Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 620)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 620)

اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور تم ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو، اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، سو ان کو کبھی ’’ہوں‘‘ بھی مت کہنا اور نہ ان کوجھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعاء کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحمت فرمائیے، جیسا انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا ہے۔

اس آیت کریمہ میں حق سبحانہ وتعالیٰ نے اول تو یہ حکم فرمایا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو، شرائع انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کا سب سے بڑا یہی حکم ہے اور اسی حکم کی تعمیل کرانے کے لیے اللہ جلّ شانہٗ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو بھیجا اور کتابیں نازل فرمائیں اور صحیفے اُتارے، اللہ جلّ شانہٗ کو عقیدہ سے ایک ماننا اور صرف اسی کی عبادت کرنا اور کسی بھی چیز کو اس کی ذات و صفات اور تعظیم وعبادت میں شریک نہ کرنا، خداوند قدوس کا سب سے بڑا حکم ہے۔

دوم یہ فرمایا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو، اللہ جلّ شانہٗ خالق ہے اسی نے سب کو وجود بخشا ہے، اسی کی عبادت اورشکر گزاری بہرحال فرض اور لازم ہے اور اس نے چونکہ انسانوں کو وجود بخشنے کا ذریعہ ان کے ماں باپ کو بنایا ہے اور ماں باپ اولاد کی پرورش میں بہت کچھ دکھ تکلیف اُٹھاتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا بھی حکم فرمایا، جو قرآن مجید میں جگہ جگہ مذکور ہے، سورئہ بقرہ میں ارشاد ہے:

اور( وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے قول و قرار لیا، کہ( کسی کی) عبادت مت کرنا، بجزاللہ کے اور ماں باپ کے ساتھ اچھی طرح سے پیش آنا۔

اور سورئہ نساء میں ارشاد ہے:

اور تم اللہ کی عبادت اختیار کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرنا اور والدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرو۔

 سورۂ انعام میں ارشاد ہے:

آپ(ﷺ) فرمادیجئے کہ آئو میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سنائوں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرمایا ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہرائو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کیا کرو۔

 سورۂ بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دے کر ان کے ساتھ تعظیم و تکریم سے پیش آنے کے لیے چند نصیحتیں فرمائی ہیں۔

 اول:یہ کہ ماں باپ دونوں یا ان دونوں میں سے کوئی ایک بوڑھا ہوجائے تو ان کو اُف بھی نہ کہو، مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی ایساکلمہ ان کی شان میں زبان سے نہ نکالو جس سے ان کی تعظیم میں فرق آتا ہویا جس کلمہ سے ان کورنج پہنچتاہو، لفظ اُف بطور مثال کے فرمایا ہے۔’’بیان القرآن‘‘ میں اردو کے محاور کے مطابق اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ان کو’’ہوں‘‘ بھی مت کہو، یوں تو ماں باپ کی خدمت اور اکرام و احترام ہمیشہ ہی لازمی ہے لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے فرمایاکہ اس عمر میں ماں باپ کو خدمت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ،پھر بعض مرتبہ ماں باپ اس عمر میں جا کر چڑچڑے بھی ہوجاتے ہیں اور ان کو بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں، اولاد کو ان کا اُگالدان صاف کرناپڑتا ہے، میلے اور ناپاک کپڑے دھونے پڑتے ہیں جس سے طبیعت بور ہونے لگتی ہے اور تنگ دل ہو کر اُلٹے سیدھے الفاظ بھی زبان سے نکلنے لگتے ہیں، ایسے موقع پرصبر اور برداشت سے کام لینا اور ماں باپ کا دل خوش رکھنا اور رنج دینے والے ذرا سے الفاظ سے بھی پرہیز کرنابہت بڑی سعادت ہے، اگرچہ اس میں بہت سے لوگ فیل ہوجاتے ہیں۔

حضرت مجاہد علیہ السلام نے فرمایا : تو جواِن لوگوں کے کپڑوں وغیرہ سے گندگی اور پیشاب پاخانہ صاف کرتا ہے تو اس موقع پر اُف نہ کہہ جیسا کہ وہ بھی اُف نہ کہتے تھے جب تیرے بچپن میں تیرا پیشاب پاخانہ وغیرہ دھوتے تھے۔ (در منثور)

اُف کہنے کی ممانعت کے بعد یہ پھر فرمایاکہ ان کو مت جھڑکو، جھڑکنا اُف کہنے سے بھی زیادہ برا ہے جب اُف کہنا منع ہے تو جھڑکنا کیسے درست ہو سکتاہے؟پھر بھی واضح فرمانے کے لیے خاص طور سے جھڑکنے کی صاف اور واضح لفظوں میں ممانعت فرمائی ہے۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor