Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 625)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 625)

جبکہ وہ صلہ رحمی کرتے رہتے ہیں اور (یہ بھی فرمایا کہ)جلد سے جلد عذاب لانے والی چیز ظلم اور جھوٹی قسم ہے، پھر فرمایا کہ جھوٹی قسم مال کو ختم کردیتی ہے اور آباد شہروں کو کھنڈر بنادیتی ہے (یہ روایات درمنثور ص ۱۷۷ ج۴ میں مذکور ہیں)

رشتہ داروں سے حسب مراتب حسن سلوک کیا جائے

حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضور اکرمﷺ کی خدمت میں پہنچا، تو آپﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تو اپنی ماں کے ساتھ اور اپنے باپ کے ساتھ اور اپنی بہن کے ساتھ اور اپنے بھائی کے ساتھ حسن سلوک کر، ان کے بعد جو رشتہ دار زیادہ تر قریب ہیں ان کے ساتھ حسن سلوک کر۔ (مستدرک :ص ۱۵۱ج ۴)

 اس حدیث پاک میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمانے کے بعد بہن بھائی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کابھی حکم فرمایا ہے اور فرمایا کہ ان کے بعد دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو اور ان میں قریب تر قریب تر کا دھیان کرو۔

مطلب یہ ہے کہ سب رشتے برابر نہیں ہوتے، کسی سے رشتہ قریب کا ہے کسی سے دور کا اور قریبی رشتہ داروں میں بھی کوئی زیادہ قریب ہوتا ہے، کوئی کم قریب ہوتا ہے اور یہی حال دور کے رشتوں کا ہے، تم حسن سلوک اور صلہ رحمی میں رشتہ کے قرب اور بُعد کے اعتبار سے حسن سلوک اور صلہ رحمی کرو، قریب تر کو ترجیح دو پھر جو اس سے قریب ہو اس کو دیکھو، اور اسی طرح خیال کرتے رہو، یہ فرق مال کے خرچ کرنے میں ہے، سلام کلام میں تو کسی سے بھی دریغ نہ کریں، قطع تعلق تو عام مسلمانوں سے بھی حرام ہے، اپنے عزیز اور رشتہ داروں سے کیسے درست ہے؟ عام حالات میں اپنے عزیزوں پر جو خرچ کرے گا ثواب پائے گا، لیکن بعض حالات میں ان رشتہ داروں کا خرچ واجب ہوجاتا ہے جو محرم ہوں، جس کی تفصیل کتب فقہ میں موجود ہے اور علماء سے معلوم ہوسکتی ہے بہت سے لوگ بہن بھائی کے ساتھ ظلم وزیادتی کرتے ہیں، یہ حدیث ان کے لیے نصیحت ہے، بھائی بہن کا رشتہ ماں باپ کے رشتہ کے سبب سے ہے اس کی رعایت بہت ضروری ہے، ان کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا خیال رکھنا چاہئے۔ لیکن اس کے برعکس دیکھتے ہیںکبھی بڑے بھائی بہن چھوٹے بہن بھائی پر اور کبھی چھوٹے بہن بھائی بڑے بہن بھائی پر ظلم وزیادتی کرتے ہیں، اپنے پاس سے ان پر خرچ کرنے کے بجائے خود ان کا مال دبا لیتے ہیں، ماں باپ کی میراث سے جو حصہ نکلتا ہے اس کو ہضم کرجاتے ہیں، والد کی وفات ہوگئی اور بڑے بھائی کے قبضہ میں سارا مال اور جائیداد ہے اب اس کو اپنی عزت پر اور اپنے بیوی بچوں پر میراث تقسیم کئے بغیر خوب خرچ کرتا ہے اور چھوٹے یتیم بہن بھائی کو دو چار سال کھلا پلا کر پوری جائیداد سے محروم کردیا جاتا ہے ، بچے جب ہوش سنبھالتے ہیں تو پورا مال خرچ ہوچکا ہوتا ہے اور جائیداد بڑے بھائی یا بڑے بھائی کی اولاد کے نام منتقل ہوچکی ہوتی ہے۔

یہ قصے پیش آتے رہتے ہیں اور خصوصاً جہاں دو ماں کی اولاد ہو وہاں تو ترکہ کے بانٹنے کا سوال ہی نہیں اُٹھنے دیتے، ہر ایک بیوی کی اولاد کا جتنے مال و جائیداد پر قبضہ ہوتا ہے اس میں سے دوسری بیوی کی اولاد کو دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے، ہر فریق لینے کا مدعی ہوتا ہے، انصاف کے ساتھ دینے کے حق میں نفس کو راضی نہیں کرتا یہ بہت بڑی قطع رحمی ہوتی ہے اور بہنوں کو تو ماں باپ کی میراث سے کوئی ہی خاندان دیتا ہے ورنہ ان کا حصہ بھائی ہی دبالیتے ہیں، جس میں دینداری کا لیبل لگانے والے بھی پیچھے نہیں ہوتے، بعض لوگ معاف کرانے کا بہانہ کرکے بہنوں کا حق میراث کھا جاتے ہیں، بہنوں سے کہتے ہیں کہ اپنا حصہ ہمیں دے دو، وہ یہ سمجھ کرکہ ملنے والا تو ہے نہیں، بھائی سے کیوں بگاڑ کیا جائے؟ اوپر کے دل سے کہہ دیتی ہے کہ ہم نے معاف کیا، ایسی معافی شرعاً معتبر نہیں، ہاں اگر ان کا پورا حصہ ان کو دے  دیا جائے اور مالکانہ قبضہ کرا دیا جائے، پھر وہ نفس کی خوشی اور بشاشت کے ساتھ کل یا بعض حصہ کسی بھائی کو ہبہ کردیں تو یہ معتبر ہوگا۔

(جار ی ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor