Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 641)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 641)

یہ مبارک حدیث بڑی عظیم الفوائد اور جامع حکم ونصائح پر مشتمل ہے پہلی نصیحت یہ فرمائی کہ آپس میں حسد نہ کرو۔

 حسد کا وبال:

حسد بڑی بری بلا ہے جو حاسد ہوگا لامحالہ اپنے دل و دماغ کا ناس کرکے رہے گا، قرآن مجید میں حاسد کے حسد سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ’’ومن شر حاسد اذا حسد‘‘

 ایک حدیث میں ہے سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حسد سے بچو کیونکہ وہ نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جیسے لکڑیوں کو آگ کھا جاتی ہے۔(مشکوٰۃ)

علماء کرام نے فرمایا ہے کہ حسد حرام ہے، حسد کے حرام ہونے کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ دیا ہے حکمت کے بغیر نہیں دیا ہے، اب جو حسد کرنے والا یہ چاہتا ہے کہ یہ نعمت فلاں شخص کے پاس نہ رہے تو درحقیقت یہ اللہ پراعتراض ہے کہ اس نے اس کو کیوں نوازا؟اور حکمت کے خلاف اس کو دوسرے حال میں کیوں نہ رکھا، ظاہر ہے کہ مخلوق کو خالق کے کام میں دخل دینے کا کچھ حق نہیں ہے اور نہ مخلوق اس لائق ہے کہ اس کو یہ حق دیا جائے، ہم اپنے دنیاوی انتظام میں اور خانگی امور میں روزانہ ایسے کام کر گزرتے ہیںجو ہمارے بچوں کی سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں، اگر ہمارے بچے ہمارے کام میں دخل دیں تو ہم کو کس قدر برا معلوم ہوتا ہے،پھر اللہ رب العزت فعّال لما یرید کی تقسیم میں کسی کو دخل دینے کا کیا حق ہے؟

جب کسی کو حسد ہوجاتا ہے تو جس سے حسد کرتا ہے اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوجاتا ہے اس کی غیبت کرتا ہے اور اس کو جانی و مالی نقصان پہنچانے کی فکر میں لگا رہتا ہے، جس کی وجہ سے بڑے بڑے گناہوں میں گھر جاتا ہے، پھر ایسے شخص کو اول تو نیکی کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور اگر کوئی نیکی کر گزرتا ہے تو چونکہ وہ آخرت میں اسے ملے گی جس سے حسد کیا ہے تو نیکی کرنا نہ کرنابرابر ہوگیا، ارشاد فرمایا نبی کریمﷺنے: پہلی امتوں کا مرض یعنی حسد تم تک آپہنچا ہے اور بغض تو مونڈ دینے والا ہے میں نہیں کہتا کہ وہ بالوں کو مونڈتا ہے بلکہ دین کو مونڈ دیتا ہے۔(مشکوٰۃ )

سید عالم،سرور کونینﷺنے بغض کو دین کا مونڈنے والا فرمایا،تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ جس طر ح استرا بال مونڈتا چلا جاتا ہے اور ہر چھوٹے بڑے بال کو علیحدہ کردیتا ہے اسی طرح بغض کی وجہ سے سب نیکیاں ختم ہوتی چلی جاتی ہیں، حاسد دنیا و آخرت میں اپنابرا کرتا ہے نیکیوں سے بھی محروم رہتا ہے اور کوئی نیکی ہوبھی جاتی ہے تو حسد کی آگ اسے راکھ بنا کر رکھ دیتی ہے، دنیا میں حاسد کے لیے حسد ایک عذاب ہے جس کی آگ حسد کے سینہ میں بھڑکتی ہے اور جس سے حسد کیا جاتا ہے اس کا کچھ نہیں بگڑتا ۔کیا اچھا کلمہ حکمت ہے جو کسی نے کہا ہے:کفی بالحاسد انہ یغتم وقت سرورک

 ترجمہ:حاسد سے انتقام لینے کے خیال میں پڑنے کی ضرورت نہیں، یہ انتقام کا فی ہے کہ تم کو خوشی ہوتی ہے تو اس خوشی کی وجہ سے اسے رنج پہنچتا ہے۔

 بعض حضرات نے فرمایا:الحسد حسک من تعلق بہ ھلک

ترجمہ:حسدایک کانٹا ہے جس نے اسے پکڑا ہلاک ہوا۔

 کسی کے بھائو پر بھائو کرنا:

دوسری نصیحت یہ فرمائی کہ ایک دوسرے کے بھائو پر بھائو مت بڑھائو، جس کابازاروں میں بہت رواج ہے بیوپاری سے کچھ ملنے کے لیے یا خواہ مخواہ خریدار کو نقصان دینے کے لیے لوگ ایسا کرتے ہیں کوئی شخص سودا بیچ رہا ہے، گاہک کھڑے ہیں، ایک آیا اس نے پچاس روپے کے مال کے سوروپے لگادئیے، اب جو دوسرے خریدار ہیں دھوکہ میں پڑگئے لہٰذا لامحالہ سو روپے سے زیادہ ہی لگائیں گے اور نقصان اٹھائیں گے ،ایسا کرنے سے آنحضرت سید عالم ﷺ نے منع فرمایا اور ممانعت اسی صورت میں ہے جبکہ خریدنا مقصود نہ ہو (صرف دھوکہ دے کر نقصان میں ڈالنا یا بیچنے والے سے کچھ وصول کرنا مقصود ہو، اگر خود خریدنے کاارادہ ہو تو قیمت بڑھا کر جن داموں چاہیں خرید لیں، مگر شرط یہ ہے کہ دوسرے شخص سے اگر بیچنے والے کی گفتگو ہو رہی ہے تو جب تک فروخت کرنے والا اس کے لگائے ہوئے داموں پر دینے سے انکار نہ کردے اس وقت تک بڑھانا درست نہیں ورنہ دوسری ممانعت ولا یبیع بعضکم علی بیع بعض کاارتکاب ہوجائے گا جو اسی حدیث میں موجود ہے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor