Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عجائب قدرت۔ 529

عجائب قدرت

(شمارہ 529)

دعوتِ فکر

اب ہم سب مل کر اپنے حال پر غور کریں کہ اپنی نظروں کے سامنے گناہ ہوتے دیکھتے ہیں، نمازیں قضا کی جا رہی ہیں ،روزے کھائے جار ہے ہیں، شرابیں پی جار ہی ہیں، رشوت کے مالوں سے گھر بھرے جار ہے ہیں، طرح طرح کی بے حیائی گھروں میں جگہ پکڑ رہی ہے اور سب کچھ نظروں کے سامنے ہے، پھر کتنے مرد وعورت ہیں جو اسلام کے دعویدار ہیں اور ان چیزوں پر روک ٹوک کرتے ہیں،کھلم کھلا خدائے پاک کی نافرمانیاں ہو رہی ہیں لیکن نہ دل میں ٹیس ہے نہ زبان سے کوئی کلمہ کہنے کے روادار ہیں اور ہاتھ سے روکنے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔

 دوسروں کو نیکیوں پر ڈالنا اور برائیوں سے روکنا تو درکنار خود اپنی زندگی گناہوں سے لت پت کررکھی ہے اور گویا یوں سمجھ رکھا ہے کہ ہم گناہوں ہی کے لیے پیدا ہوئے ہیں، خود بھی گناہ کررہے ہیں اور اولاد کو اور دوسرے ماتحتوں کو نہ صرف گناہوں میں ملوث دیکھتے ہیں بلکہ ان کو خود گناہوں پرڈالتے ہیں، اپنے قول و فعل سے ان کو گناہوں کے کام سکھاتے ہیں اور ان کو گناہوں میں مبتلا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ طور طریق اللہ تعالیٰ کی رحمت کو لانے والے نہیں ہیں بلکہ اللہ کے عذاب کو بلانے والے ہیں ،جب عذاب آتا ہے تو بلبلاتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، تسبیحیں گھماتے ہیں اور ساتھ ہی شکایتیں کرتے پھرتے ہیں کہ دعائیں قبول نہیں ہو رہی ہیں، مصیبت دور نہیں ہوتی۔ دعاء کیسے قبول ہو اور مصیبت کیسے رفع ہو، جبکہ نہ خود گناہ چھوڑتے ہیں نہ دوسروں کو گناہوں سے بچاتے ہیں، گناہوں کی کثرت کی وجہ سے جب مصیبتیں آتی ہیں تو نیک بندوں کی بھی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ، بہت سے لوگ جو اپنے آپ کو نیک سمجھتے ہیں اور دوسرے بھی ان کو نیک جانتے ہیں انہیں اپنی عبادت اور ذکر و درود کا تو خیال ہوتا ہے لیکن دوسروں کو حتی کہ اپنی اولاد کو بھی گناہوں سے نہیں روکتے اور امید رکھتے ہیں کہ مصیبت رفع ہوجائے، بڑے تہجد گزار ہیں لمبے لمبے نوافل پڑھتے ہیں، خانقاہ والے مرشد ہیں لیکن لڑکے خانقاہ ہی میں داڑھی مونڈ رہے ہیں، لڑکیاں بے پردہ ہو کر کالج جا رہی ہیں لیکن ابا جان ہیں کہ اپنی نیکی کے گھمنڈ میں مبتلا ہیں، کبھی حرف غلط کی طرح بھی برائیوں پر روک ٹوک نہیں کرتے ۔

 ایک بستی کو اُلٹنے کا حکم

ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ فلاں فلاں بستی کو اس کے رہنے والوں کے ساتھ اُلٹ دو، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا :اے پروردگار! ان میں آپ کا فلاں بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے کے بقدر بھی آپ کی نافرمانی نہیں کی ( کیا اس کو بھی اس عذاب میں شریک کرلیا جائے) اللہ جلّ شانہٗ کا ارشاد ہوا کہ اس بستی کو اس شخص پر اور باقی تمام رہنے والوں پر اُلٹ دو کیونکہ(یہ شخص خود تو نیکیاں کرتا رہا اور نافرمانی سے بچتا رہا لیکن) اس کے چہرے پر میرے( احکام ) کے بارے میں کبھی کسی وقت شکن( بھی) نہیں پڑی۔(مشکوٰۃ شریف)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی انجام دہی میں کوتاہی کرنے کا وبال کس قدرہے اس حدیث سے ظاہر ہے۔

خوب دل کو حاضر کر کے دعاء کی جائے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: تم قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعاء کرو اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے دل کی کوئی دعا ء قبول نہیں فرماتا جو غافل ہو اور ادھر ادھر کے خیالات میں مشغول ہو۔( مشکوٰۃ المصابیح ص ۱۹۵ بحوالہ ترمذی)

تشریح: اس حدیث مبارک میں دعاء کا ایک بہت ہی ضروری ادب بتایا گیاہے اور وہ یہ ہے کہ دعاء کرتے ہوئے اس کا پختہ یقین رکھنا چاہئے کہ میری دعاء ضرور ضرور قبول ہوگی۔ اس یقین میں ذرا سا بھی ڈھیلاپن نہ ہو اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو دل غافل ہو اور ادھرادھر کے خیالات میں لگا ہو اور زبان سے دعاء نکل رہی ہو، اللہ جلّ شانہٗ اس کی دعاء قبول نہیں فرماتے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor