Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عجائب قدرت۔ 551

عجائب قدرت

(شمارہ 551)

اسد

یعنی شیر، یہ تمام درندوں سے قوت اور دلیری اور بزرگی میں فرد اور دیگر جانداروں کو خوف دلانے والا ہوتا ہے، خدا نے اس کو سر اور گردن کی کلانی اور گول چہرہ گوشۂ دہن کی فراخی اور دانت اور چنگل کی تیزی سینہ کی کشادگی ہاتھ پائوں کی فربہی کمر پتلی آواز بلند عطا کی کہ کسی سے نہ ڈرے اور کوئی حیوان اس سے برابری نہ کر سکے۔ کہتے ہیں دوسرے کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا البتہ اپنا کیا ہواشکار دل اور جگر کھانے کے بعددوسروں کیلئے چھوڑدیتا ہے، رات کے وقت دف کی آواز سے نہایت خوش ہوتا ہے تاریک راتوں میں آگ کی روشنی جدھر دیکھے اس طرف جاتاہے اس وقت نہایت تواضع سے اس کی تندہی فرو ہوجاتی ہے،کہتے ہیں کہ جو کوئی اس کے ساتھ نہایت خواری اور عاجزی سے پیش آئے اس کا دشمن نہیں ہوتاگو کہ کتنا ہی گرسنہ ہو اور جب شکار کھاتا ہے نمک کی خواہش کرتا ہے اور جب بیمار ہوتا ہے تو لنگور کا گوشت کھا کر آرام پاتا ہے لیکن جب تپ اس کو آتی ہے تو بہت کم صحت پاتا ہے اور جب پیکان تیر اس کے جسم میں رہ جاتا ہے تو سعد جو ایک قسم کی گھاس ہوتی ہے اس کے کھانے سے باہر نکل جاتا ہے اور یہ تاثیر فقط شیر کو حاصل ہے اگر کوئی خراش یا زخم پہنچے مکھیاں اس قدر فراہم ہوتی ہیں کہ اس کے مرجانے تک دور نہیں ہوتی ہیں اور طائوس اور خروش سفید سے بھاگتا ہے اور شیر کی شورش سے کل حیوانات بھاگتے ہیں مگر گدھا کہ اس کو بمجرد آواز طاقت رفتار نہیں رہتی ہے۔یہ جانور جب گرسنہ ہوتا ہے تو خاموش رہتا ہے جب تک شکار نہ حاصل کرے تاکہ آواز سے کوئی جانور نہ بھاگ جائے۔ بروقت حمل کے بچہ اس کا ماں کے پیٹ میں اپنے ناخن سے اس کے رحم کو مجروح کرتا ہے اور اس نظرسے جب مادہ اس کی قریب بہ ہلاکت ہوتی ہے تو شیرنر اس کی خوراک کے واسطے سو سمار لاتا ہے تاکہ مادہ اس کے کھانے سے صحیح اور تندرست ہو اور تسہیل ولادت ہو اس حیوان کی مادہ وضع حمل کے وقت زمین تر اور شور ڈھونڈھتی ہے تاکہ چیونٹی سے اس کے بچہ کو آزار نہ پہنچے اور جب بچہ کے پاس سے جاتی ہے تو اپنے پنجوں کے نشان مٹاتی ہے تاکہ کوئی اس کا سراغ نہ پائے، جب شیر واسطے شکار کے نکلتا ہے اس کا بچہ بھی ہمراہ دوڑتا ہے اور جب کوئی آواز سنتا ہے تو بھاگتا ہے پس شیر اس کو اپنے پیٹ کے نیچے کر کے اس کے کانوں میں رعد کی طرح گونجتا ہے تاکہ اس کے دل سے ہر ایک آواز کی ہیبت جاتی رہے۔ کہتے ہیں کہ حیوانات میں شیر کے برابر اور کوئی گندہ دہن نہیں ہوتا اس کی آنکھ تاریکی میں ماند شعلہ کے روشن ہوتی ہے جیسے کہ پلنگ اور گربہ اور مار کی آنکھیں۔ کہتے ہیںکہ شیر بھری ہوئی مشک سے بھاگتا ہے اور حائضہ عورت کا بھی تعرض نہیں کرتا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor