Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 638)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 638)

اللہ کے نزدیک تقویٰ معیار فضیلت ہے

اللہ رب العزت نے بڑائی کا قاعدہ کلیہ سورۂ حجرات میں بیان فرمادیا ہے ان اکرمکم عند اللّٰہ اتقکم یعنی اللہ کے نزدیک تم سب میںبڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ اللہ کے نزدیک تو بڑائی کا معیار تقویٰ ہے اور جو اللہ کے نزدیک بڑا ہے وہی حقیقت میں بڑا ہے اگر دنیا والوں نے بڑا سمجھا اور اخباروں ورسالوں میں نام چھپے اور لوگوں نے تعریفیں کیں مگر اللہ کے نزدیک کمینہ اور ذلیل رہا تو یہ دنیا کی بڑائی کس کام کی؟ اللہ کے نزدیک پرہیز گار اور دیندار ہی بڑے ہیں اور جو لوگ اللہ کے نزدیک بڑے ہیں وہ دنیا میں بھی اچھائی سے یاد کئے جاتے ہیں اور سینکڑوں برس تک دنیا میں ان کاچرچا رہتا ہے اور آخرت میں جو ان کو بڑائی ملے گی وہ الگ رہی۔

 بڑے بڑے فقہاء محدثین عجمی تھے اور نسب کے اعتبار سے بڑے بڑے خاندانوں سے نہ تھے بلکہ ان میں بہت سے وہ تھے جو آزاد کردہ غلام تھے آج تک ان کا نام روشن ہے او ررہتی دنیا تک امت کے طرف سے ان کو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دعائیں پہنچتی رہیں گی،نسب پر اترانے والوں کو امت جانتی بھی نہیں ہے، غرور کر کے اور شیخی بگھار کے دنیا سے رخصت ہوگئے، آج ان کو کون جانتا ہے؟ سب بڑائیاں خاک میں مل گئیں، اللہ ہم سب کو کبرو نخوت سے بچائے اور تواضع کی صفت سے نوازے۔

 کسی کا مذاق بنانے اور وعدہ خلافی کرنے کی ممانعت

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا : تو اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کراور اس سے مذاق نہ کر اور اس سے کوئی ایسا وعدہ نہ کر جس کی تو خلاف ورزی کرے۔( مشکوٰۃ المصابیح: ص ۴۱۷ از ترمذی)

 اس حدیث میں چند نصیحتیں فرمائی ہیں:

 اول یہ کہ اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کر، جھگڑے بازی بہت بری اور قبیح چیز ہے، اپنے حق کے لیے اگر چہ جھگڑا کرنا درست ہے لیکن جھگڑے کا چھوڑ دینا بہرحال اعلیٰ و افضل ہے، جھگڑا کرنے سے گالی گلوچ اوربدکلامی کی نوبت آجاتی ہے اور دودلوں میں کینہ جگہ پکڑ لیتا ہے، پھر اس کے اثرات  بہت برے پیداہوتے ہیں۔

 حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ جس نے غلطی پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دیا اس کے لیے جنت کے ابتدائی حصہ میں مکان بنایا جائے گا اور جس نے حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دیا اس کے لیے جنت کے درمیانی حصہ میں مکان بنایا جائے گا اور جس نے اپنے اخلاق اچھے کیے اس کے لیے جنت کے اونچے حصہ میں مکان بنایا جائے گا۔(مشکوٰۃ)

دوسری نصیحت یہ فرمائی کہ اپنے مسلمان بھائی سے مذاق نہ کر، مذاق کرنے کی دوصورتیں ہیں:ایک یہ کہ جس سے مذاق کیا جائے تو اس کا دل خوش کرنا مقصود ہو ایسا مذاق کرنا جائز بلکہ مستحب ہے بشرطیکہ اس میں جھوٹ نہ ہو اور وعدہ خلافی نہ ہو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جس سے مذاق کیا جائے اس کو ناگوار ہو ایسا مذاق کرنا جائز نہیں ہے، حدیث بالا میں اسی کی ممانعت ہے، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ چند عورتیں مل کر کسی عورت سے مذاق شروع کردیتی ہیں اور جس سے مذاق کررہی ہیں اس کو ناگوار ہورہا ہے وہ چڑرہی ہے اور اُلٹا سیدھا کہہ رہی ہے، اس میںچونکہ ایذاء مسلم ہے( یعنی مسلمان کو تکلیف دینا) اس لیے حرام ہے۔

آنحضرتﷺ کامزاح مبارک

حضوراقدسﷺ دل خوش کرنے کے لیے کبھی کبھی مذاق فرمالیتے تھے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یارسول اللہ!آپ ہم سے مذاق فرماتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: بیشک میں (مذاق میں بھی) حق ہی کہتا ہوں۔( ترمذی)

 معلوم ہوا کہ دل خوش کرنے کے لیے مذاق کیا جائے اور وہ بھی سچ اور صحیح ہونا چاہیے، مذاق میں بھی جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے۔

 ایک شخص نے حضور اقدسﷺ سے سوال کیا کہ مجھے سواری عنایت فرمادیں، آپﷺ نے فرمایا: بلاشبہ تجھے اونٹنی کے بچہ پر سوار کرادوں گا، اس شخص نے عرض کیا:میں اونٹنی کے بچہ کو کیا کروں گا؟ آپﷺ نے فرمایاا:ونٹوں کو اونٹنیاں ہی جنتی ہیں(یعنی اونٹ جتنا بڑا ہوجائے اونٹنی کابچہ ہی ہوگا ) (ترمذی)

دیکھو! اس مذاق میں ذراسا بھی جھوٹ نہیں ،بات بالکل سچی ہے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor