Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 606)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 606)

مسئلہ:اگر بچہ کی ماں مرجائے یا حق پرورش استعمال نہ کرنا چاہے یعنی بچہ کو اپنی پرورش میں لینے سے انکار کردے یا کسی وجہ سے اس کا حق پرورش ساقط ہوجائے تو اس صورت میں پرورش کا حق نانی کو پہنچتاہے، اگر نانی نہ ہو یا موجود تو ہو لیکن پرورش سے انکار کردے تو پھر پرنانی کو حق پرورش ملے گا، اگر وہ بھی نہ ہو یا پرورش میں لینے سے انکار کردے تو دادی کو اور اس کے بعد پردادی کو اور اس کے بعد سگی بہنوں کو اور ان کے بعد ماں شریک بہنوں کو اور ان کے بعد باپ شریک بہنوںکو اور اگر ان میں سے کوئی نہ ہو یا حق پرورش استعمال کرنا نہ چاہے تو ماں کی خالہ کو پھر باپ کی خالہ کو حق پرورش پہنچے گا، واضح رہے کہ بچہ خواہ کسی کی بھی پرورش میں ہو بچہ کے اخراجات باپ کے ذمہ ہوںگے۔

مسئلہ:بچے کے رشتہ داروں میں اگر کوئی عورت اس کے لیے نہ ملے تو اب باپ اس کی پرورش کرنے کا مستحق ہے وہ بھی نہ ہو تو پھر دادا کو حق پرورش پہنچتا ہے وہ بھی نہ ہو تو پردادا کو، ان میں سے کوئی نہ ہو تو سگے بھائی کو وہ نہ ہوتو باپ شریک بھائی کو حق پہنچتا ہے وہ بھی نہ ہو تو جب کبھی ایسا واقعہ پیش آئے تو معتبر عالموں سے معلوم کرلیاجائے۔

 مسئلہ :جسے بچہ کی پرورش کا حق پہنچتا ہواسے لڑکے کو سات سال کی عمر ہوجانے تک اور لڑکی کو نو سال کی عمر ہوجانے تک پرورش کا حق ملے گا یعنی اتنی مدت تک اپنے پاس رکھ کر پرورش کرنے کا حق ہے۔

 نومولود بچہ کے کان میں اذان دینا اور اکابر کی خدمت میں لے جاکر تحنیک کرانا

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ میں نے حضور اقدسﷺ کو دیکھا کہ جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو آپﷺ نے ان کے کان میں اذان دی جو اذان نماز کے لیے دی جاتی ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح ص ۳۶۳ بحوالہ ترمذی و ابو دائود)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ( میرے بچہ) عبداللہ رضی اللہ عنہ کا استقرار حمل مکہ ہی کے زمانہ قیام میں ہو گیا تھا پھر اس کی پیدائش(ہجرت کے بعد) قبا میں ہوئی( جوشہر مدینہ سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے) پیدائش کے بعدمیں اس کو لے کر حضور اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس کو میں نے آپﷺ کی گود میں رکھ دیا، اس کے بعد آپ ﷺ نے ایک چھوارہ منگایا اور اس کو چبا کر بچہ کے منہ میں اپنے منہ سے ڈال دیا اور پھر اس کے تالو سے مل دیا، اس کے بعد اس کے لیے دعاء فرمائی اور برکت کی دعاء دی( ہجرت کے بعد مہاجرین میں پیدا ہونے والا) اسلام( کی تاریخ) میں پہلا بچہ تھا۔(مشکوٰۃ المصابیح ص ۳۶۲ بحوالہ بخاری ومسلم)

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن تھیں، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بڑی صاحبزادی تھیں، مکہ ہی میں مسلمان ہوگئی تھیں ، دعوت اسلام کو جن مردوں اور عورتوں نے قبول کیا ان میں ان کا اٹھارہواں نمبر تھا یعنی ان سے پہلے صرف سترہ آدمی مسلمان ہوئے تھے۔

 ان کا نکاح مکہ ہی میں حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے ہو گیا تھا حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے ایسے زمانہ میں ہجرت کی جبکہ ولادت کا زمانہ قریب تھا، مکہ سے مدینہ تک تین سو میل کا سفر کیسی کیسی مشقتوں سے طے کیا ہو گا اللہ ہی کو اس کا علم ہے، سب سے پہلے قباء میں قیام کیا جو مدینہ منورہ سے تین میل دورایک بستی تھی( اب تو وہ ایک شہر کی مانند ہے اور مدینہ منورہ سے قباء تک عمارتیں بنتی چلی گئی ہیں) قباء پہنچیں تو صاحبزادہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے ایسے زمانہ میں ہجرت کی کہ میںشکم مادر میں تھا۔( الاصابہ و الا ستیعاب)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor