Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 639)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 639)

اسی طرح ایک بوڑھی عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دعاء فرما دیجئے اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل فرمائے، آپﷺ نے فرمایا: بے شک جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہ ہوگی، یہ سن کر وہ روتی واپس چلی گئی، آپﷺ نے حاضرین سے فرمایا کہ اس کو جا کر بتادو کہ (مطلب یہ نہیں ہے دنیا میں جو بوڑھی عورتیں ہیں وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ مطلب یہ ہے کہ جنت میں داخل ہوتے وقت کوئی عورت بھی بوڑھی نہ ہوگی، اللہ تعالیٰ سب کو جوان بنادیں گے، لہٰذا یہ بڑی بی( بھی) جب جنت میں داخل ہوگی بڑھیا نہ ہوںگی، اس کے بعد آپﷺ نے قرآن مجید کی یہ ایک آیت تلاوت فرمائی انا انشأنھن  انشاء فجعلنھن ابکارا(شمائل ترمذی)

ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یاذالاذنین(دوکان والے) کہہ کر پکارا۔( جمع الفوائد)

ایک عورت نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے شوہر نے آپﷺ کو مدعو کیا ہے(بطور دعوت گھر پر تشریف لانے کی درخواست کی ہے) آپﷺ نے فرمایا: تیرا شوہر وہی ہے جس کی آنکھ میں سفیدی ہے؟وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! اس کی آنکھ سفید نہیں ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کی آنکھ میں سفیدی نہ ہو۔( یعنی وہ سفیدی جو سیاہ ڈیلے کے چاروں طرف ہے)

دیکھو! کیسا صحیح مذاق ہے، ایسا سچا مذاق درست ہے، بشرطیکہ اسے ناگوارا نہ ہو جس سے مذاق کیا ہے۔

 جب کسی کا دل خوش کرنے کے لیے مذاق کرنے میں بھی یہ شرط ہے کہ بات سچی ہو اور جس سے مذاق کیا جائے اس کو ناگوارا نہ ہو تو کسی کا مذاق اُڑانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟بہت سے مرد اور عورت اس کا بالکل خیال نہیں کرتے اور جس کو کسی بھی اعتبار سے کمزور پاتے ہیں، سامنے یا اس کے پیچھے اس کا مذاق اُڑادیتے ہیں، یہ سب گناہ ہیں اس کو مسخرہ پن اور مخول اور ٹھٹھا بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

اے ایمان والو!نہ تو مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہیے، کیا عجب ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہئے، کیا عجب ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ ایک دوسرے کوطعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو، ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے اور جو باز نہ آئیں گے تو وہ ظلم کرنے والے ہیں۔( سورۃ حجرات)

وعدہ خلافی منافقت ہے:

تیسری نصیحت یہ فرمائی کہ اپنے بھائی سے وعدہ کر کے اس کے خلاف نہ کرو، یہ بھی بہت اہم نصیحت ہے جس میں لوگ بہت کوتاہی کرتے ہیں، جب کسی سے کوئی وعدہ کرے تو وعدہ کرنے سے پہلے اپنے حالات اور اوقات کے اعتبار سے خوب غور کرے کہ یہ وعدہ مجھ سے پورا ہوسکے گا یا نہیں اور اپنی بات کو نباہ سکوں گا یا نہیں، اگر وعدہ پورا کرسکتا ہوتو وعدہ کرے ورنہ معذرت کرے، جھوٹا وعدہ کرنا حرام ہے جب وعدہ کرلے تو حتی الوسع پوری طرح انجام دینے کی کوشش کرے، بہت سے لوگ ٹالنے کے لیے یا دفع الوقتی کے خیال سے وعدہ کرلیتے ہیںپھر اس کو پورا نہیں کرتے اور یہ نہیں سمجھتے کہ جھوٹا وعدہ سخت گناہ ہے اور وعدہ کرنے کے بعد خلاف ورزی بھی سخت گناہ ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ حضور اقدسﷺ نے خطبہ دیا ہو اور یہ نہ فرمایا ہو کہ:لاایمان لمن لاامانۃ لہ ولا دین لمن لاعھد لہ

ترجمہ:یعنی اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس کا کوئی دین نہیں جو عہد کا پورا نہیں ہے۔( مشکوٰۃ المصابیح : ص۱۵)

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں، چاہے روزہ رکھے اور نمازپڑھے اور اپنے بارے میں یہ سمجھے کہ میں مسلمان ہوں( اس کے بعد آپﷺ نے وہ تینوں نشانیاں ذکر فرمائیں(۱) جب بات کرے تو جھوٹ بولے(۲) جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے(۳) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔( مشکوٰۃ ازبخاری ومسلم)

اور حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص میں چار خصلتیں ہوں گی خالص منافق ہوگا اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہوگی تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی جب تک اس کو چھوڑ نہ دے۔ (۱) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔(۲) جب بات کرے تو جھوٹ بولے(۳)عہد کرے تو دھوکہ دے(۴) جھگڑا کرے تو گالی بکے۔(بخاری ومسلم)

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor