ص ۲۹۳ بحوالہ احمد وابی دائود)

اللہ جلّ شانہٗ نے انسانوں میں توالداور تناسل کا سلسلہ جاری رکھا ہے بچے ناتواں،ناسمجھ اور ضعیف البنیان پیدا ہوتے ہیں، ان کی پرورش اور پرداخت ماں باپ کے ذمہ کردی گئی ہے وہ شرعاً بھی ان کی پرورش کے مکلف ہیں اور طبعی طور پر مامتا ہونے کی وجہ سے خود بھی پرورش کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، عموماً یہی ہوتا ہے کہ بچے ماں باپ کے سایہ میں پلتے بڑھتے اور پھلتے پھولتے ہیں لیکن کبھی شریعت اسلامیہ کے مزاج کے خلاف میاں بیوی جدائی کا کام کر بیٹھتے ہیں یعنی دونوں علیحدگی چاہنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے طلاق ہو جاتی ہے یا شوہر اپنی نا سمجھی سے طلاق دے بیٹھتا ہے یا حدود اللہ پر قائم نہ رہ سکنے کی وجہ سے طلاق دے دینا ہی مناسب معلوم ہوتا ہے اگر ایسا ہوجائے تو اس میں جہاں اور کئی قسم کی تکلیفیں سامنے آتی ہیں ان میں بچوں کی پرورش کا مسئلہ بھی ایک مصیبت بن جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ نے اس کے بارے میں بھی ہدایات دی ہیں اور احکا م بتائے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor