Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

طب نبویﷺ سے علاج ۔ 562

طب نبویﷺ سے علاج

(شمارہ 562)

حضرت جذابہ بنت وہب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ’’میںنے ارادہ کر لیا تھا کہ غیلہ سے لوگوں کو منع کردوں، پھر میں نے دیکھا کہ روم اور فارس والے بھی غیلہ کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا( تو میں نے ارادہ چھوڑ دیا)۔‘‘

لوگوں نے آپ ﷺ سے عزل کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا کہ یہ تو خفیہ انداز میںزندہ درگور کرنا ہے اور اس آیت سے یہی مراد ہے:واذاالموء ودۃ سئلت (مسلم)

امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ’’غیلہ‘‘ یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی سے اس حال میں مجامعت کرے کہ وہ بچہ کو دودھ پلاتی ہو۔اغال ولدہ کامعنی ہوا کہ اس نے بچہ کی شیر خوارگی کے زمانہ میں اس کی ماں سے صحبت کی۔بعض کہتے ہیں کہ غیلہ سے مراد ہے کہ مجامعت کرے جب عورت دودھ پلائے اور وہ حاملہ ہو۔

حدیث میں مذکور لفظ’’یذعرہ‘‘ کا معنی ہے کہ اس عمل نے ان کو نیچے گرادیا اور ہلاک کر دیا۔ اس لیے کہ وہ دودھ ردی ہوتا ہے خون حیض کا فضلہ ہوتا ہے، نیز اس لیے کہ جب عورت حاملہ ہوجائے اور دودھ پلانے لگے تو اس کا حیض منقطع ہوجاتا ہے اور اس وقت وہ خون جنین کی غذا بن جاتا ہے اور باقی ماندہ بہت ردی ہوتا ہے جو اس کی چھاتیوں میں پہنچتا ہے اسی طرح رضاعت کے وقت حیض کا سارا خون چھاتی میں مند فع ہوجاتا ہے اور بچہ کی غذا بننے کی خاطردودھ میں بدل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے رسول کریمﷺ نے فرمایا: اور اہل فارس کو اس نے گھوڑے سے نیچے گرادیا۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ اس خراب غذا کی تاثیر قائم رہتی ہے حتی کہ جب وہ بچہ بڑا ہو کر آدمی بن جاتا ہے اور میدان جنگ میں دشمن کا مقابلہ کرتا ہے تو کمزوری دکھاتا ہے۔

 (جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor