Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

طب نبویﷺ سے علاج ۔ 568

طب نبویﷺ سے علاج

(شمارہ 568)

اس حدیث سے عورت کا بھی فن کتابت سیکھنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:’’جب کسی شخص کو کوئی تکلیف ہوتی یا کوئی زخم یا پھوڑا وغیرہ ہوتا توآپﷺ اپنی انگلی مبارک سے یوں زمین پر رکھ کر اسے اُٹھاتے اور یہ دعاء پڑھتے:بسم اللّٰہ تربۃ ارضنا بریقۃ بعضنا یشفٰی بھا سقیمنا باذن ربنا(متفق علیہ)

اس حدیث میں مذکور لفظ’’تربۃ ارضنا‘‘ کا معنی ہے ہماری زمین کی مٹی،یہ اس لیے فرمایا کہ مٹی کی طبیعت ٹھنڈی اور خشک ہے او راس میں رطوبات کو خشک کرنے کی تاثیر ہوتی ہے اور پھوڑے پھنسیوں اور زخموں میں رطوبت کی کثرت ہوتی ہے جو طبیعت کو عمدہ کارکردگی سے روکتی ہے اور جلدی مندمل نہیں ہونے دیتی اور ’’بریقۃ بعضنا ‘‘(ہمارے بعض کے تھوک کے ساتھ) اس کی وجہ یہ ہے کہ جب لعاب کا مٹی میں اضافہ ہوگا تو وہ مجفف ہوجائے گااور جب اسے زخم پھوڑے پر لگایا جائے تو اللہ کے حکم سے شفاء حاصل ہوگی۔

اس قسم کی احادیث بہت زیادہ ہیں۔

باقی رہا مسئلہ قرآن کے ذریعے دم وغیرہ کرنے کا تو اس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت آتی ہے کہ:’’بہترین دواء قرآن ہے‘‘(ترمذی)

نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:وننزل من القرآن ماھوشفاء ورحمۃ للمؤمنین(بنی اسرائیل:۸۲)

’’اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں کہ وہ ایمان والوں کے حق میں تو شفااور رحمت ہے۔‘‘

بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت مبارکہ میں’’من‘‘ تبعیض کے لیے نہیں ہے،مطلب یہ ہوا کہ قرآن ہم اتارتے ہیں جوساراکاسارا باعث شفاء ہے۔یعنی جس طرح یہ قرآن جسمانی امراض کے لیے شفاء ہے اسی طرح ظلالت،جہالت اور شبہات کے لیے باعث شفاء ہے۔چنانچہ قرآن کریم حیران وسرگردان پھرنے والوں کے لیے بھی باعث ہدایت ہے۔ لہٰذا یہ قرآن زوال جہالت کے سبب دلوں کی شفاء ہے اور زوال امراض کی وجہ سے شفاء اجسام ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor