Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 621)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 621)

دوم یہ حکم فرمایا کہ: ’’وقل لھما قولا کریما‘‘ماں باپ سے خوب ادب سے بات کرنا، اچھی طرح باتیں کرنا، لب ولہجہ میں نرمی اور الفاظ میں توقیر وتکریم کا خیال رکھنا، یہ سب’’ قولاکریما‘‘ میں داخل ہیں اور اس کی تفسیر میں بعض اکابر نے فرمایا کہ’’ اذا دعواک فقل لبیکما وسعدیکما‘‘ یعنی جب ماں باپ تجھے بلائیں تو کہنا کہ میں حاضر ہوں اور تعمیل ارشاد کے لئے موجود ہوں۔

حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ نے قولاکریما کی تفسیر میں فرمایا :’’قولالیناسھلا‘‘ کہ نرم لہجہ میں سہل طریقہ پر بات کرو۔

سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: خطا کار زر خرید غلام جس کا آقا سخت مزاج ہو جس طرح اس غلام کی گفتگو آقا کے ساتھ ہوگی، اسی طرح ماں باپ سے بات کی جائے تو قولاکریما پر عمل ہوسکتا ہے ۔(تفسیر درمنثور)

سوم یہ ارشاد فرمایا کہ’’ واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ‘‘ یعنی ماں باپ کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا، اس کی تفسیر میں حضرت عروہؒ نے فرمایا کہ ان کے سامنے ایسی روش اختیار کر کہ ان کی جو دلی رغبت ہو اس کے پورا ہونے میں تیری وجہ سے فرق نہ آئے۔

اور حضرت عطاء بن ابی رباحؒ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ ماں باپ سے بات کرتے وقت نیچے اوپر ہاتھ مت اُٹھانا (جیسے برابر والوں کے ساتھ کرتے ہوئے اُٹھاتے ہیں)

اور حضرت زبیر بن محمدؒ نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ ماں باپ اگر تجھے گالیاں دیں اور برا بھلا کہیں تو تو جواب میں یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔

چوتھی نصیحت یہ فرمائی کہ ماں باپ کے لئے یہ دعاء کرتے رہا کرو :

’’رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا‘‘ کہ اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا اور پرورش کی۔ بات یہ ہے کہ کبھی اولاد حاجت مند تھی جو بالکل نا سمجھ اور ناتواں تھی، اس وقت ماں باپ نے ہر طرح کی تکلیف سہی اور دکھ سکھ میں خدمت کرکے اولاد کی پرورش کی، اب پچاس ساٹھ سال کے بعد صورتحال اُلٹ گئی کہ ماں باپ خرچ اور خدمت کے محتاج ہیںاور اولاد کمانے والی، روپیہ، پیسہ اور گھر بار اور کاروبار والی ہے، اولاد کو چاہیے کہ ماں باپ کی خدمت سے نہ گھبرائے اور ان پر خرچ کرنے سے تنگ دل نہ ہو، دل کھول کر جان ومال سے خدمت کرے اور اپنیبچپن کا وقت یاد کرے اور اس وقت انہوں نے جو تکلیفیں اُٹھائیں ان کو سامنے رکھے اور بارگاہ خداوندی میں یوںعرض کرے کہ اے میرے رب ان پر رحم فرماجیسا کہ انہوں نے مجھے بچپنے میں پالا اور پرورش کیا۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ایک شخص اپنی والدہ کو کمر پر اُٹھائے ہوئے طواف کرارہا تھا، اس نے حضور اکرمﷺ سے عرض کیا کہ کیا میں نے اس طرح خدمت کرکے اپنی والدہ کا حق ادا کردیا؟ آپﷺ نے فرمایا : ایک سانس کا حق بھی ادا نہیں ہوا۔ (تفسیر ابن کثیر: ص ۳۵ ج ۳)

سورۂ لقمان میں ارشاد ہے:

’’ووصینا الانسان بوالدیہ حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصلہ فی عامین ان اشکرلی والوالدیک الی المصیروان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفاواتبع سبیل من اناب الی ثم الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون‘‘

ترجمہ: اور انسان کو ہم نے ماں باپ کے متعلق تاکید کی (کہ ان کی خدمت اور اطاعت کرو، کیونکہ انہوں نے بالخصوص اس کی ماں نے اس کے لئے بڑی مشقتیں جھیلی ہیں چنانچہ) اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے، ان دنوں میں بھی ماں اس کی ہر طرح کی خدمت کرتی ہے اور باپ بھی اپنی حالت کے موافق مشقت اٹھاتا ہے اس لیے ہم نے اپنے حقوق کے ساتھ ماں باپ کے حقوق کے ادا کرنے کا بھی حکم فرمایا کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کیا کر، میری طرف سب کو لوٹ کر آنا ہے اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو تو ان کا کہنا نہ ماننا اور دنیا میں ان کے ساتھ خوبی کے ساتھ بسر کرنا اور اس شخص کی راہ پر چلنا جو میری طرف رجوع ہو، پھر تم سب کو میری طرف آنا ہے، پھر میں تم کو جتادوں گا جو کچھ تم کرتے تھے۔ (ازبیان القرآن)

(جاری ہے )

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor