Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 642)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 642)

ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت سید عالم ﷺ نے فرمایا:

لایبیع الرجل علی بیع اخیہ ولا یخطب علی خطبۃ اخیہ الاان یاذن لہ( مسلم)

کوئی شخص اپنے بھائی کے معاملہ پر معاملہ نہ کرے اور اس کے نکاح کے پیغام پر اپناپیغام نہ بھیجے ہاں اگر وہ اجازت دے دے تو درست ہے۔

 نیلام کا موجودہ طریقہ:

آج کل نیلام کے ذریعہ بیچنے کا رواج ہے ، بولی بولنے والے اپنے ساتھ ایک دو آدمی لگالیتے ہیں اور ان کو پہلے سے تیار کر کے کھڑا رکھتے ہیں کہ تم زیادہ سے زیادہ دام بول دینا تم کو ہم اتنا روپیہ دے دیں گے یہ ممنوع ہے ایسا کرنے والے دھوکہ اور فریب دینے کے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں، نیلام کے ذریعہ فروخت کرنا درست ہے اگر دھوکہ نہ ہو، نیلام کے موقع پر دوسرے کے لگائے ہوئے داموں سے بڑھ کر دام لگانا درست ہے، لیکن شرعاً بیچنے والے کو آخری بولی پر چھوڑ دینا ضروری نہیں وہ چاہے تو نہ دے۔

 یہ جو رواج ہے کہ آخری بولنے والے پر چھوڑ ورنہ آخری بولی والے کو کچھ دے شرعاً غلط ہے آخری بو لے والے کو اس بنیاد پر کوئی پیسہ لینا حلال نہیں ہے کہ میری آخری بولی پر نیلام ختم نہیں کیا۔

بغض اور قطع تعلق کی مذمت:

تیسری نصیحت یہ فرمائی کہ آپس میں بغض نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑ وجب آپس میں بغض و عداوت کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو ایک دوسرے کی صورت دیکھنا تک گوارا نہیں ہوتا، بات چیت ختم ہونے کے ساتھ ساتھ آمنا سامنا بھی برالگتا ہے۔

 شریعت اسلامیہ نے میل محبت اور اُلفت پر بہت زور دیا ہے، بغض و عداوت، نفرت اوردوسرے کی تحقیر سے بچنے کی سخت تاکید فرمائی ہے، انسان، انسان ہے کبھی طبیعت میں میل آجاتا ہے اور بشری تقاضوں کی بنا پر ایسا ہوجانابعید نہیں ہے لیکن طبیعت کے تقاضہ کی شریعت نے ایک حد رکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ صرف تین روز قطع تعلق کی گنجائش ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے:

لایحل لمسلم ان یھجراخاہ فوق ثلاث فمن ھجرفوق ثلث فمات دخل النار(مشکوٰۃ)

کسی مسلمان کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی( مسلمان) سے تین دن سے زیادہ تعلقات توڑے رکھے پس جس نے تین دن سے زیادہ تعلق توڑے رکھا اور اس اثناء مر گیا تو دوزخ میں جائے گا۔

سنن ابو دائود میں ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے ایک سال تک اپنے بھائی سے تعلق توڑے رکھا تو وہ ایسا ہے کہ جیسے اس کا خون بہا دیا۔( مشکوٰۃ)

ایک دوسرے سے منہ پھیرنے کے متعلق ایک حدیث میں ارشاد فرمایا :

لایحل للرجل ان یھجراخاہ فوق ثلث لیال یلتقیان فیعرض ھذا و یعرض ھذا و خیرھما الذی یبد أ بالسلام

 کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ اپنے ( مسلمان) بھائی سے تین رات سے زیادہ تعلقات چھوڑ رکھے( اور) ملاقات کا اتفاق پڑ جائے تو یہ ادھر کو منہ پھیر لے اور وہ اُدھر کو منہ پھیر لے( پھر فرمایا) دونوں میں بہتر وہ ہے کہ جو پہلے سلام کرکے بول چال کی ابتداء کردے۔(بخاری ومسلم)

اور ایسا کرنے میں نفس کی بات ٹھکرا کر خدائے پاک کے حکم کو سامنے رکھ کر صلح کی طر ف بڑھنے میں پیش قدمی کرے اوردل میں یہ نہ سوچے کہ میں کیوں پہل کروں، میری حیثیت کم نہیں ہے، اس طرح سوچنا کبر کی بات ہے، انسان کو ہر حال میں تواضع لازم ہے۔

 ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ کسی مومن کے لیے یہ جائز نہیں ہے تین دن سے زیادہ مسلمان سے تعلق توڑے رکھے تین دن گذر جانے کے بعد خود ملاقات کرے اور سلام کرے، اگر اس نے سلام کا جواب دے دیا تو دونوں کو اجر ملا ورنہ سلام کرنے والا ترک تعلق کے گناہ سے بچ گیا۔( ابودائود)

مسئلہ:تین بار سلام کرے، اگر وہ تینوںبار جواب نہ دے تو وہی گنہگار رہے گا۔(بخاری)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہر ہفتہ میں دو بار( اللہ کی بارگاہ میں) لوگوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں، ایک پیرکے دن،دوسرے جمعرات کے دن، سوہر مومن بندہ کی بخشش کردی جاتی ہے مگر ایسے بندہ کی بخشش نہیں ہوتی جس کی اپنے بھائی سے دشمنی ہو۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ( ابھی) دونوں کو چھوڑو یہاں تک کہ( اپنی دشمنی سے ) باز آجائیں۔ (مسلم)

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor