Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عجائب قدرت۔ 528

عجائب قدرت

(شمارہ 528)

بنی آدم کی عقل میںتفاوت کا بیان

عقل ایک نور ہے جو بنی آدم پرروشن ہوتا ہے اور ابتداتجلی اس نور کی ایام تمیز کے ہیں یعنی ساتویں برس میں، بعدازاں جس طور پر نموزیادہ ہو عقل بھی ترقی پکڑتی ہے، انتہا چالیس سال تک ہے اور چونکہ تفاوت انسانی اس مابین میں بہت کچھ ظاہر ہے پس اس امر میں انکار نہیں کر سکتے کہعقل و فہم میں اختلاف ہے بعض ذکی ہیں کہ اپنی ذکا اور قوت عقل کی بدولت جو بات اشارہ سے کہی جائے فوراً سمجھ جائیں اور بعض بلید یعنی کند ایسے ہیں کہ اگر ہزار سختی سے کہا جائے تب بھی نہیں سمجھتے ۔ بعض فطن ہیں کہ جو ان کے دل میں خطور کرتا ہے وہ اکثر صواب پر ہوتا ہے اور بعض مغفل ہیں یعنی جو کچھ منصوبہ کرتے ہیں سبب نافہمی اور کوتاہ عقلی کے اکثر وہ خطا پر ہوتا ہے اور تفاوت عقول انسان دریافت ہوا ہے حضرت رسول اللہﷺ اور ابن سلام رضی اللہ عنہ کے سوال و جواب میں، جس کا ذکر حدیث شریف میں نہایت طول کے ساتھ وارد ہے اور اسی حدیث کے آخر میں صفت عرش کے بیان میں یوں منقول ہے: ’’کہ فرشتوں نے کہا پروردگار سے کہ آیا تو نے کوئی چیز بزرگ پیدا فرمائی ہے عرش سے؟ خدا نے ارشاد فرمایا: عرش سے بزرگ ترعقل کو پیدا کیا ہے، فرشتوں نے کہا: خداوندا عقل کی تعریف اور زیادہ فرماتاکہ ہم بخوبی اسے سمجھیں، حق تعالیٰ نے ارشاد کیا کہ عقل کی تعریف تم دریافت نہ کر سکو گے، کیا تم کو ذرہ ہائے ریت کامکمل علم ہے؟ فرشتوں نے عرض کی: نہیں، بعدازاں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم کو دنیا کی ریت کے ذرات کا بھی علم ہوتا تب بھی تعریف عقل کی کما حقہ تمہارے ذہن میں نہ آتی، پس بنی آدم میں سے بعض ایسے ہیں جن کو عقل ایک حبہ ریت کے برابر میں نے عطا کی ہے اور کسی کو دوحبہ اور کسی کو اس سے زیادہ عقل عطاکی ہے اور اس کی دلالت پر حکایات عجیب و غریب واقع ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor