Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 623)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 623)

اس حدیث پاک میں حسن سلوک کی سب زیادہ مستحق ماں کو بتایا ہے کیونکہ وہ حمل اور وضع حمل اور پرورش کرنے اور بچہ کی خدمت میں لگے رہنے کی وجہ سے سب سے زیادہ مشقت برداشت کرتی ہے اور ضعیف ہونے کی وجہ سے بھی حسن سلوک کی زیادہ مستحق ہے، کیونکہ اپنی حاجتوں کے لئے وہ کسب معاش نہیں کرسکتی، باپ تو باہر نکل کر کچھ نہ کچھ کر بھی سکتا ہے، لہٰذا حسن سلوک میں ماں کا حق باپ سے مقدم رکھا گیا۔ ماں کے بعد باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا درجہ بتایا اور باپ کے بعد باقی رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور اس میں رشتہ داری کی حیثیت کو معیار بنایا کہ جس کی رشتہ داری جس قدر مزید تر ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کا اسی قدر اہتمام کیا جائے۔

’’فضائل صدقات‘‘ میں ہے کہ اس حدیث شریف میں بعض علماء نے استنباط کیا ہے کہ حسن سلوک اور احسان میں ماں کا حق تین حصے ہے اور باپ کا ایک حصہ، اس لیے کہ حضورِ اکرمﷺ نے تین مرتبہ ماں کو بتایا ہے، چوتھی مرتبہ باپ کو بتایا، اس کی وجہ علماء یہ بتاتے ہیں کہ اولاد کے لئے ماں تین مشقتیں برداشت کرتی ہے، حمل کی، جننے کی، دودھ پلانے کی۔ اسی وجہ سے فقہاء نے تصریح کی ہے کہ احسان اور سلوک میں ماں کا حق باپ پر مقدم ہے، اگر کوئی شخص ایسا ہوکہ وہ اپنی ناداری کی وجہ سے دونوں کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرسکتا تو ماں کے ساتھ سلوک کرنا مقدم ہے، البتہ اعزاز اور ادب وتعظیم میں باپ کا حق ماں پر مقدم ہے۔

ماں باپ کو ستانے کا گناہ اور دنیا میں وبال

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ماں باپ کے ستانے کے علاوہ تمام گناہ ایسے ہیں جن میں سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں معاف فرمادیتے ہیں اور ماں باپ کو ستانے کا گناہ ایسا ہے کہ اس گناہ کے کرنے والے کو اللہ جلّ شانہٗ موت سے پہلے دنیا والی ہی زندگی میں سزا دے دیتے ہیں۔ (مشکوٰۃ: ص ۴۲۱ عن بیہقی فی شعب الایمان)

تشریح: ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ظلم اور قطع رحمی کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کا اِرتکاب کرنے والا دنیا میں سز ا پانے کا زیادہ مستحق ہو، ان دونوں گناہوں کے مرتکب کو دنیا میں سزا دے دی جاتی ہے (لیکن اس سے آخرت کی سز ا ختم نہیں ہوجاتی، بلکہ) اس کے لئے آخرت کی سزا بھی بطور ذخیرہ رکھ لی جاتی ہے، جب آخرت میں پہنچے گا تو وہاں بھی سزا پائے گا) (مشکوٰۃ)

معلوم ہوا کہ ماں باپ کے ستانے کی سزا دنیا اور آخرت دونوں جہان میں ملتی ہے اور حدیث ۱۶۵ میں گزر چکا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے عمر دراز ہوتی ہے اور رزق بڑھتا ہے، آج کل مصیبتیں دفع کرنے اور بلائیں دور کرنے کے لئے بہت سی ظاہری تدبیریں کرتے ہیں لیکن ان اعمال کو نہیں چھوڑتے جن کی وجہ سے مصیبتیں آتی ہیں اور پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بڑے بڑے گناہ، یہ ہیں (۱) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا (۲) والدین کی نافرمانی کرنا (۳) کسی جان کو قتل کردینا (جس کا قتل کرنا شرعاً قاتل کے لئے حلال نہ ہو (۴)جھوٹی قسم کھانا۔ (مشکوٰۃ ازبخاری)

کبیرہ گناہوں کی فہرست طویل ہے، اس حدیث میں ان گناہوں کا ذکر ہے، جو بہت بڑے ہیں، ان میں شرک کے بعد ہی عقوق والدین کو ذکر فرمایا ہے، لفظ عقوق میں بہت عموم ہے، ماں باپ کو کسی طرح سے ستانا، قول سے یا فعل سے ان کو ایذاء دینا، دل دُکھانا، نافرمانی کرنا، حاجت ہوتے ہوئے ان پر خرچ نہ کرنا، یہ سب عقوق میں شامل ہے۔

اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو محبوب ترین اعمال ہیں ان میں بروقت نماز پڑھنے کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا درجہ بتایا ہے (دیکھو حدیث ۱۶۷) بالکل اسی طرح بڑے بڑے گناہوں کی فہرست میں شرک کے بعد ماں باپ کی نافرمانی اور ایذاء رسانی کو شمار فرمایا ہے۔ ماں باپ کو تکلیف دینا کس درجہ کا گناہ ہے اس سے صاف واضح ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor