Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 644)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 644)

مسلمانوں کو حقیر سمجھنے کی مذمت:

آنحضرتﷺنے حقوق اخوت بیان فرماتے ہوئے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مسلمان بھائی کو حقیر نہ سمجھے، کسی کو حقیر جاننا برامرض ہے جو تکبر کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، حقیر سمجھنے کی جتنی صورتیں ہیں ان سب سے پرہیز لازم ہے۔ کسی کا مذاق بنانا، برانام تجویز کرنا ،ٹوٹا پھٹا حال دیکھ کراپنے سے کم سمجھنا یہ حقیر بنانے اور حقیر سمجھنے کی صورتیں ہیں اور بہت لوگ اپنی دینداری کی وجہ سے دوسرے بے عمل مسلمان کو حقیر جانتے ہیں، حالانکہ چھوٹائی بڑائی اور عزت و دولت کے مناظر آخرت میں سامنے آئیں گے جو وہاں معزز ہو ا وہ حقیقی معزز ہے اور جو وہاں حقیرہوا وہی اصلی حقیر ہے پھر آنحضورﷺ نے تین بار اپنے مبارک سینہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ ’’تقویٰ یہاں ہے ،یہاں ہے، یہاں ہے۔’’یعنی تقویٰ بڑا اور چھوٹا ہونے کا معیار ہے جو اللہ سے جس قدر کرے گا اسی قدر معزز اور با آبرو ہوگا۔

 بہت سے لوگ تقویٰ کے معیار پر کسے بغیر کسی کو دنیا وی حیثیت سے کمتر دیکھ کر حقیر سمجھنے لگتے ہیں جو سراسر نادانی اور اپنے نفس پر ظلم ہے بلکہ جو لوگ دینداری میں اپنے کو دوسرے سے بڑھا دیکھیں ان کو بھی یہ درست نہیں کہ اپنے سے کم عبادت والے کو حقیر جانیں، کیا خبر وہ توبہ استغفار میں زیادہ عمل والے سے بڑھا ہوا ہو اور زیادہ عمل والے کے دل میں اخلاص کم ہو۔

 آنحضرت سید عالم ﷺ نے فرمایا کہ انسان کو برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ مسلمان بھائی کو حقیر جانے یعنی کسی میں کوئی کھوٹ او ر عیب ہو یا نہ ہو برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ مسلمان بھائی کو حقیر جانے‘‘ کیونکہ جو دوسروںکو حقیر جانتا ہے اس میں غرور تکبر ہوتا ہے، تکبر کی قباحت سب کو معلوم ہے۔

پھر آخر میں حضورسرور کائنات ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان پر مسلمان کاسب کچھ حرام ہے اس کا خون بھی،اس کا مال بھی( جو اس کی طیب خاطر کے بغیر لے لیا جائے) اور اس کی آبرو بھی۔ یعنی مسلمان پر نہ جانی ظلم کرے اور نہ مالی اور نہ اس کی بے آبروئی کرے۔ وباللہ التوفیق

اسلامی آداب ایک نظر میں

حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ میں( بچپن میں) حضوراقدس ﷺ کی گود میں ( پرورش پاتا ) تھا( ایک مرتبہ جوساتھ کھانا کھانے بیٹھے تو ) میرا ہاتھ پیالہ میں( ہر طرف) گھوم رہا تھا، آنحضرتﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ بسم اللہ پڑھ کر کھا ا و ر داپنے ہاتھ سے کھا اور جو حصہ تجھ سے قریب ہے اس میں سے کھا۔( مشکوٰۃ المصابیح: ص ۳۶۴از بخاری و مسلم

اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہ تعالیٰ عنہا بھی ان مبارک ہستیوں میں ہیں، جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دورہی میں اسلام قبول کرلیا تھا، ان کا نام ہند تھا، اُمّ سلمہ( یعنی سلمہ کی ماں) کنیت ہے، ان کے پہلے شوہر عبداللہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ بھی اسلام قبول کرنے میں سابقین اولین میں سے تھے، سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ وہ گیارہویں مسلمان تھے، حضور اقدسﷺ کی تو حید والی دعوت سے مکہ کے مشرکین بہت برگشتہ تھے اور جو شخص اسلام قبول کرلیتا تھا اسے بہت سی تکلیفیں پہنچاتے تھے۔

 اسی لیے بہت سے صحابہ حبش چلے گئے تھے یہ اسلام میں سب سے پہلی ہجرت تھی، اس سفر ہجرت میں مرد اور عورتیں سبھی تھے حضور اقدسﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہااور ان کے شوہر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ بھی اس ہجرت میں شریک تھے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد تھا، جو حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہاکے چچازاد بھائی تھے، حبشہ میں ایک لڑکا پیدا ہوا، جس کا نام سلمہ رکھا گیا، اسی کے نام سے باپ کی کنیت ابو سلمہ اور ماں کی کنیت ام سلمہ ہوگئی،کچھ دنوں کے بعد حبشہ سے دونوں حضرات مکہ معظمہ واپس آگئے پھر پہلے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے اور ان کے ایک سال کے بعد حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ کوہجرت فرمائی۔ مدینہ منورہ میں ایک لڑکا اور دولڑکیاں پیدا ہوئیں، لڑکے کا نام عمر رضی اللہ عنہ اور لڑکی کا نام درہ رضی اللہ عنہا اور دوسری لڑکی کا نام زینب رضی اللہ عنہا رکھا گیا۔

  ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor