Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

طب نبویﷺ سے علاج ۔ 570

طب نبویﷺ سے علاج

(شمارہ 570)

مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب کسی عورت پر ولادت دشوار ہو تو ایک صاف برتن لے کر اس میں یہ آیات لکھو:

’’کانھم یوم یرون مایوعدون لم یلبثواالا ساعۃ من نھار بلغ فھل یھلک الا القوم الفسقون‘‘( الاحقاف:۳۵)

 ’’لقد کان فی قصصھم عبرۃ لاولی الالباب‘‘(الیوسف:۱۱۱)

پھر دھو کر اس عورت کو اس کا پانی پلادیاجائے اور اس کے پیٹ پر بھی چھڑک دیا جائے۔‘‘

ایک روایت کے مطابق امام احمدرحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ سحر زدہ شخص کا سحر دور کرنا بھی علاج کی ایک قسم ہے اور کسی کا سحر اُتارنا جائز امر ہے، اس لیے کہ جب نبی کریمﷺ پر سحر کیا گیا تھا تو اس کو نکالا گیا اور اُتارا گیا تھا، نیز یہ عمل بمنزلہ علاج کے ہے، ’’سحر‘‘ لغت میں کسی چیز کو اس کی ذات سے پھیرنے کو کہتے ہیں، جیسے کہا جاتا ہے : ماسحرک عن کذایعنی اس نے تجھے اس چیز سے نہیں پھیرا۔ سحربمعنی دھوکہ دینے کے بھی آتے ہیں اور’’ساحر‘‘ اس کلام کو کہتے ہیں جسے ساحر بولتا ہے اور اسے لکھتا ہے تو مسحور کے جسم یادل ودماغ پر اس کا اثر ڈالتا ہے، سحر ایک حقیقت ہے، کسی سے انسان ماراجاتا ہے ،کسی سے بیمار پڑجاتا ہے اور کسی سے انسان اپنی بیوی سے مجامعت نہیں کر پاتا اور کسی سحر سے میاں بیوی کے درمیان تفریق ہو جاتی ہے اور کسی سے محبت اور کسی سے آپس میںبغض و نفرت پیدا ہوتی ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’رسول اللہﷺ کو خیال گزرتا کہ انہوں نے کام کرلیا ہے، حالانکہ آپﷺ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔‘‘

( اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے)

امام احمدرحمہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا گیا کہ بعض اطباء کو خیال ہے کہ انسان کے اندرکوئی چیز اہل ارض میں سے داخل نہیں ہو سکتی؟آپ نے فرمایا:وہ اپنی بات کرتے ہیں۔ جبکہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا:’’شیطان ابن آدم میں یوں گردش کرتا ہے جیسے خون گردش کرتا ہے۔‘‘

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor