Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 605)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 605)

اوپر کی حدیث میں اسی طرح کا ایک واقعہ مذکور ہے کہ ایک عورت نے سرور عالم ﷺ نے عرض کیا کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اب وہ میرے بچے کو چھیننا چاہتا ہے جس کے لیے میں نے بڑی تکلیفیں اُٹھائیں، ایک عرصہ تک اسے پیٹ میں رکھا اور بہت دن تک اسے دودھ پلایا اور گود میں لیا ،اس کی پرورش کی اور تکلیفوں سے بچایا، میرا دل نہیں چاہتا کہ اسے اپنے سے جدا کروں لیکن اس کا باپ میرے پاس رکھنے کو تیار نہیں، اس کے جواب میں حضورﷺ نے فرمایا: اس کی پرورش کی تو ہی زیادہ مستحق ہے جب تک کہ تو نکاح نہ کرلے۔

جب میاں بیوی میں جدائی ہوجائے اور رجوع کی کوئی صورت نہ بن سکے یا ایسی طلاق ہوجائے جس میں شرعاً رجوع نہیں ہو سکتا یا دوبارہ نکاح کرنے پر فریقین راضی نہ ہوں یا شرعاً دوبارہ نکاح نہ ہو سکتا ہو لامحالہ میاں بیوی علیحدہ ہوجائیں گے۔ اس صورت میں اولاد کی پرورش کے لیے حضوراقدس ﷺ نے یہ ضابطہ بتلایا ہے کہ بچے کی ماں پرورش کی زیادہ مستحق ہے بشرطیکہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ حدیث کی شرح لکھنے والے عالموں نے بتلایا ہے کہ اگر عورت بالکل کسی سے نکاح نہ کرے تو اسے حق پرورش ملے گا اور اگر کسی ایسے شخص سے نکاح کرلے جو بچہ کامحرم ہو مثلاً بچہ کا چچا ہو تب بھی ماں کا حق پرورش ساقط نہ ہوگا، کیونکہ بچہ کا محرم خود اس کو پیار محبت سے رکھے گا اور اس کے نکاح میں جانے کے بعد بچہ کی ماں اس کی دیکھ بھال میں لگے گی تو نئے شوہر کو ناگواری نہ ہوگی، البتہ اگر بچہ کی ماں کسی ایسے شخص سے نکاح کر لے جو بچہ کا محرم نہ ہو تو اس کا حق پرورش ساقط ہوجائے گا کیونکہ وہ شخص اس کی پرورش میں لگنے پر معترض ہوگا اور یہ کہہ سکتا ہے کہ تو میرے حقوق ادا نہیں کرتی یا میرے حقوق میں اس کی پرورش کی وجہ سے فرق آتا ہے،ممکن ہے کہ وہ بچہ کوٹیڑھی نظر سے دیکھے اور بچہ کو ڈانٹ ڈپٹ کرے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی پہلی بیوی سے جو اولاد ہو یا اس بیوی سے جو اولاد ہوجائے اس کی محبت کے سامنے اس بچہ سے کسی قسم کی کلفت محسوس کرے، ان جیسی حکمتوں کی وجہ سے ماں کا حق پرورش اس صورت میں ساقط کردیا گیا جبکہ وہ بچہ کے نامحرم سے نکاح کرلے۔

ماں کو جو حق پرورش دیا جاتا ہے وہ اس کا حق ہے اگر وہ اپنا حق استعمال کرنا نہ چاہے تو اس کو مجبور نہیں کر سکتے کہ ضرور پرورش کرے ہاں اگر کوئی اور عورت پرورش کرنے والی نہ ملے تو اس کی ماں کو مجبور کیا جائے گا کہ اس کی پرورش کرے اور اگر ماں نے حق پرورش ساقط کردیا تو شرعاً جتنی مدت پرورش کرنے کا حق رکھا گیا (جس کی تفصیل آگے آئے گی) اس مدت کے اندر اندر پھر اپنا حق لے سکتی ہے، یعنی پرورش کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

اسی طرح جب بچے کے نامحرم سے نکاح کرنے کی وجہ سے حق پرورش ساقط ہوگیا اوراس کے بعد دوسرے شوہر سے جدائی ہوجائے تو پھر حق پرورش کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

 مسئلہ:جس زمانہ میں بچہ کی ماں طلاق کے بعد عدت گزار رہی ہو اس زمانے میں جو بچہ اس کی پرورش میں ہو اس کے دودھ پلانے کی اجرت نہ لے۔ البتہ عدت گذرنے تک شوہر پر معتدہ ( عدت گزارنے والی) ہونے کی وجہ سے اس کا نان نفقہ واجب ہے۔

 مسئلہ:اگر طلاق کے بعد عدت گذر گئی تو بچہ کی ماں کو اس کے باپ سے دودھ پلانے کی اجرت طلب کرنے کا حق ہے اور اس صورت میں باپ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ یوں کہے کہ جب اجرت دینا ہی ہے تو میں کسی دوسری عورت سے اجرت پر دودھ پلوالوں گا( چونکہ جوشفقت ماں کو ہو سکتی ہے دوسری عورت کو نہیں ہو سکتی ہاں اگر دوسری عورت ماں سے کم اجرت پر راضی ہو تو ماں کو یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ بچہ کو خود دودھ پلائے اور اجرت زیادہ لے۔ البتہ ماں کو اتنا حق ہے کہ دودھ پلانے والی عورت کو اپنے پاس رکھے تاکہ بچہ سے جدائی نہ ہو اگر کوئی ماں دودھ پلانے پر رضامند ہو لیکن اس کا دودھ بچہ کے لیے مضر ہو تو باپ دوسری عورت سے دودھ پلواسکتا ہے۔

مسئلہ:اگر ماں کہے کہ میں اسے دودھ نہیں پلاتی تو اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا ہاں اگر بچہ کسی اور عورت کا دودھ قبول نہ کرے تو ماں پر واجب ہوگا کہ اسے دودھ پلائے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor