Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 640)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 640)

پس ہر مسلمان مرد وعورت پر لازم ہے کہ جھوٹے وعدہ سے بد عہدی اوروعدہ کی خلاف ورزی سے خوب زیادہ خیال کرکے محفو ظ رہے۔

پیسہ ہوتے ہوئے قرض ادانہ کرنا ظلم ہے:

بہت سے لوگ وقتی ضرورت کے لیے دوکاندار سے سودا ادھار لے لیتے ہیں یاکسی سے نقد رقم لے لیتے ہیں، بعد میں قرض دینے والے کو ستاتے ہیں وعدہ پر وعدہ کیے جاتے ہیں لیکن قرض کی ادائیگی نہیں کرتے، دوسرے کا مال بھی لے لیا اور اس کو وعدہ خلافی کے ذریعہ ایذاء بھی دے رہے ہیں اور تقاضوں کے لیے آنے جانے کی وجہ سے اس کا وقت بھی برباد کرتے ہیں، ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ میں اس کی جگہ ہوتا تو میں اپنے لیے کیاپسند کرتا ، جو اپنے لیے پسند کرے وہی دوسروں کے لیے پسند کرنا لازم ہے۔

جس شخص کے پاس ادائیگی کے لیے مال موجود نہ ہو وہ قرض خواہ سے معذرت کرلے اور مہلت مانگے اور اس تاریخ پرادائیگی کا وعدہ کرے جس وقت پیسہ پاس ہونے کا غالب گمان ہو اور جس کے پاس مال موجود ہو فوراً قرض خواہ کا حق ادا کردے بالکل ٹال مٹول نہ کرے، حضور اقدسﷺ کا ارشاد ہے:مطل الغنی ظلم یعنی جس کے پاس ادائیگی کے لیے مال موجود ہو، اس کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔( مشکوٰۃ المصابیح)

اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے خاص تنبیہ ہے جو ادائیگی کا انتظام ہوتے ہوئے صاحب حق کو آج کل پر ٹالتے رہتے ہیںاور جھوٹے وعدے کرکے ٹرخاتے رہتے ہیں، ایسے جھوٹے وعدے کرنے والے کو حضور اقدس ﷺ نے ظالم قرار دیا ہے۔

مسلمان بھائی کی مصیبت پر خوش ہونے کی ممانعت

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی ظاہر نہ کر، (ممکن ہے) اس سے بعد اللہ اس پر رحم فرمادے اور تجھے مبتلا فرمادے۔(مشکوٰۃ المصابیح ص ۴۱۴ ازترمذی)

اس حدیث میں ایک اہم مضمون ارشاد فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جب کسی مسلمان کو مرد ہویا عورت کسی طرح کے دکھ ،تکلیف یا نقصان و خسارہ وغیرہ میں مبتلا دیکھو تو اس پر کبھی خوشی کا اظہار مت کرو، کیونکہ یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ تم ہمیشہ مصیبت سے محفوظ رہ جاؤ،یہ بہت ممکن ہے کہ تم نے جس کی مصیبت پر خوشی کا اظہار کیا ہے اللہ پاک اس کو اس مصیبت سے نجات دے دے اور تم کو اس مصیبت میں مبتلا کردے اور یہ محض ایک فرضی بات نہیں ہے بلکہ عموماً دیکھنے میں آتا ہے اور اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے کہ جب کسی کے دکھ، مصیبت ،تکلیف پر کسی نے خوشی کا اظہارکیا یا کسی کے اعضاء کا مذاق بنایا، کسی طرح کی کوئی نقل اُتاری تو خوشی ظاہر کرنے والا، مذاق اڑانے والا اور نقل اتارنے والا خوداسی مصیبت ، عیب اور برائی میں مبتلا ہوجاتا ہے جو دوسرے میں تھا اگر کسی شخص میں کوئی عیب ہے دینی یا دنیاوی تو اس پر خوشی یا طعنہ کے طرز پر اس کو ذکرکرنا اور بطور عار اور عیب کے اس کو بیان کرنا ممنوع ہے ہاں اگر اخلاص کے ساتھ نصیحت کے طور پر خیر خواہی کے ساتھ نصیحت کرے تو یہ اچھی چیز ہے، لیکن حق گوئی کا بہانہ کرکے یانہی عن المنکر کا نام رکھ کر طعنہ دینا اور عیب لگانا اور دل کے پھپھولے پھوڑنا درست نہیں ہے، مخلص کی بات ہمدردانہ ہوتی ہے اور نصیحت کا طرز اور ہی ہوتا ہے۔ تنہائی میں سمجھایا جاتا ہے، رسوا کرنا مقصود نہیں ہوتا اور جہاں نفس کی آمیزش ہو اس کاطرز اور لب و لہجہ دل کوچیرتا چلا جاتاہے ،کسی کو عیب دار بتانے کے لیے عیب کا ذکر کرنا جائز نہیں ہے، اس کا نتیجہ بھی برا ہوتا ہے فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ جس نے اپنے بھائی کو کسی گناہ کا عیب لگایا تو اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اس گناہ کو خود نہ کرلے گا۔( ترمذی)

حسن اخلاق سے متعلق ایک جامع حدیث

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو اور ایک دوسرے کے بھائو پر بھائو مت بڑھائو اور آپس میں بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو اور ایک شخص دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو ( پھر فرمایا) مسلمان مسلمان کابھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے نہ اس کو بے کسی کی حالت میں چھوڑے، نہ اسے حقیر جانے (اس کے بعد) تین بار اپنے مبارک سینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: تقویٰ یہاں ہے یہاں( پھرفرمایا کہ) انسان کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے، مسلمان کے لیے مسلمان کا سب کچھ حرام ہے اس کا خون بھی،مال بھی،آبرو بھی۔( صحیح مسلم ص ۳۱۷ ج۲)

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor