Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 618)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 618)

جس کے پاس کوئی یتیم بچہ یا بچی ہو اس پر لازم ہے کہ ان کے مال کو جومیراث میں ملا ہو یا کسی نے ہبہ کیا ہو پوری طرح محفوظ رکھیں اور ان کی واجبی ضرورتوں میں اس میں سے خرچ کرتے رہیں اور باقاعدہ حساب رکھیں۔

یہ تنبیہ ہم نے اس لیے کی ہے کہ بہت سے لوگ یوں سمجھتے ہیں کہ یتیم خانوں میں یتیموں کے لیے جو مال جمع ہوتا ہے بس وہی یتیموں کا مال ہے اور اس میں جو لوگ خرد بردکریں وہی گنہگار ہیں، حالانکہ عام گھروں میں یتیم ہوتے ہیں اور قریب ترین عزیز ان کا مال خردبرد کردیتے ہیں اور اس میں کوئی گناہ نہیں سمجھتے اور چونکہ لڑکیوں کو میراث دینے کا دستور ہی نہیں ہے اس لیے ان کا حصہ تو( بالغ ہوں یا نابالغ) ان کے بھائی ہی ہضم کر جاتے ہیں اور آخرت کے عذاب سے بالکل نہیں ڈرتے ،اللہ تعالیٰ سمجھ دے اور اپنی مرضی کے کاموں پر چلائے۔

 اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں قوی بھی پیدا فرمائے اور ضعیف بھی، مالدار بھی اور نادار بھی اور بہت سے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اُٹھ جاتا ہے اور بہت سی عورتیں شوہر سے محروم ہوجاتی ہیں، ان سب میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہیں، جو لوگ طاقتور ہیں اور جن کے پاس پیسہ ہے ان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں ضعیف اور کمزور و نادار اور مسکین نہیں بنایا اور اس شکریہ میں یہ بھی شامل ہے کہ جو لوگ ضعیف کمزور نادار اور یتیم ہیں، اپاہج اور معذور ہیں، بیکس اور مجبور ہیں، ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں، ان کی خدمت بھی کریں اور ان کی مالی مدد بھی کریں اور اس سب کا ثواب اللہ سے طلب کریں، جس کے ساتھ سلوک کریں، اس سے شکریہ کے بھی امیدوارنہ رہیں، سورئہ دہر میں نیک بندوں کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’وہ لوگ نذر کو پورا کرتے ہیں اور ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی اور وہ لوگ خدا کی محبت کی وجہ سے مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں ہم تم کو محض خدا کی رضامندی کے لیے کھانا کھلاتے ہیں، نہ ہم تم سے بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ ،ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ رکھتے ہیں۔‘‘

 یعنی خواہش اور ضرورت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنا کھانا شوق اور خلوص کے ساتھ مسکینوں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں اور زبان حال سے اور کبھی ضرورت سمجھی تو زبان قال سے کہتے ہیں کہ ہم تم کو صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔ ہمیں ایسے دن کا خوف سوار ہے جو نہایت سخت اور تلخ ہوگا، اخلاص کے باوجود مقبول نہ ہونے کا ڈر ہے، خوف کے ساتھ ہر طرح کی امید اللہ تعالیٰ ہی سے وابستہ رکھتے ہیں۔

 حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اکرمﷺ نے خدائے پاک سے یہ دعامانگی : اے اللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں موت دینااور مسکینوں میں میرا حشر فرمانا۔ یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیوں یارسول اللہ ! آپﷺ نے فرمایا: اس لیے کہ مسکین لوگ مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوںگے( پھر فرمایا کہ) اے عائشہ! مسکین کو( بغیر کچھ دئیے) واپس نہ کرنا( جو کچھ ہو سکے دے دینا) اگرچہ آدھی کھجور ہی ہو( مزید فرمایا کہ) اے عائشہ!( مسکینوں سے محبت کر اور ان کو قریب کر، کیونکہ( اس کی وجہ سے ) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تجھے اپنی نزدیکی کا (بلنددرجہ) عطا فرمائے گا۔( مشکوٰۃ)

اس حدیث میں مسکینوں کو نزدیک کرنے اور ان کی امداد کرنے کا ذکر ہے، غریبوں کا دل تھوڑا ہوتا ہے، اگر ان کے پاس بیٹھا جائے اور ان کی ہمدردی کی جائے تو اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتے ہیں، اس کا پھل دنیا میں بھی اچھا ملتا ہے اور آخرت میں بھی اللہ کی نزدیکی حاصل ہونے کا سبب ہے، مسکینوں میں غرورو تکبر، شیخی بگھارنا، اکڑنا، اترانا نہیں ہوتا، ان کے ساتھ بیٹھنے سے تواضع اور انکساری کی صفت پیدا ہوتی ہے، دنیا میں گو ان کو لوگ حقیر جانیں، مگر آخرت میں اچھے رہیں گے، مالداروں سے برسہا برس پہلے جنت میں پہنچ جائیں گے( بشرطیکہ شریعت کے مطابق زندگی گزارتے ہوں، فرائض کے پابند ہوں، شریعت کی منع کردہ چیزوں سے بچتے ہوں)حضور اقدسﷺ نے اپنے لیے مالداری پسند نہ فرمائی بلکہ مسکین رہنے اور مسکینوں میں حشر ہونے کی دعاء فرمائی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor