Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عجائب قدرت۔ 487

عجائب قدرت

(شمارہ 487)

کرسنہ

یعنی مٹر،دیسقوریدس کا مقولہ ہے کہ یہ ایک گھاس ہے جس کے باریک باریک پتے ہوتے ہیں اور اس کا تخم غلاف میں ہوتا ہے، دانہ اس کا ماننددانہ عدس یعنی مسورکے مگر یہ چوڑا نہیں ہوتا بلکہ پہلودار اور سیاہی مائل البتہ مقشر ہونے پر عدس کے مانند ہوتا ہے یہ دانہ بیلوں کے فربہ کرنے میں عدیم النظیر ہے۔ اس کا مزہ مالش اورمسور کے درمیان میں ہوتا ہے ،رامجرو اور کاشغر کی ولایت میں بکثرت بویاجاتا ہے۔ شیخ رئیس کاقول ہے کہ بہق اورکلف پر لگانا مفید ہے۔رنگ روشن کرتا ہے اور نیزلاغری دور کرتا ہے اگر شراب میں پیس کرسانپ یا انسان صائم یاباؤلے کتے کے کاٹے جراحت پر لگادیں نہایت مفید ہے۔

 کرفس

یہ گھاس مشہور ہے اور بری اور بستانی ہوتی ہے اس کاکھانا بوئے دہن کو خوش کرتی ہے اسی وجہ سے جو شخص امیروں اور بادشاہوں سے سرگوشی کرتا ہے و ہ اس کااستعمال کرتا ہے ،عضورعشہ دار پر اس کالگانا مفید ہے۔ شیخ رئیس کے نزدیک جنگلی کرفس داء الثعلب اور مسوں کو مفید ہے اور بستانی بھی گندہ دہنی اور خارش داد کو دفع کرتا ہے،کرفس کھائے ہوئے شخص کو اگر کژدم کاٹ کھائے یقین ہے کہ وہ آدمی مرجائے پس جہاں کہیں بچھو بہت ہوں اس کے کھانے سے پرہیز بہتر ہے، اس کا شیرہ آنکھ میں لگانا تاریکی دور کرتا ہے اس کی جڑگردن میں حمائل کرنا درددندان دور کرتی ہے ا س کا تخم جلندھر اور بندپیشاب کو نافع ہے اوربچہ کے غلاف کو شکم سے باہر نکالتا ہے جس گروہ کے درمیان میں اس کا دھواں کریں خواب غفلت میں بیہوش ہوجائیں ،بد ہضمی کی ہچکی کو مفید ہے۔

کرویا

شیخ رئیس کا اعتقاد ہے کہ یہ گھاس خفقان اورریح کو نافع ہے اورحبس بول اور پیچش کو مفید ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor