Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

طب نبویﷺ سے علاج ۔ 522

طب نبویﷺ سے علاج

(شمارہ 522)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:’’احد کے دن ایک انصاری آدمی کوپیٹ میں نیزہ لگا تو رسول اللہﷺ نے اس کے لیے دواطباء بلائے جو مدینہ منورہ رہتے تھے اور ان سے فرمایا کہ تم ان کا علاج کرو۔‘‘

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: ان طبیبوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا طب میں کوئی خیر ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:’’ہاں‘‘۔

ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ عہدی نبویﷺ میں ایک شخص بیمار ہوگیا تو آنحضورﷺ نے فرمایا: اس کے لیے طبیب کو بلائو۔ لوگوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ کی مراد معالج سے ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ:’’ہاں‘‘

ان ہی سے مروی ہے کہ ایک مریض کی عیاد ت کے لیے رسول اللہﷺ تشریف لائے تو فرمایا کہ کسی طبیب کو بلا بھیجو!‘‘ ایک کہنے والے نے عرض کیا! یارسول اللہ! یہ بات آپﷺ فرمارہے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ:’’ہاں‘‘ (الحدیث)

یہ احادیث مبارکہ ابو نعیم نے اپنی کتاب ’’الطب النبوی‘‘ میں ذکر کی ہیں۔

حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:’’ ایک آدمی زخمی ہوا تو اس کا خون بہنے لگا تو رسول اللہﷺ نے بنوا نمار کے دوآدمی بلائے اور پوچھا کہ تم میں سے بڑا طبیب کون ہے؟ ایک نے کہا :کیا طب میں کوئی خیر کی چیز ہے؟

آپﷺ نے فرمایا کہ جس ذات نے بیماری اتاری اس نے دوابھی اتاری ہے۔‘‘(رواہ مالک فی المؤطا)

 مولف کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے اس ارشاد گرامی’’تم میں سے بڑا طبیب کون ہے‘‘ سے معلوم ہوا کہ علاج کے لیے حاذق اور ماہر طبیب کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اسی وجہ سے جالینوس کاکہنا ہے کہ جاہل طبیب مریض کے پاس آتا ہے تو وہ ایک بخار میں مبتلا ہوتا ہے جب واپس جاتا ہے تو وہ دوبخاروں میں مبتلاہوتا ہے۔‘‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ علاج معالجہ سے واقفیت نہیں رکھتا۔

اس سے قبل حدیث عائشہ رضی اللہ عنہاگزر چکی ہے کہ رسول اکرمﷺ کے مرض میں اضافہ ہوگیا تو عرب وعجم کے اطباء آتے تھے۔( الحدیث)

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor