Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 622)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 622)

ان آیات اور احادیث سے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خدمت کرنے کا حکم واضح طور پر معلوم ہورہا ہے، شادی ہونے کے بعد بہت سے لڑکے اور لڑکیاں ماں باپ کو چھوڑ دیتے ہیں اور بہت سے لڑکے شادی سے پہلے ہی آوارہ گردی اختیار کرنے کی وجہ سے ماں باپ سے منہ موڑ لیتے ہیں، ایسے لوگوں پرلازم ہے کہ توبہ کریں اورماں باپ کی خدمت کی طرف متوجہ ہوں۔

والدین کے حسن سلوک کا کیا مرتبہ ہے

 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ میں نے نبی کریمﷺ سے دریافت کیا : سب کاموں میں اللہ جلَّ شانہٗ کو کون سا کام زیادہ پیارا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: بروقت نماز پڑھنا (جو اس کا وقت مستحب ہو) میں نے عرض کیا: اس کے بعد کون سا عمل اللہ کو سب اعمال سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا:ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا برتائو کرنا، میں نے عرض کیا کہ اس کے بعد کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب اعمال سے زیادہ پیارا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا (سوال وجواب نقل کرکے) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ (میرے سوالات کے جوابات میں) حضور اکرمﷺ نے مجھ سے یہ باتیں بیان فرمائیں اور اگر میں اور زیادہ دریافت کرتا تو آپﷺ برابر جواب دیتے رہتے۔(مشکوٰۃ المصابیح: ص ۵۸ از بخاری و مسلم)

 اس حدیث پاک میں یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ جلّ شانہ ٗکے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل بروقت نماز پڑھنا ہے اور اس کے بعد سب سے زیادہ محبوب عمل یہ ہے کہ انسان اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے، پھر تیسرے نمبر پر جہاد فی سبیل اللہ کو فرمایا، معلوم ہوا کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا جہاد فی سبیل اللہ سے بھی بڑھ کر ہے۔

احادیث شریفہ میں ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک اور اچھا برتائو کرنے کو ’’بِر‘‘ سے اور برے برتائو کو’’ عقوق‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے اور دونوں لفظ والدین کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں سے تعلق رکھنے کے بارے میں بھی وارد ہوئے ہیں ’’بر‘‘ حسن سلوک کو اور ’’عقوق‘‘ بدسلوکی اور ایذاء رسانی کے لئے بولا جاتا ہے۔

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقات شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں کہ ’’بر‘‘ احسان(یعنی اچھی طرح سے پیش آنے) کو کہتے ہیں، جو والدین اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ برتائو کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس کی ضد ’’عقوق‘‘ ہے والدین اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ بری طرح پیش آنے اور ان کے حقوق ضائع کرنے کو عقوق کہا جاتا ہے۔

بر اور عقوق کے علاوہ دو لفظ اورہیں: اول صلۃ الرحم، دوم قطیعۃ الرحم، ملا علی قاریؒ ان کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صلہ رحمی کا مطلب یہ ہے کہ نسبی اور سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے، ان کے ساتھ مہربانی کا برتائو ہو اور ان کے احوال کی رعایت ہو اور قطع رحمی اس کی ضد ہے، جو شخص صلہ رحمی کرتا ہے وہ اس تعلق کو جوڑتا ہے جو اس کے اور اس کے رشتہ داروں کے درمیان ہے، اسی لیے لفظ صلہ استعمال کیا گیا ہے، جو وصل سے لیا گیا ہے اور جو اس شخص بدسلوکی کرتا ہے وہ اس تعلق کو کاٹ دیتا ہے جو اس کے اور رشتہ داروں کے درمیان ہے اس لیے اس کو قطع رحمی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

حسن سلوک میں ماں کا زیادہ خیال رکھا جائے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور اکرمﷺ سے  دریافت کیا کہ (رشتہ داروں میں) میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ اس کے جواب میں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہاری والدہ حسن سلوک کی سب سے زیادہ مستحق ہیں، سائل نے پوچھا: پھر کون؟ آپ ﷺنے فرمایا: تمہاری والدہ، اس نے دریافت کیا: پھر کون؟ آپﷺ نے فرمایا: تمہاری والدہ، سوال کرنے والے نے عرض کیا: پھر کون؟ فرمایا: تمہارا باپ اور ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے والدہ کے بارے میں تین بار فرمایا کہ تیرے حسن سلوک کی سب سے زیادہ مستحق ہے، پھر باپ کا ذکر فرمایاکہ وہ ماں کے بعد سلوک کا سب سے زیادہ مستحق ہے،پھر فرمایا کہ باپ کے رشتہ داروں میں جو سب سے زیادہ قریب تر ہو، اس کے ساتھ حسن سلوک کرو اور اس قریب تر رشتہ داروں میں جو سب سے زیادہ قریب تر ہو، اس کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ (مشکوٰۃ المصابیح: ص ۴۱۸ از بخاری ومسلم)

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor